الاقرع بن حابس التمیمی اور عُیَیۡنہ بن حصن الفزاری کا شمار مؤلفۃ القلوب میں ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے حنین کی فتح کے دن ان میں سے ہر ایک کو تالیف قلب کے طور پر سو سو اونٹ دیے تھے (البدایہ و النھایہ 7/141) روایات میں آتا ہے کہ یہ اونٹ انھیں آپ نے ان کے قبول اسلام سے پہلے دیا۔
ابن ھمام نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں یہ دونوں صاحبان آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے خلیفہ اول سے ایک زمین طلب کی۔ خلیفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے پیش نظر مطلوبہ زمین انھیں دے دی اور ان کے کہنے پر اس کی ایک تحریر بھی لکھ کر ان کے حوالے کر دی۔
دونوں صاحبان تحریر لے کر باہر نکلے۔ حضرت عمرؓ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ خلیفہ نے فلاں زمین ہمیں دے دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے تحریر ان سے لی اور اس کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا (فمزقہ عمر)حضرت عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی چیز تم کو پہلے دی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ تم لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ لیکن اب اللہ نے اسلام کو عزت و طاقت دے دی ہے اور اس کو تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ تم اسلام پر قائم رہو تو بہت اچھا ہے، ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے۔
دونوں لوٹ کر دوبارہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور قصہ بتا کر کہا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر (الخلیفۃ انت ام عمر)حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو وہی خلیفہ ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس معاملہ میں حضرت عمرؓ کی رائے سے اتفاق کیا۔ اور صحابہ میں سے کسی نے بھی اس پر نکیر نہیں کی (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 9، صفحہ 195-196 )
اس واقعہ میں نہ صرف خلیفہ اول پر تنقید تھی بلکہ بظاہر ان کی توہین بھی تھی۔ مگر یہ واقعہ جب حضرت ابوبکرؓ اور دوسرے صحابہ کے علم میں آیا تو انھوں نے ان ظاہری پہلوؤں کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوں نے صرف یہ سوچا کہ باعتبار حقیقت حضرت عمرؓ کی رائے درست ہے یا غیر درست۔ اور جب محسوس ہوا کہ اصولاً وہ بالکل درست ہے تو سب نے اس کو قبول کر لیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔