حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح نے ایک روز حضرت عثمانؓ سے بحث کی۔ انھوں نے کہا کہ میں تین چیزوں میں آپ سے افضل ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے پوچھا کہ وہ کیا چیزیں ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے جواب دیا۔
اول یہ کہ بیعت رضوان (حدیبیہ) کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ اس وقت غائب تھے۔ دوسرے یہ کہ میں بدر کے غزوہ میں شریک ہوا اور آپ نے اس میں شرکت نہیں کی۔ تیسرے یہ کہ غزوۂ احد کے موقع پر میں ان لوگوں میں تھا جو ثابت قدم رہے اور آپ اس میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ یہ بولے کہ آپ نے سچ کہا (فلم یغضب عثمان ولکنہ قال لہ صدقتَ‘
پھر اپنا عذر بیان کرتے ہوئے حضرت عثمانؓ نے کہا کہ جہاں تک بیعت رضوان کا معاملہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت کے تحت مجھے مکہ بھیجا تھا۔ اور غزوۂ بدر میں جو ہوا وہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی جگہ پر مدینہ میں مقرر فرمایا تھا۔ اور جہاں تک غزوۂ احد میں میری پس پائی کی بات ہے تو اللہ نے مجھے میری اس کوتاہی کے لیے معاف کر دیا (العبقریات الاسلامیہ ، صفحہ 571)
اس واقعہ میں حضرت عثما نؓ پر براہ راست حملہ کیا گیا تھا۔ مذکورہ تینوں باتیں بظاہر ان کی شخصیت کو سخت مجروح اور مشتبہ کر رہی تھیں۔ مگر حضرت عثمانؓ اتنی سخت بات کو سن کر بھی غصہ نہیں ہوئے۔ انھوں نے ٹھنڈے طریقہ سے کہا کہ بطور واقعہ آپ کا کہنا بالکل درست ہے۔ پھر اس اعتراف کے بعد انھوں نے تینوں واقعہ کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بیان کیا۔
تیسرے خلیفۂ راشد کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ انتہائی سخت تنقید کو بھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سنا جائے۔ اپنے آپ کو اشتعال سے بچاتے ہوئے سادہ طور پر اصل معاملہ کی وضاحت کی جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔