Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

خدا کا تخلیقی نقشہ

Urdu · 7 min

دنیا میں ہدایت کا نظام ایمان بالغیب (البقرة،2:3) کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی یہاں تمام حقیقتوں کو غیر مرئی حالت میں رکھ دیا گیا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی فکری قوتوں کو عمل میں لا کر ان پوشیدہ حقیقتوں کو دریافت کرے اور پھر ان کی کامل مطابقت میں اپنی زندگی گزارے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو اپنا بڑا بنائے، حالاں کہ خدا کی بڑائی اس کی آنکھوں کے سامنے موجود نہیں۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے ڈرے ، حالاں کہ خدا کی تعذیبی طاقت دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اسی طرح انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ داعیان حق کا ساتھ دے، مگر داعیان حق ہمیشہ عام انسان کے روپ میں سامنے آتے ہیں، ان کو پہچاننا صرف اس کے لیے ممکن ہوتا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن کی سطح پر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

یہی عام دنیوی چیزوں کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بے شمار مادی امکانات تھے۔ مگر وہ سب زمین کے اندر چھپا کر رکھ دیے گئے۔ ان مادی امکانات کو دریافت کر کے انھیں ایک ترقی یافتہ تمدن کی صورت دینا، یہ انسان کا کام تھا جو موجودہ زمانہ میں بڑے پیمانہ پر انجام دیا گیا ہے۔

اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ فطرت کا طریقہ عین وہی ہے جس کو فن تعلیم میں اکتشافی طریقہ (discovery method) کہا جاتا ہے۔

اس اکتشافی طریقہ کو قابل عمل بنانے کے لیے انسان کو ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن دیا گیا جو امکانی طور پر ہر قسم کی ضروری صلاحیتوں سے بھرا ہوا تھا۔ انسان کا ذہن اس قابل تھا کہ وہ غور و فکر کر کے اشیاء کی حقیقتوں کو جانے۔ ایک طرف وہ اپنے خالق کو پہچانے، اور دوسری طرف دنیا کے اندر چھپی ہوئی مادی نعمتوں کو دریافت کر کے انھیں اپنی تعمیر حیات میں استعمال کرے۔

پیغمبر کی حیثیت اس عمل میں ایک مستند رہ نما کی ہے۔ خدا کا پیغمبر وہ بنیادی اصول دے دیتا ہے جس کی رہ نمائی میں انسان اپنا اکتشافی سفر شروع کرے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے۔ اس طرح جو حقیقت ملتی ہے وہ آدمی کے لیے اس کی ذاتی دریافت ہوتی ہے۔ وہ اس کی پوری شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اس کے لیے ابدی سرمایۂ حیات بن جاتی ہے۔

مگر دنیا کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر انسانیت کے آغاز کے جلد ہی بعد بادشاہت کی صورت میں جبر کا نظام قائم ہو گیا۔ تمام آباد دنیا کچھ بادشاہوں کے زیر قبضہ آ گئی۔ ان بادشاہوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کے لیے کامل جبر کا نظام اختیار کر لیا۔ اس طرح ساری دنیا میں آزادانہ فکر اور آزادانہ اظہار خیال کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ چیز جس کو آزادیٔ اظہار (freedom of speech)کہا جاتا ہے وہ قدیم دنیا میں سرے سے موجود ہی نہ تھی۔

یہی جبر کا نظام ہے جس نے پچھلے زمانوں میں پیغمبروں کی بات کو چلنے نہیں دیا۔ پھر یہی جبر کا نظام ہے جو سائنسی دریافتوں اور ترقیوں میں مسلسل رکاوٹ بنا رہا۔ کیوں کہ کوئی بھی تصور اپنے ارتقاء کے لیے آزادانہ سوچ اور آزادانہ بحث چاہتا ہے۔ قدیم نظام جبر میں اظہار خیال کی آزادی نہ تھی، اس لیے کھلا غور و فکر بھی اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عامہ کے علاوہ یہ خاص کام بھی سونپا گیا کہ وہ دنیا میں قائم شدہ جبر کے نظام کو توڑ دیں۔ اس کے لیے انھیں خصوصی طور پر تمام ضروری مدد فراہم کی گئی۔ چنانچہ آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں ساری دنیا میں یا تو شاہی جبر کے اداروں کو توڑ دیا، یا اس کی بنیادیں اتنی کمزور کر دیں کہ اپنے وقت پر وہ خود ہی گر پڑے۔ اس سلسلہ میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ نے جو جہاد کیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ جبر کے مصنوعی نظام کو توڑ کر آزادیٔ فکر کے فطری نظام کو قائم کر دیا جائے، تاکہ انسان کے لیے ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کا دروازہ کھل جائے۔

اسی نظام جبر کو قرآن میں فتنہ کہا گیا اور یہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کے حاملین سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے (8:39) اس آیت میں دین سے مراد دین شرعی نہیں ہے بلکہ دین فطری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی اسکیم میں خلل ڈالنے والے اِن ظالموں سے جنگ کرو تاکہ فکری جبر کا غیر فطری نظام جو انھوں نے رائج کر رکھا ہے اس کا خاتمہ ہو اور فکری آزادی کی بنیاد پر خدا کا مطلوب نظام دنیا میں قائم ہو سکے۔ مصنوعی حالت ختم ہو کر اصل فطری حالت زمین پر بحال ہو جائے۔ یہ کام اب مکمل طور پر ساری دنیا میں انجام پا چکا ہے۔ اور اس نے انسان کے اوپر ہر قسم کی سعادت کے دروازے کھول دیے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content