← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
اظہار خیال کی آزادی
Urdu · 7 min
اسلام میں انسان کو مکمل فکری آزادی دی گئی ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ہی نے پہلی بار انسانی تاریخ میں یہ انقلاب برپا کیا کہ ہر آدمی کو فکر و خیال کی آزادی ہو۔ اسلام سے پہلے تاریخ کے تمام زمانوں میں جبر کا نظام قائم تھا اور انسان فکری آزادی سے محروم تھا۔ فکری آزادی کوئی سادہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ تمام انسانی ترقیوں کا راز اسی فکری آزادی میں چھپا ہوا ہے۔
فکری آزادی کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس اعلیٰ نیکی کو حاصل کرتا ہے جس کو قرآن میں خوف بالغیب کہا گیا ہے (5:94)۔یعنی خدا کی طرف سے ظاہری دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ کے تحت آزادانہ طور پر خدا کا اعتراف کرنا اور اس سے ڈر کر دنیا میں رہنا۔ جب تک مکمل آزادی کا ماحول نہ ہو کسی کو اس ناقابل بیان لذتِ روحانی کا تجربہ نہیں ہو سکتا جس کو غیب میں خدا سے ڈرنا کہا گیا ہے۔ اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی کو اس اعلیٰ انسانی عمل کا کریڈٹ دیا جا سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آزادیٔ فکر وہ چیز ہے جو آدمی کو منافقت سے بچاتی ہے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ اس کا ذہن لازمی طور پر سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر آزادانہ اظہار رائے پر پابندی لگا دی جائے تو لوگوں کی سوچ تو بند نہیں ہو گی البتہ ان کی سوچ زبان و قلم پر نہیں آئے گی۔ جو ادارہ یا جو قوم یا جو ریاست اظہار خیال کی آزادی پر پابندی لگائے وہ آخر کار منافقوں سے بھر جائے گا۔ ایسے ماحول کے اندر مخلص انسان کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔
اسی طرح فکری آزادی کا براہ راست تعلق تخلیقیت سے ہے۔ جس سماج میں فکر و خیال کی آزادی ہو وہاں تخلیقی انسان جنم لیں گے۔ اور جس سماج میں فکر و خیال کی آزادی پر روک لگا دی جائے وہاں لازمی طور پر ذہنی جمود طاری ہو جائے گا اور نتیجتاً یہ ہو گا کہ ایسے سماج میں تخلیقی ذہن کی پرورش اور اس کا ارتقاء ہمیشہ کے لیے رک جائے گا۔
اظہار اختلاف یا تنقید کے معاملہ میں صحیح مسلک یہ ہے کہ لوگ اس معاملہ میں اپنی غیر ضروری حساسیت کو ختم کر دیں، نہ یہ کہ خود تنقید و اختلاف کے عمل کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے اور یہی فطرت کا تقاضا بھی۔
حدیث میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ: الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 24379)۔ یعنی وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی حق دیا جائے تو وہ اس کو قبول کر لیں۔ یہاں حق سے مراد امر حق ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مومن وہ ہے جس کے اندر اعتراف حق کا مادہ کامل طور پر موجود ہو۔ جب بھی کوئی سچائی اس کے سامنے لائی جائے، جب بھی اس کی کسی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو کوئی بھی احساس اس کے لیے قبول حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس صفت کا کامل درجہ یہ ہے کہ آدمی خود ہی پیشگی طور پر اس انتظار میں رہے کہ کب کوئی بتانے والا اس کو اس قسم کی کوئی بات بتائے اور وہ خوش دلی کے ساتھ فوراً اسے اپنا لے۔ وہ اپنی اصلاح اور اپنی درستگی کا حریص بن جائے۔ یہی مومنانہ کیفیت حضرت عمر فاروقؓ کی زبان سے ان الفاظ میں ظاہر ہوئی کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اس انسان پر رحم کرے جو میرے عیوب کا تحفہ مجھے بھیجے (رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي)مسند الدارمی، حدیث نمبر 675۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف حق ایک عبادت ہے، بلکہ وہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے لیے آدمی کو سب سے بڑی قربانی دینا ہوتا ہے، یہ سب سے بڑی قربانی اس کو سب سے بڑی عبادت بنا دیتی ہے۔ یہ قربانی اپنے وقار کی قربانی ہے۔ یہ اپنی بڑائی کو کھونے کی قربانی ہے۔ یہ حق کے لیے اپنے آپ کو بے قیمت کرنے کی قربانی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ آدمی جنت کی قیمت دے کر جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔
اس عظیم عبادت اور اس عظیم خوش قسمتی کا موقع کسی کو کب ملتا ہے۔ یہ موقع صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ لوگوں کو اظہار خیال کی پوری آزادی ہو۔ جب کسی رکاوٹ کے بغیر ایک آدمی دوسرے آدمی پر تنقید کر سکے۔ جب معاشرہ میں یہ ماحول ہو کہ کہنے والا بے تکلف اپنی بات کو کہے اور سننے والا کھلے طور پر اس کو سنے۔
جس طرح مسجد نماز باجماعت کی ادائیگی کا مقام ہے، اسی طرح اظہار خیال کی آزادی گویا وہ سازگار ماحول ہے جس کے اندر حق کو کہنے اور حق کو قبول کرنے والی عظیم نیکیاں جنم لیتی ہیں۔ اسی طرح کے ماحول میں وہ معاملات پیش آتے ہیں جب کہ ایک شخص کو اعلان حق کا کریڈٹ دیا جائے اور دوسرے شخص کو قبول حق کا انعام۔