← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
تواصی بالحق
Urdu · 6 min
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خسران اور گھاٹے سے صرف وہ لوگ محفوظ رہتے ہیں جو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا کام کریں (103:1-3) اسی طرح قرآن میں خیرامت یا بہتر گروہ کی خاص صفت یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم ہو (3:110)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
یہ تواصی بالحق یا امر بالمعروف کیا ہے، وہ حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ کوئی آدمی جب کوئی نادرست بات دیکھے تو وہ اس کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ طاقت ہو تو ہاتھ سے اور طاقت نہ ہو تو زبان سے۔ تواصی بالحق اسی عمل کا ابتدائی درجہ ہے، اور امر بالمعروف اسی عمل کا اگلا درجہ یا مرحلہ ۔
اس مطلوب شرعی عمل کو کسی سماج میں جاری کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہاں اظہار خیال کی مکمل آزادی ہو۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہو کہ جب بھی وہ کسی خلاف حق بات کو دیکھے تو وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طور پر اس کے بارے میں بول سکے۔
اب یہ ظاہر ہے کہ حق اور ناحق کا اصل معیار قرآن و سنت ہے، نہ کہ کسی شخص کا اپنا خیال۔ اس لیے جب بھی کوئی شخص اس احساس میں مبتلا ہو گا تو وہ سب سے پہلے زبان یا قلم کے ذریعہ اس کا اظہار کرے گا تاکہ اس پر بحث شروع ہو۔ اس طرح بحث و مباحثہ کے بعد یہ ثابت ہو گا کہ کیا چیز درست ہے اور کیا چیز نادرست۔ اس طرح ثابت ہونے کے بعد صاحب اثر افراد کا یہ کام ہو گا کہ وہ اس کو حسب استطاعت عملاً نافذ کریں۔ گویا تواصی بالحق اور امر بالمعروف کی تعلیم کا تقاضا ہے کہ مسلم معاشرہ میں دائمی طور پر اظہار خیال کی آزادی موجود رہے۔ اس قسم کی آزادی کے بغیر یہ شرعی عمل سرے سے اپنی صحیح صورت میں جاری ہی نہیں رہے گا۔
اسلام چاہتا ہے کہ ہر شخص کو کسی روک ٹوک کے بغیر یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ دوسروں کے بارے میں اپنی رائے دے سکے۔ اس عمل کے پیچھے اگر واقعتہً نیک جذبہ کارفرما ہو گا تو اس کا یہ عمل قابل انعام ہو گا۔ اور اگر اس نے کسی برے جذبہ سے یہ کام کیا ہو گا تو وہ خدا کے یہاں قابل سزا قرار پائے گا۔
قرآن میں حضرت مسیح کی زبان سے یہ آیت ہے کہ: وَجَعَلَنِي مُبارَكاً أَيْنَ مَا كُنْتُ (19:31)۔مجاہد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ: مُعَلِّمًا لِلْخَيْرِ (كتاب العلم لأبي خيثمة،اثر نمبر 30)۔یعنی خدا نے مجھ کو خیر کا معلم بنایا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4918)۔یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ کی مانند ہے۔ جس طرح آدمی آئینہ کے سامنے کھڑا ہو تو آئینہ کسی کمی بیشی کے بغیر اس کا اصل چہرہ اسے دکھا دے گا۔ اسی طرح مومن اپنے بھائی کو اس کی کمیوں سے آگاہ کرتا رہتا ہے، بغیر اِس کے کہ وہ اپنے آپ کو اونچا سمجھے اور دوسرے کو نیچا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی بات دوسری حدیث میں اس طرح ہے کہ: فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ (سنن ابن ماجه،حدیث نمبر 238)۔ یعنی بابرکت ہے وہ بندہ جس کو اللہ نے خیر کا دروازہ کھولنے والا اور شر کا دروازہ بند کرنے والا بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی سچا خدا پرست ہو وہ خیر اور شر کے بارے میں انتہائی حساس ہو گا۔ اس کی یہ حساسیت اس کو مجبور کرے گی کہ جب بھی وہ کوئی خلاف حق بات دیکھے تو فوراً اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاہم یہ بات یک طرفہ نہیں ہے۔ خدا پرستی جس طرح آدمی کے اندر اظہار حق کا جذبہ ابھارتی ہے، اسی طرح وہ قبول حق کا جذبہ بھی آخری حد تک اس کے اندر پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا آدمی جس طرح دوسروں کے خلاف تنقید یا اظہار رائے کرتا ہے، وہ خود بھی ہر وقت اس کے لیے تیار رہتا ہے کہ جب بھی اس کے سامنے امر حق پیش کیا جائے وہ فوراً اس کو قبول کر لے۔
حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اوپر تنقید کا حق صرف اسی شخص کو ہے جو اسی شدت کے ساتھ خود اپنا بھی احتساب کرتا ہو۔ دوسروں کو نصیحت کرنا اسی کے لیے جائز ہے جو قلب و ذہن کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کے لیے تیار رہے کہ جب بھی اس کے سامنے حق پیش کیا جائے گا تو انانیت یا وقار کا سوال اس کے لیے حق کی قبولیت میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ وہ کھلے دل کے ساتھ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔
تواصی بالحق یا امر بالمعروف کا کام اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب کہ وہ دوطرفہ ہو۔ اگر وہ یک طرفہ ہو، ایک سنانے والا ہو اور دوسرا صرف سننے والا، تو ایسے ماحول میں کبھی وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جو تواصی بالحق اور امر بالمعروف کے نظام سے مطلوب ہے۔