← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin ki fikr ka ek mutala'a
Urdu · 6 min
مولانا وحید الدین کی فکر کا ایک مطالعہ: خالد محمود، کشمیر، پاکستان۔ غالباً 1990 عیسوی کی بات ہے، جب میں نے مولانا وحید الدین کی کتاب "رازِ حیات" کا مطالعہ کیا، پھر تقریباً 3 سال تک میں بار بار اس کتاب کو پڑھتا رہا، یہاں تک کہ ان کی دیگر کتابیں بھی میں نے حاصل کیں اور سب کا مطالعہ کیا۔ آج میں نے مولانا کی ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں؛ آپ کی کتابیں ایک بار نہیں، بار بار پڑھنے کے لیے ہیں۔ ان کو بار بار پڑھ کر ان سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
آپ کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں: نمبر 1، غیر مسلموں کو دعوت کے ذریعے دائرۂ اسلام میں لانا آپ کی فکر کی بنیاد ہے۔ نمبر 2، آپ کا یہ کہنا ہے کہ غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانا نہ صرف اللہ کا حکم ہے، بلکہ اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے کے بعد ہی ہمیں دنیاوی اور اخروی ترقی ملے گی۔ نمبر 3، غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے مسلمانوں کو اپنے رویّے اور سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ نمبر 4، رویّے میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ ایک طرفہ طور پر اعلیٰ اخلاق کا معاملہ کرنا ہے۔
نمبر 5، سوچ میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمیں پوری خیرخواہی کے ساتھ، دلی طور پر غیر مسلموں سے ہمدردی کرنی ہے۔ نمبر 6، جب ہم اپنے ظاہر و باطن میں غیر مسلموں سے ہمدردی کریں گے تو جوابی طور پر وہ بھی اسلام کے قریب آئیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی حاصل کریں گے۔ نمبر 7، مسلمانوں کو اپنے مذہبی روایتی ڈھانچے سے اوپر اٹھ کر حقیقی اسلام کو دوبارہ دریافت کرنا چاہیے۔ نمبر 8، اسلام کو دوبارہ دریافت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ باپ دادا سے ملے ہوئے دین کو ذاتی طور پر سمجھا جائے، اور پھر ذاتی دریافت کے طور پر پورے یقین کے ساتھ اس کو مانا جائے۔
تو اس طرح ماننے سے ہی ہم صحیح مسلمان بن سکتے ہیں، اور دوسروں کو اس کا حقیقی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ نمبر 9، مولانا کے نزدیک تلوار کے ذریعے کسی کو فتح کرنا جہاد کی ایک معمولی شکل ہے، جبکہ دلیل کے ذریعے کسی کو قائل کرنا جہاد کی سب سے بڑی اور عظیم شکل ہے۔ نمبر 10، مسلمانوں کے پاس سب سے بڑی دلیل قرآن پاک ہے، اور خود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے جہاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔ نمبر 11، ہر زمانے کی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔
پرانے ادوار میں تلوار کے زور پر اپنی بات منوائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی اپنے دفاع میں تلوار اٹھانی پڑی۔ لیکن اسلام اس دور میں بھی قرآن پاک کے ذریعے ہی پھیلا۔ نمبر 12، موجودہ دور تو ہے ہی دلائل کا دور، اس لیے آج بھی اسلام قرآن پاک کو بطور دلیل سامنے رکھ کر ہی پھیلے گا۔ نمبر 13، قرآن کو دلیل بنانے کے لیے اس کو سمجھنا پڑے گا، اور اس کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔
نمبر 14، اور خود مولانا نے کیا شاندار محنت کی: 25 سال کی عمر تک مدرسے میں پڑھتے رہے، اور پھر 25 سال تک ذاتی مطالعے کے ذریعے انگریزی زبان سمیت جدید علوم سے آشنا ہوتے رہے۔ نمبر 15، 50 سال کی عظیم الشان محنت کے بعد آپ نے دردِ دل سے اپنے جذبات اور خیالات ساری دنیا تک پہنچائے۔ دردِ دل سے نکلی ہوئی اس آواز نے قلبِ سلیم والوں کو بہت متاثر کیا۔ مولانا کے خیالات اور جذبات پر کچھ لوگ سیاسی اور مذہبی حوالے سے تنقید کرتے ہیں، لیکن ان کی تنقید میں وزن نہیں ہے، کیونکہ ان کی تنقید میں دلیل نہیں ہے، دردِ دل نہیں ہے، 50 سال کی عظیم الشان محنت نہیں ہے۔
کسی پر صرف اس لیے تنقید نہیں کرنی چاہیے کہ اس کی فکر ہماری روایتی سوچ کے مطابق نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ فکرِ دلائل مطابق ہے یا نہیں۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ فکرِ دلائل مطابق ہے یا نہیں۔ کسی پر صرف اس لیے تنقید نہیں کرنی چاہیے کہ اس کی فکر ہماری روایتی سوچ کے مطابق نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ فکرِ دلائل کے مطابق ہے یا نہیں۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 207۔