کل نفس ذائقۃ الموت۔ آج مولانا نے رختِ سفر باندھا، کل ہماری باری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مولانا انسانیت کو کیا دے کر گئے، اور جس دن ہم یہاں سے جائیں گے، ہم کیا دے کر جائیں گے۔ میں یہ عہد بھی کرتا ہوں کہ میں مولانا کے مشن کو جاری رکھوں گا، اور اپنے اللہ کے حضور دست بدعوا ہوں کہ اللہ میرے اس عزم کو زندگی کے آخری سانس تک ایسے جواں رکھ جیسے مولانا کے عزم جواں تھے۔
اللہ میرے عہد کو تقویت عطا فرما، کیونکہ تیری مدد کے بغیر کسی عزم پر قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔ محمد فاروق، لاہور۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 208۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.