Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Bade Nana se myne kya Seekha

Urdu · 6 min

بڑے نانا سے میں نے کیا سیکھا؟ مسترب خان، فیض آباد۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب میرے نانا کے بڑے بھائی تھے۔ میرے نانا تین بھائی تھے، ان میں مولانا دوسرے نمبر پر تھے اور میرے نانا تیسرے نمبر پر۔

تفصیل کے لیے دیکھیے الرسالہ، مئی 2012۔ مولانا سے میرا شعوری تعلق اس وقت شروع ہوا جب مجھے دہلی میں 1 مہینہ رہنے کا موقع ملا۔ اس وقت میں ٹی نگر تھی۔ اس دوران روزانہ میں مولانا سے ملتی رہی۔

وہ 1 مہینہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا، اور وہ میری سب سے چیریشڈ میموری ہے۔ میں اپنے آپ کو بالکل نتھنگ سمجھتی تھی، مگر مولانا نے مجھے موٹیویٹ کیا اور مجھے یہ احساس دلایا کہ میں بھی کچھ کر سکتی ہوں۔ اس دوران مولانا نے میری زندگی میں خدا کا احساس بھر دیا۔ 1 مہینہ گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مستقبل میں مجھے اس خدائی مشن کا حصہ بننا ہے۔

اللہ نے نانا کے ذریعے میری اپ برنگنگ کروائی، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔ نانا کے ذریعے مجھے دنیا کی لَیف آف ڈیزائر سے دوری ہوئی اور خدا کو پانے کا ڈیزائر بڑھتا گیا۔ انہوں نے میرے اندر بہت کم عمر میں ہی گاڈ اورینٹڈ زندگی گزارنے کا بیج ڈال دیا تھا۔ ان کے ذریعے میں نے انفارمل ایجوکیشن پائی جو سب سے زیادہ امپورٹنٹ ہے۔

مگر افسوس کہ لوگ اس پر فوکس نہیں کرتے ہیں۔ انسان فارمل ایجوکیشن میں کتنی ہی ڈگری حاصل کر لیتا ہے، مگر میں نے یہ جانا کہ انفارمل ایجوکیشن سے ہی انسان اعلیٰ انسان بن سکتا ہے۔ مولانا سے جو کچھ میں نے سیکھا، ان میں سے چند باتیں یہ ہیں: نمبر 1، ہر چیز کو خدا سے کنیکٹ کرنا خدا سے قریب کرتا ہے۔ ہر سچویشن کو مینج کرنے میں ہیلپ کرتا ہے اور ہمیں رائٹ پاتھ پر رکھتا ہے۔

نمبر 2، لوگ دوسروں کی غلطیوں کو پوائنٹ آؤٹ کرتے ہیں۔ میں نے مولانا سے سیکھا کہ اپنی غلطیوں کو ڈھونڈو۔ نمبر 3، کسی بھی سچویشن میں نیگیٹو نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کو پازیٹولی، کریئیٹولی مینج کرنا ہے۔ نمبر 4، صرف ریچول کر کے خدا سے گہرا تعلق پیدا نہیں ہوتا، بلکہ تدبر و تفکر کے ذریعے خدا سے حقیقی قربت حاصل کی جا سکتی ہے۔

نمبر 5، لوگ سیلف انٹرسٹ کے لیے دنیا میں کام کرتے ہیں، مگر نانا نے ہم لوگوں کو خدا کے لیے کام کرنے کا موقع دیا۔ مولانا نے بتایا کہ خدا کا کام سب سے بڑا ہے۔ اس سے بڑا کوئی کام نہیں۔ اس کام سے ہمارا ڈویلپمنٹ ہوگا اور آخرت میں ہمیں نجات ملے گی۔

یہ چند لرننگز تھیں جو میں نے شیئر کیں۔ مگر جب ہم مولانا کی بکس کو پڑھیں تو سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مولانا کی لیکچرز، مولانا کی ریٹنگز اور لیکچرز ہماری فطرت کی آواز ہیں۔ خدا کے بعد ماں باپ کا حق ہے، یہ میں نے جانا ہے۔ مگر میں نے یہ ریئلائز کیا ہے کہ ماں باپ وہ اصل ماں باپ ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کو خدا سے کنیکٹ کر دیں، نہ کہ دنیا سے جوڑ دیں۔

لوگ اپنے بچوں کو مٹیریل ورلڈ سے جوڑتے ہیں۔ مولانا نے مجھے اسپرچول گاڈ، اسپرچول ورلڈ سے جوڑا ہے۔ مولانا صاحب نے صرف مجھے نہیں، ساری دنیا کو اپنی فیملی ممبر کی طرح ٹریٹ کیا ہے۔ انہوں نے ہمیں اتنا کچھ دے دیا ہے جو دنیا کی تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔

میری دعا ہے کہ میں بھی نانا کی طرح سارے عالم کے لیے ویل وشر بن سکوں۔ میرے لیے مولانا خدا کی ایک عظیم بلیسنگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو مولانا کے ساتھ جنت میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کتاب داعی اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.