← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Tehreek Al Risalah ek ta'arruf
Urdu · 20 min
تحریک الرسالہ التعارف: پروفیسر ظہیرالدین خواجہ، رائے چور، کرناٹک۔ مولانا وحید الدین خاں، بلا مبالغہ، بیسویں صدی کے بڑے عالمِ دین اور مفکرِ اسلام تھے؛ اہلِ علم اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ آپ کی وفات عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم سانحے سے کم نہیں۔ مولانا کی متعین فکری رجحان کا اظہار ویسے تو ان کی کتاب "خدا کا مطلوب انسان" سے ہو چکا تھا، مگر 1976 عیسوی میں الرسالے کے اجرا کے بعد مولانا کی فکر "تحریک الرسالے" کے نام سے موسوم ہو گئی؛ ایک منفرد تحریک جس کی نظیر دور دور تک نظر نہیں آتی۔
ایسی تحریک جس نے ایک طرف دینِ خداوندی کو انسانی اضافوں سے پاک کر کے اس کی اصل روح اور اصل چہرے کو بے آمیز شکل میں ویسا ہی پیش کرنے کی کوشش کی، جیسا کہ وہ قرآن و حدیث میں موجود ہے، اور دوسری طرف بے شمار نفوس کو نہ صرف معرفت کی روشنی سے منور کیا بلکہ زمانی بصیرت اور عصر حاضر کا شعور بھی عطا کیا۔ تقریباً نصف صدی پر محیط تحریک الرسالے کے مکمل علمی و فکری جہاد کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون کا مقصود نہیں ہے۔ یہاں تحریک الرسالے کے مختلف ادوار کا اجمالی تعارف پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ قاری کو الرسالے کی تحریریں قابلِ فہم ہو سکیں۔ راقم الحروف کے خیال کے مطابق الرسالے کے اصل بنیادی موضوعات ابتدا سے معرفت اور دعوت اور آخرت ہی رہے ہیں، مگر اپنے مضامین کے لحاظ سے اس تحریک کو درج ذیل تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1) معرفتِ رب کا دور: سن 1976 عیسوی سے لے کر 1986 عیسوی تک۔
2) معرفتِ زمانے کا دور: سن 1986 عیسوی سے لے کر 1996 عیسوی تک۔ 3) معرفتِ دعوت کا دور: سن 1996 عیسوی سے لے کر 2021 عیسوی تک۔ معرفتِ رب کا دور: اس دور میں الرسالے کے صفحات پر عظمتِ خداوندی کے مضامین کا غلبہ رہا۔ اس دور میں خدا کی کبریائی، خدا کے جلال و جمال، کلماتِ اللہ اور اعلیٰ اللہ کا ایسا لافانی نغمہ الرسالے کے صفحات سے بلند ہوا کہ ایسا لگتا تھا کہ دینِ فطرت کا کائناتی اظہار ہو رہا ہے، گویا کہ فطرت ہم کلامی کر رہی ہے۔
ملاحظہ ہو: خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے۔ کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا دیتی ہے۔ وہ ایک ناقابلِ بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے۔ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی کرنوں میں خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا۔
ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمسِ ربانی کا تجربہ ہوگا۔ وہ پھول کی خوشبو میں خدا کی مہک کو پائے گا۔ ایمان ایک زلزلہ ہے جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے۔ ایمان ایک سیلاب ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے سینے میں بہہ پڑتا ہے۔
کتاب: اللہ اکبر۔ اس دور میں مولانا کے قلم سے ایسے ربانی کلمات نکلے جنہیں پوری تاریخِ بشری میں انسانی زبان سے نکلے ہوئے بہترین ربانی کلمات کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا اور توحید نہ صرف مولانا کا پسندیدہ موضوع تھا، بلکہ ہمیشہ مولانا پر "العظمت للہ" کی نفسیات کا غلبہ رہتا تھا۔ "اللہ اکبر" اس دور کی نمائندہ کتاب ہے، اور یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں قرآن کے بعد خالص خدا کی عظمت کے مضامین پر مشتمل اولین کتاب ہے۔
اس دور کا پیغام و خصوصیات: اس دور میں مولانا کا موقف یہ تھا کہ خدا کی عظمت اور خدا کی قدرت کا اتنا چرچا کیا جائے کہ لوگ دریافت کے سطح پر خدا اور دین کو پانے والے بن جائیں، کیونکہ اصحابِ رسول نے دین کو خدا کی دریافت کی سطح پر پایا تھا۔ اس دور میں: 1) الرسالہ برصغیر میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا دینی پرچہ بن گیا تھا۔ 2) مولانا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کچھ حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا ہو گئی۔ 3) مولانا کے خطابات میں جدید تعلیم یافتہ اور دینی مدارس کے طلبہ و فارغین کا ایک ہجوم شریک ہوتا تھا۔
شاید یہ بھیڑ اس لیے جمع ہوتی تھی کہ مولانا عظمتِ خدا کے ساتھ ساتھ عظمتِ رسول، عظمتِ اسلام، عظمتِ صحابہ، عظمتِ مومن اور اسلام دورِ جدید کا خالق جیسے مسلمانوں کے پسندیدہ موضوعات پر بھی بات کرتے تھے۔ شاید انہیں مولانا کی تحریروں میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی جھلکیاں نظر آتی تھیں، اور زوال یافتہ قوموں کے لیے ایسے موضوعات میں زیادہ کشش ہوتی ہے۔ دوسرا دور: معرفتِ زمانہ: 1986 عیسوی سے 1996 عیسوی تک امت مسلمہ کے لیے ایک ہنگامی دور ہے۔ اس دور میں امت مسلمہ دنیا کے کئی ممالک میں بے شمار مسائل میں ایسا گھرتی چلی گئی کہ آج تک ان سے نکلنا نصیب نہ ہو سکا۔
ان مسائل کے پیدا ہونے کے دو بنیادی سبب تھے: ایک، دین کی غلط تعبیر کا عوام میں سرایت کر جانا؛ اور دوسرے، بصیرتِ زمانے کا مکمل فقدان۔ عالمی سطح پر فلسطین سے لے کر عراق، افغانستان، کشمیر اور بوسنیا وغیرہ تک، اور ادھر ہندوستان کی سطح پر شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں جو ہنگامہ خیز تحریک چلائی گئی، اس نے بابری مسجد کے سوئے ہوئے مسئلے کو نئی زندگی بخشی۔ اور مسلم قیادت نے مسلمانانِ ہند کے مستقبل کو گویا بابری مسجد پر بھینٹ چڑھا دیا۔ اس احمقانہ سیاست کا حاصل آج یہ ہوا کہ سی اے اے اور این آر سی جیسے سنگین مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں مولانا ملت کی بربادی کا تماشہ دیکھ کر تڑپ اٹھے، اور قرآن و سنت اور زمانی بصیرت کی روشنی میں مسلسل مسلمانوں کی مثبت رہنمائی فرماتے رہے۔ ملت کے عالمی مسائل سے لے کر مقامی مسائل تک ہر موضوع پر لکھا، قدم قدم پر رہنمائی کی، اور پیشگی متنبہ فرماتے رہے کہ جس راستے پر ملت کو اس کے بیریش و بارش رہنما لے جا رہے ہیں، وہ بربادی کا راستہ ہے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ قدیم قبائلی دور کی سوچ اور پدرم سلطان بود کی نفسیات سے نکل کر جدید زمانی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں اپنے لائحہ عمل کو طے کرنے کی ضرورت ہے۔ بابری مسجد کے انہدام سے پہلے بھی اس مسئلے کو باہمی گفت و شنید سے حل کرانے کی کوشش کی، اور انہدام کے بعد قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا کر تین نکاتی فارمولا بھی پیش کیا، جس کو روزنامہ انقلاب ممبئی اور روزنامہ مڈ ڈے کے سروے کے مطابق 63% مسلم اور 69% غیر مسلم عوام نے منظور بھی کیا تھا۔
مگر ملت کے نام نہاد قائدین نے نہ مولانا کی سنی نہ عوام کی سنی، اور بدستور اپنی لایعنی سیاست میں لگے رہے۔ ایک صاحب نے اپنے حالیہ مضمون میں یوں لکھا کہ امت نے مولانا کو ریجیکٹ کر دیا، حالانکہ اوپر کا سروے بتا رہا ہے کہ امت نے مولانا کو ریجیکٹ نہیں کیا، بلکہ اپنی نااہلی اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسا لکھا جا رہا ہے۔ حدیثِ رسول میں جس فراست اور زمانی بصیرت کو مومنانہ صفت بتایا گیا ہے، اس نعمت سے وافر حصہ اللہ نے مولانا کو عطا کیا تھا۔ چنانچہ تعمیرِ ملت کے لیے پرحکمت مضامین پر مشتمل مولانا نے جو مثبت کتابیں لکھیں، وہ اردو زبان میں لکھی گئی شاہکار کتابیں سمجھی جاتی ہیں، جیسے "رازِ حیات"، "رہنمائے حیات"، "تعمیرِ حیات"، "کتابِ زندگی"، "روشن مستقبل" اور "راہیں بند نہیں" وغیرہ۔
ان کتابوں سے انفرادی سطح پر تو مسلمانوں نے خوب استفادہ کیا، مگر اجتماعی مسائل کو حل کرنے میں وہ اسی سنجیدگی کا ثبوت نہ دے سکے۔ اسی لیے اجتماعی ملی مسائل کا حل بھی قرآن و سنت کے ابدی اصولوں کی روشنی میں مولانا نے اپنی درج ذیل کتابوں میں پیش کر کے ملت کی مستقل رہنمائی کا سامان بھی کر دیا، جیسے "ہندوستانی مسلمان"، "قیادت نامہ"، "تصویرِ ملت"، "خلیج ڈائری"، "صبح کشمیر"، "کشمیر میں امن" وغیرہ۔ اس دور کا پیغام و خصوصیات: ملی مسائل پر مولانا کا موقف شروع ہی سے بالکل واضح رہا، مگر بدقسمتی کہیے کہ کسی نے اس کو سمجھنے کی ذرا بھی زحمت نہ کی۔ ورنہ مسلمانانِ ہند کی تاریخ بربادی کے بجائے تعمیرِ نو کی تاریخ ہوتی۔
مولانا کے نزدیک قرآن و سنت میں جس طرح ذکر و عبادت کے احکام موجود ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے اجتماعی امور کی رہنمائی بھی موجود ہے۔ اسی کی روشنی میں ان کو حل کیا جا سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ اس دور میں: 1) الرسالے کی اشاعت بہت کم ہو گئی، مگر مولانا نے اس کی پرواہ نہ کی۔ یہ واقعہ مولانا کی بے لوث ملی خیرخواہی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
2) مولانا کو بدنام کرنے کا لوگوں کو بہترین موقع مل گیا۔ چنانچہ ملت کے نادان دوستوں نے اپنی سادہ لوہی سے طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگا کر مولانا کو خوب بدنام کیا، اور عوام کو مولانا سے بدزن کرنے کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اس کی وجہ سے ملت کو تو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ عند اللہ وہ ان الزامات کو کیسے ثابت کر پاتے ہیں۔ 3) مولانا کے گرد ہر طرح کے لوگوں کی جو بھیڑ اکٹھا ہو گئی تھی، وہ غبار کی طرح چھٹ گئی۔
اس دور کو تحریک الرسالے کا سب سے مشکل ترین دور سمجھا جاتا ہے، مگر میرے نزدیک یہی دور الرسالہ تحریک کی مضبوطی اور تقویت کا اصل دور ہے۔ اس لیے کہ اس دور میں جو بھیڑ جمع تھی، وہ تو چھٹ گئی، اور جنہوں نے "الا وجہ البصیرہ" اس مشن کو اختیار کیا تھا، وہی لوگ جمے رہے اور مولانا کے مستقل ساتھی بنے۔ تیسرا دور: معرفتِ دعوت۔ یہ دور 1996 عیسوی سے لے کر 2021 عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔
اس دور کو علامتی طور پر معرفتِ دعوت کا دور کہہ سکتے ہیں۔ مولانا کا اصل مشن ہی دعوتِ الہیٰ رہا ہے، بلکہ مولانا کی فکر کو اگر کوئی ایک نام دینا ہو تو اسے دین کی دعوتی آئیڈیالوجی کہہ سکتے ہیں۔ مولانا نے بہت صحیح لکھا ہے کہ اس امت کے لیے اگر کوئی کامیاب اقدامی عمل ہے تو وہ دعوتِ الہیٰ کا عمل ہے۔ دعوت شاہ کلید ہے، دعوت ہر کامیابی کا سرا ہے، دعوت تکمیلِ ایمان و معرفت بھی ہے۔
چنانچہ مولانا لکھتے ہیں: "ایمان جب اپنی آخری انتہا کو پہنچتا ہے تو وہ دعوت بن جاتا ہے۔ " دعوت دوسرے لفظوں میں کائنات کے غیر ملفوظ نغمے کو الفاظ کی صورت دینا ہے۔ داعی خدا کی خاموش نشریات کو باآواز اعلان میں منتقل کرتا ہے۔ داعی خدا کی خاموش نشریات کو باآواز اعلان میں منتقل کرتا ہے، وہ خدائی پیغام کو سن کر اسے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔
اللہ اکبر، صفحہ 35۔ چنانچہ اس کام کے لیے ایک طرف عصری اسلوب میں دعوتی لٹریچر تیار کیا، دوسری طرف دعوتی ٹیم کو تیار کرتے رہے۔ دعوت کے ہر پہلو کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ دنیا کو دارالدعویٰ قرار دیا، داعی اور مدعو کے تعلق کی نزاکتوں کو سمجھایا، آدابِ دعوت و اسلوبِ دعوت سے روشناس کرایا، جدید دور میں پیدا ہونے والے دعوتی امکانات اور اس کی موافقت میں جو علمی تحقیقات تھیں، ان کو قابلِ فہم بنایا۔
الغرض، دعوتی ضرورت کے ہر نکتے کی مکمل تفہیم و تبیین کی، اور اس راہ کو اپنانے کے لیے بطور تشجیح کہا کہ اصحابِ رسول وہ لوگ تھے جو اپنی پچھلی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا خلاصہ تھے۔ انہوں نے خدائی مشن اور خدا کے منصوبۂ تخلیق کو سمجھا، اور رسول اللہ کے ساتھ مل کر اس مشن کو تکمیل تک پہنچایا۔ بالکل اسی طرح آج بھی خدا نے پچھلے 500 سالہ عمل کے ذریعے دوبارہ وہ سب موافق دعوتی امکانات و مواقع پیدا کر دیے ہیں، جن کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ دین کا فکری اظہار کر کے تاریخ کو دہرایا جا سکتا ہے۔ گویا خدا کے فرشتے پکار رہے ہیں: "من انصار اللہ؟
" اور زمین و آسمان کو انتظار ہے کچھ خدا کے ایسے بندوں کا، نہ کہ بھیڑ کا۔ جو ایک طرف اس خدائی پلاننگ اور جدید دعوتی امکانات کا گہرا ادراک رکھتے ہوں، اور دوسری طرف ان کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ وہ فرشتوں کی پکار کو سن کر زبان حال سے "نحن انصار اللہ" کی تصویر بن جائیں، اور اصحابِ رسول کی طرح اپنے آپ کو اس خدائی مشن میں لگا کر اخوانِ رسول کی فہرست میں اپنا نام شامل کروا سکیں۔ اس دور کی نمائندہ کتابیں یہ ہیں: "دعوتِ اسلام"، "دعوتِ حق"، "دورِ دعوت"، "مضامینِ اسلام"، "کتابِ معرفت"، "اظہارِ دین" وغیرہ۔ اس دور کا پیغام و خصوصیات: قرآن کے مستند و معیاری تراجم ملکی و عالمی زبانوں میں شائع کرنا، اور حدیثِ رسول میں کی گئی ادخالِ کلمے کی پیشنگوئی کے مطابق تمام انسانوں تک قرآن کو پہنچانا۔
اس دور میں: 2001 عیسوی میں سی پی ایس انٹرنیشنل کو قائم کیا گیا۔ 2010 عیسوی میں القرآن مشن کی شروعات کی گئی۔ گڈوڈ کے تحت اب تک 30 سے زیادہ ملکی اور بین الاقوامی زبانوں میں تراجمِ قرآن کی اعلیٰ معیار پر اشاعت ہو چکی ہے۔ ملک اور بیرونی ممالک میں بڑے پیمانے پر قرآن ڈسٹریبیوشن کا کام جاری ہے۔
دوسرے اور تیسرے دور میں تحریک الرسالے سے جڑنے والے اللہ کے مخلص بندوں پر مشتمل ایک مضبوط سی پی ایس کی ٹیم وجود میں آ چکی ہے، اور ان شاء اللہ یہی لوگ اللہ کی نصرت و توفیق سے اس مشن کو تکمیل تک لے جائیں گے۔ 30 مئی 2021: کتاب دعوتِ دین، کتاب داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ 201۔