بابا چلے گئے۔ کل رات سے دنیا بھر میں موجود ہم تمام دوستوں پر ایک رنج و الم کی کیفیت طاری ہے۔ ہم میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ خود کو دلاسہ دیں یا ایک دوسرے کے غمخوار بنیں۔ بابا ہمارے لیے کیا کچھ چھوڑ گئے ہیں؟
ان کی علمی خدمات کیا ہیں؟ یہ کوئی ایک دن کا موضوع تو ہے نہیں کہ ابھی کے ابھی سارا قصہ لکھ دیا جائے۔ دنیا بھر میں موجود سبھی دوستوں نے لکھنے کا آغاز کیا ہے، اور یہ نہ ختم ہونے والی داستان بابا کے علمی کام کو ہر ایک تک پہنچانے کی صورت اب جاری و ساری رہے گی، ان شاء اللہ۔ بابا مدح سرائی سے منع کر گئے ہیں، لیکن بابا سچ تو ہم میں سے ہر ایک لکھے گا۔
یہ سچ ہے، بابا کہ آپ نے آخرت کی یاد دہانی کرانے، تزکیہ، اور خدا کی معرفت کی راہ دکھانے میں اپنی تمام عمر لگا دی۔ جبھی تو یہ آخری بات کس سرشاری میں کہہ گئے کہ میں بہت جلد اللہ تعالیٰ کا خوشی اور آنسوؤں سے استقبال کرنے والا ہوں۔ ڈاکٹر اشفاق کراچی۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 200۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.