Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan meri nazar me

Urdu · 8 min

مولانا وحید الدین خان، میری نظر میں ناصر منصور۔ قریب 2 ہفتوں سے مرحوم کی صحت مسلسل گرتی جا رہی تھی، اور 21 اپریل 2021 کو جانِ عزیز کو لبیک کہہ گئے۔ مرحوم کا میں نے ظاہری طور پر دیدار نہیں کیا تھا، لیکن ملاقات کی جو خواہش تھی وہ پوری نہ ہو سکی۔ وفاتِ باحسرت کی خبر سن کر، یقین جانو، میں ششدر اور خوف زدہ ہو گیا کہ کیا واقعی مولانا اللہ کو پیارے ہو گئے؟

جن کی کتابوں کا مطالعہ میں 10 سالوں سے بلا فصل کرتا آ رہا ہوں، اور یہ کہ ان کی وفات کے وقت بھی انہی کی کتاب "سفرِ حیات" کا مطالعہ جاری تھا، کتنی حیرت انگیز اور جبری علام ہے موت، بغیر کسی رعایت، کام تمام کرتی ہے موت۔ کتنی حیرت انگیز اور جبری علام ہے موت، بغیر کسی رعایت، کام تمام کرتی ہے موت۔ مرحوم کی کتابوں کے مطالعہ کرنے سے پہلے علم کی دنیا میں میری حیثیت ایک ادنیٰ سے طالبِ علم کی بھی نہ تھی۔ آج دو حرف لکھنے کی صلاحیت اور اس کی تحریک، مولانا مرحوم کی بالواسطہ دین ہے۔

کچھ چند جزئی مسائل کے اختلاف کے باوجود میری نظر ہمیشہ خان صاحب کے بیشتر مثبت اور اہلِ سنت کے موافق مسائل پر جاتی رہی۔ اس سے ہوا یہ کہ میرے ذہن نے منفی سوچ کو مثبت میں تبدیل کرنے کا آرٹ سیکھا، جو میری ذاتی زندگی میں خوب نمایاں ہے، اور یہی روش تمام مکاتبِ فکر کے مطالعے میں رہی۔ بہر کیف، مولانا وحید الدین خان مرحوم ایک بلند مرتبت کے حامل، متعدد خصوصیات کے پیکر تھے۔ عالمِ اسلام کے ایک عظیم مفکر ہونے کے ساتھ ہی ایک عمدہ آئیڈیالوجسٹ، سائنٹیفک تھنکر، اور دعوتی میدان کے ایک داعی تھے، جس نے اپنے آخری وقت تک یہ سلسلہ نہ تھمنے دیا۔

مولانا مرحوم مختلف مکاتبِ فکر کے یہاں متنازعہ شخصیت کہلاتے ہیں۔ چند تفردات کی وجہ سے بعض علماء ان کی تنقید میں کئی کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں، اور کئی لوگوں نے بدترین قسم کی تنقیص بھی کی، جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ بعض حضرات نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ کا مسیح مہدی ہونے کا دعویٰ ہے، مگر انہوں نے اپنی بات کسی ٹھوس دلیل کے بغیر کہی۔ یہ ایک بدترین قسم کا الزام ہے۔

اسی طرح کا الزام مولانا زکریا کاندہلوی تبلیغی جماعت کے بانی کی طرف سے سید مودودی پر بھی لگایا گیا تھا۔ کسی پر ایمان و عقیدے کے اعتبار سے الزام لگانے کے لیے براہِ راست دلائل و برہان ہونے چاہییں، نہ کہ بالواسطہ استنباط۔ اور بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ مہدی کو کوئی فرد نہیں گردانتے تھے، بلکہ آپ کا رخ ایک آئیڈیالوجی کی طرف تھا۔ اگرچہ یہاں تفصیلی بحث ممکن نہیں ہے، مختصراً یہ عرض ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مرحوم کا نظریہ پہلے یہی ہو، بعد میں رجوع کر لیا ہو، جیسا کہ بعد میں شائع ہونے والی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر 2014 کی کتاب "اظہارِ دین"، صفحہ نمبر 245، یوں رقم طراز ہیں: "اصحابِ رسول نے جس دورِ تاریخ کا آغاز کیا تھا، تقریباً ڈیڑھ ہزار سال میں وہ اپنے نقطۂ کمال پر پہنچ چکا ہے۔ اب دوبارہ اس نئی نسل سے ایک فرد اٹھے گا جس کو حدیث میں المہدی کا نام دیا گیا ہے۔ " اسی طرح کا ایک اور الزام، جو مسیحی ماڈل کے نام سے مشہور مضمون ہے، کہ آپ نے جون 2007 کے الرسالے میں کہا تھا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسوہ مطلوب ہے، کا پروپیگنڈا چلایا گیا۔ بظاہر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے کی نفی ہوتی ہے، حتیٰ کہ اس کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔

جولائی 2010 میں خان صاحب نے اس الزام کا ایک سوال کے جواب میں یہ دیا تھا، اس کا اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ سوال: ماہنامہ الرسالہ جون 2007 کے شمارے میں "مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی" کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون نگاہ سے گزرا۔ اس سلسلے میں دو سوال پیشِ خدمت ہیں: ایک یہ کہ اس تعبیر کے استعمال کرنے کی کیا حکمت پیش آئی؟ صفحہ نمبر 38۔

جواب: آپ نے غالباً اصل مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ آپ کو اس قسم کے اشکال پیش نہ آتے۔ اگر آپ مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پر کھل جائے گا کہ مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی کا مطلب، دوسرے لفظوں میں مکی ماڈل کی آمدِ ثانی ہے۔ مذکورہ مضمون میں جس چیز کو مسیحی ماڈل کہا گیا ہے، وہ خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پوری طرح موجود ہے۔ مکی دور میں آپ نے خود اسی اصول کے مطابق عمل فرمایا ہے۔

مضمون میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس تصور کو زیادہ ممیز کرنے کے لیے اس کو مسیحی ماڈل کا نام دے دیا گیا ہے، تاکہ وہ جدید ذہن کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہو سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشن کے دو دور ہیں: مکی دور اور مدنی دور۔ مکی دور پرامن دعوت کا دور ہے، اس کے مقابلے میں مدنی دور کو جہاد اور قتال کا دور سمجھا جاتا ہے، اور یہ دونوں ادوار بلاشبہ اسلام میں مستند ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ خان صاحب مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی سے مراد یہ لیتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کی جب آمد ہوگی اور وہ جو ماڈل اپنائیں گے، وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنایا ہوا مکی ماڈل ہوگا، نہ کہ کوئی خود ساختہ مسیحی ماڈل۔

بہر کیف، مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے پیچھے قرآنی مشن کا ایک عظیم کام بالعموم تمام لوگوں پر، اور بالخصوص اپنے پیروکاروں کے کندھوں پر چھوڑ کر چلے گئے۔ خان صاحب کی مغفرت اور صدقۂ جاریہ کے لیے قرآنی مشن ایک صدقۂ عظیم کے برابر ہے۔ مختلف زبانوں میں قرآن شریف کی سب سے زیادہ تراجم کرنے والی سرِ فہرست دعوتی این جی او خان صاحب کا سی پی ایس سینٹر ہے۔ یہی مشن خان صاحب کا آخری مشن ہے۔

کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 198۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.