Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Khaaksarana khuddari ka role model

Urdu · 7 min

خاکسارانہ خودداری کا رول ماڈل: صہیب سلیم رومی ضلع لویردیر تیمر۔ علم ہو اور ساتھ میں خاکسارانہ بے نیازی، تو تینوں کی مجسم شکل مولانا وحید الدین خان ہوتے ہیں۔ مولانا کے علمیّت اور تفضل کی شاہد ان کی کتابیں، اقوال، رسائل، خطوط، اور ڈائریز تو ہیں ہی؛ ان کی خاکساری اور بے نیازی ملاقات کا شرف حاصل کرنے، اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہونے والوں کے نقل کردہ واقعات سے عیاں ہیں۔ دنیا جہان کے لوگوں سے ایسے پرخلوص شفقت سے ملتے جیسے ایک سراپا محبتِ روحانی والد سے توقع کی جا سکتی ہے۔

مخالفین ذاتی حملے کرنے، کردار کشی کرنے والے ایک عرصے کے بعد خود ان کے مرید بن جاتے۔ دیوبندیوں نے خلاف لکھا، جماعت اسلامی والوں نے ان کے خلاف مہم چلائی، کچھ لوگ مولانا کی ذاتی کردار کشی پر اتر آئے، مولانا نے سب نظر انداز کر دیا، خاموش رہے اور معاف کر دیا۔ بالآخر سب لوگ خاموش ہو گئے۔ مولانا کے زبان و قلم سے ایک حرفِ ملامت نہ نکلا۔

مولانا کی یہی پروقار خاموشی اور عدمِ ردِعمل ان کی سب سے بڑی فتح تھی۔ علماء کے طعنے، فتوے، اور ذاتی حملے آج کسی کو بھی یاد نہیں۔ جبکہ مولانا علم و فضل کی تاریخ میں کل اور آج بھی زندہ ہیں، اور تا دیر زندہ رہیں گے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے: پاکستان کے ایک مفتی صاحب ایک دفعہ اسلام آباد سے دہلی، مولانا وحید الدین کے دفتر ان سے ملاقات کے لیے گئے۔

ان دنوں اسرائیل و قادیانیت کے بارے میں مولانا کے افکار و خیالات نے مسلمانوں کے درمیان ایک طوفان بپا کر رکھا تھا۔ محترم پاکستانی مفتی صاحب، مولانا کے ان دونوں نکات پر مولانا کی اصلاح کے لیے انتہائی پرجوش و پرعزم تھے۔ مولانا سے ملاقات ہوئی، دورانِ گفتگو مفتی صاحب نے کہا کہ "میں فلاں مفتی پاکستان سے آیا ہوں، میری مدعائے ملاقات یہ ہے کہ آپ سے دو باتوں پر مناظرہ کروں: ایک یہ کہ آپ اسرائیل کے وجود کو درست تسلیم کرتے ہیں، اور دوم یہ کہ آپ قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ " مولانا نے جواب دیا: "میں نے سوچ سمجھ کر اپنی تحریروں کا ایک موقف اپنایا ہے، اسی پر میں لکھتا ہوں۔

نمبر 1: معرفت اور دعوت میرے بنیادی موضوع ہیں۔ نمبر 2: شخصی مدح و قدح سے مکمل اجتناب کرنا۔ نمبر 3: بعض موضوعات پر ایک مرتبہ کچھ لکھ چکا ہوں تو اس کو پھر سے دہراتا نہیں ہوں، گویا وہ میری ایک علمی توجیہ یا میری علمی رائے کی حد تک ہوگی۔ " اس طرح بات ختم ہو گئی۔

دوسرا واقعہ لیبیا میں پیش آیا۔ لیبیا کے مردِ آہن اور آمِر کرنل قذافی اپنی شہرت، طاقت، اور مقبولیت کے عروج پر تھے۔ دنیا جہان کی معروف سیاسی، سماجی، اور علمی شخصیات کو لیبیا بلاتے اور ان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ صاحبانِ علم و قلم سے قصیدے لکھواتے اور بدلے میں انعام و اکرام کے بارش سے نوازتے۔

پاکستان کے ایک معروف مذہبی سیاسی قائد بھی، مسلکی فرق کے باوجود، ان کے مستقل وظیفہ خوار رہے۔ 1989 عیسوی کی بات ہے، کرنل قذافی نے لیبیا کے دارالحکومت ترابلس میں مسلمان علماء کی ایک کانفرنس منعقد کی، جس میں اسلامی دنیا کے 300 علماء بشمول مولانا وحید الدین بھی موجود تھے۔ کانفرنس کے دوران ایک صاحب کی تقریر جاری تھی۔ اسی اثناء میں قذافی کانفرنس ہال میں داخل ہوئے تو کانفرنس میں موجود سب علماء و شرکاء اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے، لیکن ایک شخص اپنی نشست پر متانت سے بیٹھا رہا۔

یہ انڈیا سے آئے ہوئے مولانا وحید الدین خان تھے۔ کانفرنس کے تیسرے روز قذافی نے علماء کے لیے اشاعیہ کا خصوصی پروگرام بنایا، مگر مولانا نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ یہ واقعہ خود مولانا کی زبانی سنیے۔ مولانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرنس تھی، مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں آئے، میں بھی شریک ہوا۔

ہم لوگ ترابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے، اس کے بعد تمام لوگ اسپیشل جہاز کے ذریعے بن غازی لے جائے گئے تاکہ وہاں کرنل قذافی سے ملاقات کر سکیں۔ تمام شرکاء خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا ترابلس کے ہوٹل میں ٹھہرا رہا۔ میں اکیلا قذافی سے ملنے نہیں گیا، اپنے اس استغنا کی وجہ سے 500 ڈالر کھو دیے۔

ڈائری، 24 فروری 1990۔ سن اردو ڈاٹ کام۔ کتاب، داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.