Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan ne kya kiya

Urdu · 11 min

مولانا وحید الدین خان نے کیا کیا؟ مالکشتر، نئی دہلی۔ دِلّی کی بستی نظام الدین کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ یہ علاقہ "نرالی شان" والا ہے۔ ایک طرف حضرت محبوبِ الٰہی کا آستانہ ہے، تو اُن کے پایتنی میں امیرِ خسرو آرام کر رہے ہیں۔

چند گز کے فاصلے پر غالب کی مرقد ہے، اور اُس سے چند سو میٹر دور رحیم کا مدفن ہے۔ ایسا لگتا ہے کچھ گز زمین کے دائرے میں کئی عہد پیوندِ خاک ہیں۔ کہنے والے کی بات سولا آنے سچ ہے، البتہ اُس علاقے کی ایک فضیلت اور بھی ہے: اسی محلے میں لگ کر وہ کالونی واقع ہے جہاں ہمارے عہد کا ایک عظیم اسکالر مرتے دم تک علم کا چراغ روشن کیے رہا۔ مولانا وحید الدین خان نے عمر بھی یہیں گزاری، اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو اسی علاقے کے پنج پیراں قبرستان میں سپردِ لحد کیے گئے۔

اس گنہگار کو مولانا وحید الدین خان سے ملاقات کی سعادت کئی بار نصیب ہوئی۔ دیکھ کر تعجب ہوتا تھا کہ بڑھاپے کے باوجود وہ کتنے فعال اور متحرک ہیں۔ جب کبھی اُنہیں انٹرویو کی، جب کبھی اُنہیں انٹرویو کیا، مخصوص گھن گرج والی آواز کے ساتھ علم کا دریا بہتا پایا۔ نہیں معلوم کہ اب جبکہ مولانا دنیا سے اٹھ گئے ہیں، تو مجھ جیسے لوگ سوالوں سے خشک حلق، خشک حلق لے کر کس چوکھٹ پر جایا کریں گے جہاں سے جوابوں کا پانی مل سکے۔

مولانا وحید الدین خان ہمارے عہد کی کتنی مقبول شخصیت تھے، یہ بات اور زیادہ تب کھلی جب اُن کی وفات کی خبر آئی۔ کہاں کا مسلک اور کیسا مذہب، اُس رات سوشل میڈیا پر سب اُن کے غم میں نوحہ گر نظر آئے۔ البتہ کچھ لوگوں نے دبے لفظوں میں مولانا کی نظریاتی گمراہیوں کو یاد دلانا شروع کر دیا۔ دن نکلتے نکلتے وہ جماعت بھی فیس بک کی گلیوں میں نکل آئی، جس کی دانست میں مولانا کا بخشا جانا مشکل تھا۔

میں مولانا کی مغفرت کے ساتھ اُن دوستوں کی ہدایت کی دعا بھی کرتا رہا۔ مولانا سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو شاید یہ سوال کچوکے لگا رہا ہو کہ مرنے والے میں آخر ایسا کیا تھا جو اک عالم اداس نظر آ رہا ہے؟ مولانا و علامہ تو اور بھی ہیں، کتابیں تو دوسروں نے بھی کم نہیں لکھیں۔ شاگرد و مرید تو بہت سے علما کے ہوتے ہیں۔

پھر مولانا وحید الدین میں کیا خاص تھا؟ آئیے ان سوالوں سے پریشان ہو رہے بھائیوں کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے عہد میں مذہبی گھرانوں میں آنکھ کھولنے والے اکثر لوگوں کو اُن کا ماحول مذہب سے خود بخود قریب کر دیتا ہے۔ گھر میں جو مکتبِ فکر رائج چلا رہا ہے، اُس کی بنیادی باتیں پرورش کے دوران، پرورش کے دوران ہی منتقل کر دی جاتی ہیں۔

آگے چل کر اُن میں سے بہت سے لوگ اپنے ذوق کے مطابق مذہب کو یا مذہب کو کم یا زیادہ گہرائی سے سمجھ کر اُس پر راسخ بھی ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جھنجھٹ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب اُن میں سے کچھ لوگوں کو ہر لحظہ بدلتی اس دنیا کے تقاضوں اور اقدار کے ساتھ اپنے مذہبی نظریات کو ہم آہنگ کرنے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ ان لوگوں کی کشمکش یہ ہوتی ہے کہ نہ تو وہ اس مذہب کو چھوڑنا چاہتے ہیں جس کی سچائی کو اُن کا دل بچپن سے قبول کر چکا ہے، اور نہ ہی وہ اس دنیا سے کنارہ کر سکتے ہیں جس میں اُنہیں بہرحال انوالو ہونا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں جب یہ منزل آتی ہے تو وہ ایک فکری تذبذب کے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اُن میں سے بہت سے لوگ کوئی ایک راستہ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ دنیا پر لاحول پڑ کر خالص مذہب کے ہو جاتے ہیں، تو کچھ مذہب کو سلام کر کے دنیا سے بغلگیر ہو رہتے ہیں۔ جو ان دونوں میں سے کسی کا بھی حوصلہ نہیں کر پاتے، وہ باری باری سے دونوں طرف نظر ڈالتے ہیں اور پھر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ لوگوں کی اس مشکل کو مذہب کے کچھ جانکاروں نے سمجھا اور کوئی حل کھوجنے میں لگ گئے۔

بہت سوچ بچار کر کے ان اصحاب نے مذہبی فکر کی بذریعہ اجتہاد تطبیق نو کرنے کی ٹھانی، تاکہ مذہب اور تمدن کے زینے پھلانگتی دنیا کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ یہی وہ سوراخ ہے جس سے مذہب میں تجدد پسندی کی روایت کا چشمہ پھوٹا۔ اس روایت سے نکلے کچھ افکار تو اس انتہا تک چلے گئے کہ اُن میں مذہب کی اصولی روح ہی غائب نظر آئی۔ جبکہ کچھ ایسے نظریات سامنے آئے جنہوں نے تذبذب کے جھاڑ جھنکاڑ کو صاف کر کے مذہب اور جدید دنیا کے درمیان ہم آہنگی کی رہ گزر تیار کی۔

مذہب میں تجدد پسندی کی اس روایت کو رائج، مذہب میں تجدد پسندی کی اس روایت کو رائج خطوط پر چلنے والے حلقوں نے نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ اُن کی گمراہی کا فتویٰ بھی صادر فرمایا۔ کچھ حلقوں نے تجدد پسندی کے پیچھے مذہب دشمن طاقتوں کا ہاتھ بھی دیکھ لیا۔ اُن حلقوں نے اپنے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ بھول کر بھی اس نئی روایت کی طرف نہ جائیں کہ وہاں نقصان ہی نقصان ہے۔ بہت سے لوگ تو اس ہدایت پر سچے دل سے عمل پیرا رہے، لیکن ان حلقوں میں ہی کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے تو کچھ نہ تھے، لیکن اُن کے بھی دلوں میں تذبذب کی وہی آگ جل رہی تھی۔

ایسے افراد بھی خاموشی سے نئی روایت کی طرف بڑھ گئے۔ مولانا وحید الدین خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک مذہبی فکر کی تشکیل نو کرنے والے تمام اسکالروں کو آپ جتنا چاہیں برا بھلا کہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ نہ جانے کتنے افراد کو تذبذب کے عذاب سے نکالنے میں ان بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کہ اُنہوں نے اک خلقت کو یہ باور کرا دیا کہ دنیا کیسی ہی ترقی کر لے، تب بھی مذہب کی معنویت باقی رہتی ہے۔ میرے مشاہدے میں مولانا وحید الدین خان اور جاوید غامدی جیسے افراد کی مذہبی فکر بہت سے لوگوں کے لیے اُن ستونوں کی طرح ہیں جنہیں ہٹا دیا جائے تو رائج مذہبی بیانیہ سے متعلق شبہات کی چھت مکینوں کے سروں پر آ پڑے گی۔

اس لیے ان ستونوں کی بناوٹ میں کوتاہیوں کے امکان کے باوجود اُن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا وحید الدین خان کی مذہبی تعبیرات کی ایک خوبی یہ ہے کہ اُن میں مذہب کی اصولی حیثیت بہرحال نمایاں ہے۔ مذہب کی تفہیم کرتے وقت وہ دین کے دائرے میں کھڑے ہو کر استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ جدید دنیا سے ہم آہنگی کی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں، اور اس راہ میں ہر سنگ میل پر یاد دہانی بھی لکھتے جاتے ہیں کہ انسان کی حتمی منزل کچھ اور ہے۔

مولانا کے سیاسی نظریات پر تنقید کا سب کو حق ہے، لیکن اُن کو بنیاد بنا کر مولانا کی پوری ریاضت کو ٹکے نوکری کر دینا انصاف نہیں۔ ٹکے نوکری کر دینا انصاف نہیں۔ نظریاتی اختلاف تو بہت جگہوں پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی فکری شکم سے نکلی دو تنظیمیں سیکولرزم کے بارے میں دو بالکل مختلف نظریے رکھتی ہیں۔

ہماری طرف والی تنظیم کو سیکولرزم بہت عزیز ہے، جبکہ سرحد پار والی کو سیکولرزم سخت نقصان دہ لگتا ہے۔ جس طرح ان نظریاتی اختلافات کو بنیاد بنا کر یہاں یا وہاں والی تنظیم کی گمراہی کا حکم لگانا زیادتی ہے، ویسے ہی مولانا کے سیاسی نظریات کو وجہ بتا کر اُن کی تمام کارگزاریوں کی تکذیب بھی ایمانداری کے خلاف ہے۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 193۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.