مولانا وحید الدین خان صاحب کے اوصاف: جاوید اقبال، پرنسپل اینگلو عربک اسکول ترکمان گیٹ دہلی۔ ترکمان گیٹ دہلی۔ وحید الدین خان صاحب مرحوم ہمیشہ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھتے تھے؛ جو نیا خیال ان کے ذہن میں آتا، اس کو فوراً ڈائری میں نوٹ کر لیتے۔ جب موصوف کی کسی سے ملاقات ہوتی تو اس شخص کی گفتگو بڑی توجہ سے سنتے، خود کم بولتے، مخاطب کو بولنے کا موقع دیتے۔
اس کی گفتگو میں کوئی سبق خاموش اور بامقصد بات ہوتی تو اسے ذہن میں رکھتے اور بعد میں ڈائری میں نوٹ کر لیتے۔ اسی طرح جب کوئی کتاب پڑھتے تو اس سے حاصل شدہ معلومات کو نوٹ کرتے۔ موصوف عوام اور خواص سے ملنے جلنے میں تکلف نہیں کرتے تھے؛ ان سے ملاقات بہت آسان تھی۔ تعلیم یافتہ لوگوں سے جب ملتے تو دو سوال ضرور پوچھتے۔
پہلا سوال: آج کل کون سی کتاب زیرِ مطالعہ ہے؟ دوسرا سوال: دورانِ مطالعہ یا دورانِ غور و فکر آپ کی کوئی یافت ہو تو بتائیں۔ انہوں نے بہت کچھ لکھا۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ انہوں نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد کم سے کم 10 سال تک ان کے مضامین الرسالے میں شائع ہوتے رہیں گے۔
ان کے زیادہ تر مضامین ایک صفحے کے ہوتے ہیں، یعنی 400 سے کم الفاظ پر مشتمل۔ وہ نکات جو وہ اپنی ڈائری میں لکھتے، انہیں مضمون کی شکل میں مرتب کر لیتے۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 192۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.