← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Ravish-e-dahr ka har Naqsh Pukarega Mujhe
Urdu · 7 min
"روشِ دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے۔ " سالم فاروق ندوی، مظفر نگر یوپی۔ مولانا وحید الدین خان، جو مختلف زبانوں میں متعدد کتابوں کے مصنف اور موجودہ دور میں تحقیقی دنیا کے ایک بڑے امام سمجھے جاتے ہیں۔ 21 اپریل 2021 کو اس دارِ فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کی ولادت 1 جنوری 1925 عیسوی کو بحریہ اعظم گڑھ میں ہوئی، اور مدرسة الإصلاح اعظم گڑھ میں آپ نے تعلیم حاصل کر کے فراغت حاصل کی۔ مولانا مرحوم ہندوستان کے لیے عزت کا تاج اور عالمِ اسلامی کے دانشور طبقے کے لیے ایک بہترین رہنما اور کامیاب مفکر تھے۔ آپ کی زندگی سیرت و سنت اور احیائے امت کے لیے گویا وقف رہی۔ آپ کی اکثر کتابیں فکری و شعوری انقلاب پیدا کرنے والی تحریروں اور تقاریر پر مشتمل ہیں۔
آپ کے اکثر پروگرامز بھی احیائے اسلام اور حقانیتِ اسلام کے ہی تحت ہوتے تھے۔ آپ کی زندگی کا ایک بڑا مقصد دعوت و تبلیغ رہا، بالخصوص برادرانِ وطن میں آپ کے دعوتی جذبات قدر کی نگاہوں سے دیکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ کا مشن مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ نیز اسلام کے تعلق سے برادرانِ وطن کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں اور غلط تصویریں ہیں، ان کا ازالہ کرنا تو آپ کا اولین مقصد رہا ہے۔
اسی کے تحت آپ نے "عظمتِ اسلام"، "دعوتِ اسلام"، "دینِ انسانیت" اور "دینِ کامل" کی کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ آپ کے کارہائے نمایاں میں سب سے بڑا کارنامہ دین کی سیاسی تعبیر پر معتدلانہ اور منصفانہ تنقید ہے، جس میں مصنف کی علمی ابقریت کو سلامت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس کی علمی سطح پر گرفت کی ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ تنقید پر بس کیا، بلکہ اس کا بدل پیش کیا۔ اور اس موضوع پر مستقل ایک محققانہ کتاب "تعبیر کی غلطی" بھی تصنیف فرمائی ہے۔
اردو زبان میں مذہبیات کو ایک عصری اسلوب دیا۔ مثلاً مذہبیات کو روزمرہ کی آسان زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں پر دین کی حقیقت واضح کی جائے، معرفتِ الہی سے ان کو روشناس کرایا جائے، اور سیاسی رو سے جو مسلمانوں میں منفی پہلو ہیں، ان کی اصلاح کی جائے۔ مولانا نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور آخرت میں حساب دینا ہے، وہیں پر اگر مولانا کی پوری تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو مذکورہ بالا نتیجے کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلے گا کہ مولانا نے مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا کہ تمہارا مشن کیا ہے، اس دنیا میں تمہارا وجود کس لیے ہوا ہے۔
تمہیں ردعمل کی نفسیات سے نکل کر برادرانِ وطن کے ساتھ مثبت اور تعمیری سوچ اور معتدل رویہ اختیار کرنا چاہیے، اور پوری دنیا کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے، منفی نظر سے نہیں۔ اس طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کی ساری تحریروں کا مرکزی خاکہ معرفتِ الہی اور دعوت و تبلیغ ہوتا تھا۔ آپ نے بہت ہی سلیس اور آسان فہم انداز میں قرآن کا انگلش ترجمہ کیا، جو انگلش زبان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بے حد مفید اور دعوتی راہ میں نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔ اب تک اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیئرمین اور ماہنامہ الرسالہ کے مدیر بھی رہے ہیں۔
آپ کی زندگی مفکرانہ، قلم ادیبانہ اور اندازِ خطابت نہایت عالی مانہ تھا۔ آپ تمام مذاہب کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے۔ ہندوستان آپ کی ملی و وطنی خدمات کا ہمیشہ معترف اور مرہون منت رہے گا۔ حکومتِ ہند نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حال ہی میں 25 جنوری 2021 کو ہندوستان کے دوسرے بڑے شہری ایوارڈ، پدم وِبھوشن ایوارڈ، سے نوازا تھا۔
اس کے علاوہ بھی ہندوستان اور بیرونِ ممالک سے آپ کو بہت سے ایوارڈز دیے جا چکے ہیں۔ مثلاً 12 مئی 1989 عیسوی میں حکومتِ پاکستان نے آپ کی ایک کتاب "پیغمبرِ انقلاب" انگریزی پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا تھا۔ یہ آپ کو گورباچوف کے ہاتھوں دیا گیا تھا۔ غرض یہ کہ مولانا کی شخصیت ایک عظیم شخصیت رہی ہے۔
وہ اپنے آپ میں خود ایک انجمن تھے، ہر موضوع پر گفتگو کرتے اور لکھتے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جتنا انہوں نے لکھا ہے، شاید ہی کسی اور نے لکھا ہو۔ عالمِ اسلامی میں آپ کا وجود تمام لوگوں کے لیے ایک افتخار تھا، اور آپ کی جدائی تحقیقی دنیا میں شاید حال کا سب سے بڑا خسارہ ہو۔ ماضی کے علماء اور ان کے علوم پر آپ کی نادر تنقیحات ہوتی تھیں۔
اپنی سیرت و کردار، اپنے اخلاص و للہیت اور ہمدردی و خیرخواہی اور معرفتِ الہی کے ایک سچے طالب کے اعتبار سے نمونہ تھے۔ اپنی عمر کے 96 سال اس دنیا میں گزار کر آج بتاریخ 21 اپریل 2021 بمطابق 8 رمضان 1442 ہجری اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ اور مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
"روشِ دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے، یہ نہ سمجھو کہ مجھ ہی تک میرا افسانہ ہے۔ " "روشِ دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے، یہ نہ سمجھو کہ مجھ ہی تک میرا افسانہ ہے۔ " کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 190۔