ہندوستان کے معروف اسلامی اسکالر وحید الدین خان نہیں رہے، یو این آئی ہندوستان کے معروف اسلامک اسکالر اور پدم بھوشن سے سرفراز مولانا وحید الدین خان کا کل دہلی میں انتقال ہو گیا۔ وہ 96 برس کے تھے، ان کی پیدائش یکم جنوری 1925 عیسوی کو بڈھریہ اعظم گڑھ، اتر پردیش میں ہوئی۔ وہ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اور مفکر تھے۔ وہ اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیئرمین اور ماہنامہ الرسالہ کے مدیر تھے۔
وہ 1967 عیسوی سے 1974 عیسوی تک الجمعیہ ویکلی دہلی کے مدیر رہ چکے ہیں۔ آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ خان صاحب 5 زبانیں جانتے تھے: اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی۔ اور وہ ان زبانوں میں لکھتے اور بیان دیتے تھے۔
ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خاں عام طور پر دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا۔
مسلمانوں میں مدوخوم یعنی غیر مسلموں کی ایذا و تکلیف پر یکطرفہ طور پر صبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا ہے، جو ان کی رائے میں دعوت دین کے لیے ضروری ہے۔ قومی آواز، 22 اپریل 2021۔ کتاب: داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 300۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.