Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Mere Maulana Saheb

Urdu · 4 min

میرے مولانا صاحب ڈاکٹر شیام سُندر شرما، نئی دہلی۔ میں نے مولانا صاحب کے ساتھ رہ کر جن اچھائیوں کو حاصل کیا، وہ آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے 15 سال آرتھوپیڈکس کی حیثیت سے مولانا صاحب کی خدمت انجام دی ہے۔ مولانا صاحب اپنے آپ میں ایک مکمل شبّد تھے؛ انہوں نے پوری زندگی سچائی کی تلاش میں گزاری۔

اتنا سِمپل لیونگ میں نے اپنی زندگی میں کسی کو نہیں دیکھا۔ ان کے پاس جب میں پہنچتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میں کسی فرشتے کے پاس آ کر بیٹھا ہوا ہوں۔ آج تک میں نے ان سے نیگیٹو شبّد نہیں سنا۔ وہ ہمیشہ ہم لوگوں کو یہی سکھاتے تھے کہ "جیون میں کبھی نیگیٹیویٹی نہیں آنے دیجئے گا"۔

چاہے کیسی بھی مشکل ہو، اس کو ایک چیلنج کے طور پر لیجئے گا۔ اللہ جب ایک راستہ بند کرتا ہے تو دوسرا راستہ ضرور کھولتا ہے۔ اسی امید کے ساتھ آپ کو آگے بڑھنا ہے۔ مولانا کی سِمپل لیونگ کے بارے میں میں اکثر ان کی زبان سے سنتا تھا کہ ان کی امی جان اکثر کہا کرتی تھیں کہ "رحلیاً بابھن، بھیلی دھوپ، جات جات ہم کیسن ہو"۔

ہم برہمن تھے، دھوبی بن گئے، معلوم نہیں جاتے جاتے ہم کیسے ہوں گے۔ مطلب کہ مولانا صاحب کی بچپن سے اتنی سادہ زندگی رہی ہے کہ ان کی امی کو بھی یہ احساس ہوتا تھا کہ اتنی بڑی فیملی میں ان کا جنم ہوا اور ان کا جیون صوفیانہ اور فقیری والا گزر رہا ہے۔ مولانا کے پاس جب بھی ہم آتے تو وہ خیریت نہیں پوچھتے تھے کہ کیا حال ہے، بلکہ پوچھتے کہ آپ کے پاس کوئی نیوز ہے؟ اور اس سے وہ کچھ نہ کچھ سیکھ ضرور لیتے تھے۔

ہر پل اور ہر سیکنڈ صرف اور صرف پازیٹو تھاٹ اور اللہ کی حمد میں جیتے تھے۔ جب وہ سوتے تھے تو اللہ کے نام سے سوتے تھے، اور جب سو کر اٹھتے تھے تو بھی اسی کے نام سے اٹھتے تھے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جب وہ سوتے تھے تو بھی اللہ ہی کے دھیان میں سوتے تھے۔ ان کی سِمپل لیونگ ایسی تھی کہ ان کو فرق نہیں پڑتا تھا وہ کپڑا سیدھا پہنے ہوئے ہیں یا الٹا پہنے ہوئے ہیں۔

بس ان کا جسم ڈھکا ہوا ہو، بہت ہے۔ وہ اپنے کمرے میں، اپنی لیونگ میں، چینج نہیں چاہتے تھے۔ نیچر سے بھی ان کو بہت لگاؤ تھا۔ وہ نیچر میں جینے والے شخص تھے۔

ایک بات وہ مجھے سمجھایا کرتے تھے کہ "ڈاکٹر شرما، اللہ سب کچھ معاف کرے گا، لیکن مورتی پوجا کبھی معاف نہیں کرے گا"۔ تو میری بات یاد رکھیے گا کہ کبھی مورتی پوجا مت کیجئے گا۔ تو میں ان سے کہتا تھا کہ مولانا صاحب، میرا وعدہ ہے آپ سے کہ میں صرف مالک کی پوجا اور سجدے میں زندگی گزاروں گا۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 301۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.