← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Ilmi vo Adabi Dunya ka bahot bada Khasara
Urdu · 8 min
علمی و ادبی دنیا کا بہت بڑا خسارہ، فیروز خان دیوبند۔ معروف عالم دین مولانا وحید الدین خان 96 سال کی عمر میں علالت کے باعث انتقال کر گئے۔ وہ نئی دلی کے ایک نجی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ انہوں نے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔ مولانا وحید الدین خان کے سانحۂ ارتحال پر دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب محتشم مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا وحید الدین خان نے اپنی زندگی میں درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی تفسیر بھی لکھی۔ ان کی علمی خدمات کے باعث حکومت نے انہیں دوسرے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ، پدم ویبھوشن، سے بھی نوازا تھا۔
اللہ مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دارالعلوم زکریا دیوبند کے محتشم مولانا محمد شریف خان قاسمی نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک کر کے ساری بڑی ہستیاں بچھڑتی جا رہی ہیں۔ روزانہ کوئی نہ کوئی جانے پہچانے ہمارے درمیان سے رخصت ہو رہے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی میں اس تواتر کے ساتھ اپنوں کو کھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔
خدا کرے کہ یہ سلسلہ دراز نہ ہو۔ ایک دن میں کئی کئی جاننے والوں کی جدائی کا غم اٹھانا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم پانچ زبانیں جانتے تھے، ان کی تحریریں بلا تفریقِ مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ وہ دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے تھے۔
ان کا مشن مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا تھا، ان کے مشن کو جاری رکھنا ہی انہیں سچی خراجِ عقیدت ہوگی۔ عالمی شہرت یافتہ شاعر و ماہرِ تعلیم ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ مولانا وحید الدین خاں بڑی عہد ساز شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے بہت منظم طریقے پر اپنے دعوتی مشن کو مسلسل جاری رکھا۔ مخالف اور تیز ہواؤں کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ اپنے مشن کے چراغ کو جلائے رکھنے کا ہنر کوئی مولانا وحید الدین خان سے سیکھے۔
وہ ہمیشہ سے مثبت سوچ کے حامی اور مبلغ رہے۔ ان سے بہت سے معاملات میں اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ان کے علمی کمالات کے قائل رہے ہیں۔ ملی، سماجی اور سیاسی مسائل پر بغیر کسی مصلحت کے بروقت اور برمحل بولنے والوں میں ان کا نام جلی حروف سے لکھا جائے گا۔ مولانا وحید الدین خان نے اپنی تحریروں سے مثبت قومی مزاج بنانے کی کوشش کی ہے۔
ان کا رخصت ہونا ملک و قوم کا ایک بڑا نقصان ہے۔ معروف ادیب و قلم کار سید وجاہت شاہ نے مولانا مرحوم کے فرزندان و دیگر اہل و عیال کی خدمت میں تعزیتِ مسنونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خالص مذہبی مسائل پر مولانا وحید الدین خان کے دلائل زندگی کے حقائق و احوال پر سادہ و جاذب اسلوب میں کیے گئے۔ ان کے تبصرے، ان کی رہنمائیانہ گفتگو انہیں بہت پسند تھی اور حقیقی زندگی میں ان سے استفادے کی بھی کوشش کی۔ ان کے اسلوب میں ایک بانک پن تھا۔
ان کے اسلوب میں ایک بانک پن تھا اور اندازِ تحریر میں بلا کی کشش۔ وہ لکھتے نہیں تھے، اپنی بات کو خاری کے دل کی گہرائیوں میں اتارنے کا ہنر جانتے تھے۔ ایسی سادگی کے ساتھ ایسی سحر انگیز تحریریں لکھنے والا اردو زبان میں شاید ہی کوئی دوسرا گزرا ہوگا۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔
جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی خانخواہ دیوبند کے محتشم مولانا مزمل علی خاسمی نے کہا کہ مولانا مرحوم کے انتقال پر ملال کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اللہ نے انہیں بے پناہ مقبولیتوں سے نوازا اور ہندوستان سے لے کر یورپ کے دور دراز ملکوں تک ان کے دورے ہوئے، مگر روئے زمین کے ہر خطے اور ہر گوشے میں وہ اپنی عالمانہ شان اور قلندرانہ وقار کے ساتھ پہنچے۔ انہوں نے دینِ اسلام کی عصری تعبیر و تشریح کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنی حد تک پوری زندگی اس ضرورت کی تکمیل کی کوشش کی۔ اللہ مرحوم کو اپنے قربِ خاص سے نوازے۔
جمعیت علمائے ہند کے ضلع سیکرٹری مولانا محمد ابراہیم قاسمی نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان سماج کی صالح تعمیر و تشکیل کے لیے فرد کی تعمیر کو ضروری قرار دیتے تھے اور فرد کی تعمیر کے اجزاء و عناصر وہ قرآن و حدیث، اسلامی ماخذ اور دنیا بھر کی ترقی یافتہ قوموں کے واقعات و احوال سے تلاش کرتے تھے۔ مولانا وحید الدین خان ایک فرد نہیں تھے، ایک ادارہ تھے، ایک انجمن تھے، ایک اکیڈمی تھے، بلکہ علم و نظر اور فکر و دانش کی پوری ایک کائنات تھے۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند کے محتشم مولانا نورالہدیٰ قاسمی بستوی اور انڈو عرب ملٹی لنگول پرائیویٹ لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد انور خان خاسمی بستوی نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان کو اے گریٹ سائنٹیفک سینٹ آف مسلم ورلڈ بھی کہا جاتا ہے۔
ان کا اچانک یوں چلے جانا علمی اور ادبی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لیکن مولانا نے زندگی کی آخری سانسیں لینے کے لیے خاتمہ بالخیر کے طور پر جو مبارک لمحات پائے وہ ان کی دینی خدمات کی قبولیت کا نشان ہیں۔ یو پی رابطہ کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم الحیا پبلیکیشنز کے ڈائریکٹر عبداللہ عثمانی، نوجوان شاعر تنویر اجمل دیوبندی، معروف افسانہ نگار ہارون حسرت، اور ماسٹر شمیم کرت پوری، قاری عامر عثمانی، مولانا عبداللطیف خاسمی، مہدی حسن عینی خاسمی، جمعیت فلاح انسانیت کے قومی جنرل سیکرٹری الحاج شاہ عالم خاسمی، معروف اسلامک اسکالر مولوی سکندر خان اور محمد ثاقب خان نے مشترکہ طور پر کہا کہ مولانا وحید الدین خان اپنی سحر انگیز اور پراثر خطابات کے ذریعے ہوا کے رخ کو بڑی حد تک پھیرنے اور سامعین کے دلوں پر حکومت کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ اللہ رحم کا معاملہ اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔
آواز دی وائس ڈاٹ ان 22 اپریل 2021 کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 298۔