Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Mautul Alim, Mautul Alam

Urdu · 11 min

موت العالم، موت العالم۔ خورشید احمد ندیم، پاکستان۔ بیسویں صدی کے بڑے اور جید عالم مولانا وحید الدین خان دنیا سے رخصت ہوئے؛ خدا کا ایک بندہ جو پیغمبروں کی اتباع میں تمام عمر رب سے ملاقات کی منادی کرتا رہا، اپنے رب کے سامنے پیش ہو گیا۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ پروردگارِ عالم کے دربار میں ایک داعیِ اللہ کی یہ حاضری کیسی ہوگی۔

اس شان، اخلاص اور استدلال کے ساتھ آخرت کی تذکیر—واقعہ یہ ہے کہ اس امت میں صدیوں سے نہیں سنی گئی، اور نہیں معلوم پھر کب سنی جائے گی۔ ایک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ 1988 عیسوی میرے لیے ایک مہربان سال تھا۔ اس سال مولانا وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی صاحب سے میرا شعوری تعارف ہوا۔

1989 عیسوی میں جب جاوید صاحب کی صحبت نصیب ہوئی، تو ان شخصیات کے کام کو علمی سطح پر سمجھنے کا ذوق پیدا ہوا۔ اگر جاوید نامہ ان سے سبخن سبخن نہ پڑھا ہوتا تو علامہ اقبال کو شاید اس طرح دریافت نہ کر پاتا۔ یہی معاملہ مولانا وحید الدین خان اور دوسرے اہلِ علم کا بھی ہے۔ بطور عالم اور داعی، مولانا ایک بے مثل آدمی تھے۔

ان کی شخصیت کی تیسری جہت ادبی ہے: وہ ایک صاحبِ طرز، ادیب اور انشا پرداز تھے۔ وہ دبستانِ شبلی ہی کے ایک فرد تھے، جس سے منسوب شخصی یات کے علمی کمالات ہی نہیں، اردو زبان و ادب کے لیے خدمات بھی ہماری روایت کا ایک شاندار باب ہے۔ دینی ادب کو مولانا نے ایک نیا لہجہ اور اسلوب دیا۔ ان کے جریدے الرسالہ کو دعوتی لٹریچر میں کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔

بحیثیتِ عالم، ان کا سب سے بڑا کارنامہ دین کی سیاسی تعبیر پر عالمانہ تنقید ہے۔ یہ تنقید مولانا اشرف علی تھانوی نے کی، اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بھی کی، مگر مولانا وحید الدین خان کی کتاب "تعبیر کی غلطی" اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔ علمی متانت، عقلی و نقلی استدلال، قوتِ بیان و تاثیر، اور دردِ دل کا ایسا مرقع—دینی لٹریچر میں شاید ہی مل سکے۔ اگر کوئی یہ سمجھنا چاہے کہ تنقید کا علمی معیار کیا ہوتا ہے، تو اسے یہ کتاب پڑھنی چاہیے۔

یہ کتاب ایک علمی رومان کے ٹوٹنے کا بیان بھی ہے، ایک علمی وصال اور ہجرت کی داستان بھی۔ جو اس حادثے سے دوچار ہوا ہو، وہی جان سکتا ہے کہ اس کا کرب کیا ہوتا ہے۔ جنیاتاً میرے تے لگیاں تینوں اک لگے، تینوں اک لگے تے توں جانے۔ یعنی: جتنی میرے جسم پر لگی ہیں، تمہارے جسم پر اس طرح کی ایک ضرب لگے تو تمہیں اس کی اذیت کا ادراک ہو۔

مولانا نے اس کتاب کے پہلے صفحے پر لکھا: "اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر کتنی سخت ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے اس کے شائع ہونے کے بعد میں کسی ایسی جگہ پر جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے، اور پھر اسی حال میں میں مر جاؤں۔ " "تعبیر کی غلطی" مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی "تعبیر دین" پر تنقید ہے۔ وہ مولانا مودودی کے پہلے باضابطہ ناقد ہیں، جن کی رسائی مولانا کے فکری جوہر تک ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ "تعبیر دین" کا ہے، کسی ایک مسئلے میں علمی تفرد کا نہیں۔

مولانا مودودی مولانا وحید الدین خان کے شعوری سفر کا پہلا پڑاؤ ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب "علمِ جدید کا چیلنج" کو مولانا کا بالواسطہ فیض قرار دیا ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسی قلم سے "تعبیر کی غلطی" لکھنا کتنا بارِ خاطر ہوگا۔ مولانا مودودی کی علمی وجاہت اور فکری شکوے میں کچھ کلام نہیں۔

مولانا وحید الدین خان نے اس فکر کا جوابِ دعویٰ، یعنی اینٹی تھیسس، اسی علمی شان کے ساتھ ہمارے سامنے رکھا: زندہ فکر اسی طرح ارتقاء کی منازل طے کرتی ہے۔ مولانا کا دوسرا بڑا کارنامہ "مسلم نفسیات کی تشکیل نو" ہے، جو ان کے علمی کام ہی کا عملی اطلاق ہے۔ ما سبق مسلم مفکرین اور رہنماؤں کے زیرِ اثر جو مسلم نفسیات پیدا ہوئی، وہ سیاسی تھی۔ اس کے نتیجے میں سیاسی عظمتِ رفتہ کی بازیافت مسلمانوں کا اجتماعی نصب العین بنا۔

یہ ماضی کی فکری اسیری تھی، جس سے مولانا نے مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی غلبہ مادی دنیا کا ایک واقعہ ہے، جس کا تعلق عالمِ اسباب سے ہے، دین سے نہیں۔ غلبے کی خواہش دوسروں کو حریف بنا کر آپ کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ اس سے دیگر اقوام کے ساتھ آپ کا جو تعلق پیدا ہوتا ہے، وہ دنیاوی مفادات کے تصادم سے عبارت ہے۔

غیر مسلموں کے ساتھ اہلِ اسلام کا اصل تعلق داعی اور مدعو کا ہے۔ غلبے کی نفسیات اس تعلق کو مجروح کرتی ہے۔ داعی مدعو کا خیر خواہ ہوتا ہے، دشمن نہیں۔ اسی لیے وہ کہتے تھے کہ ان کے دل میں کسی کے لیے کوئی نفرت نہیں۔

وہ اس دل کے ساتھ خدا کے حضور پیش ہونا چاہتے ہیں جو نفرت سے خالی اور سب کا خیر خواہ ہو۔ انسانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ انہیں آخرت کے عذاب سے خبردار کیا جائے، اور آخرت رخی، یعنی آخرت اورینٹڈ شخصیات وجود میں آئیں۔ پیغمبر اسی لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ اس باب میں وہ سر سید اور مولانا محمد الیاس کے وارث تھے۔

سر سید کی خیر خواہی کا ہدف مسلمانوں کی دنیاوی ترقی اور مولانا الیاس و مولانا وحید الدین خان کی مساعی کا حاصل اہلِ اسلام کی اخروی نجات تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی ایمپائر ختم ہو گئی، لیکن ابلاغیات کی دنیا میں آنے والے انقلاب نے ان کے لیے موقع پیدا کر دیے۔ یہ مواقع پیدا کر دیے کہ وہ اپنی دعویٰ ایمپائر کھڑی کر سکتے ہیں۔ وہ جدید ذہن کے شبہات دور کریں، اور دین کو لوگوں کی علمی دریافت بنا دیں۔

مولانا ایک مدرسے کے فارغ التحصیل تھے۔ دعوت کے لیے انہوں نے طویل عرصہ جدید علوم سیکھے، انگریزی زبان میں مہارت پیدا کی، اور پھر ایسا دعوتی لٹریچر تیار کر دیا کہ اس کو کوئی نظیر موجود نہیں۔ اس کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ مولانا نے بتایا کہ انسان کی اصل آزمائش خدا کی معرفت کا حصول ہے۔

یہ معرفت کوئی پراسرار واقعہ نہیں جو صوفیانہ مشاغل، چلوں اور ریاضتوں کا محتاج ہو۔ یہ ایک شعوری تجربہ ہے۔ یہ آفاق و انفس پر غور و فکر کا فطری نتیجہ ہے۔ یہ بات اگرچہ ان کے لٹریچر میں روح کی طرح جاری و ساری ہے، مگر کتاب "معرفت" اس باب میں لاجواب ہے۔

اس کا ایک مضمون، "اسمِ اعظم"، میں نے کئی بار پڑھا اور ہر بار یوں لگا کہ جیسے میرے دل پر اتر رہا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا ہے کہ خدا کی دریافت میرے لیے ایک حسی واقعہ ہے۔ روزمرہ کے واقعات کو آفاقی حقیقتوں سے جوڑنا مولانا کا خاص امتیاز تھا۔ ایک مقام پر انہوں نے اپنے سفر کی روداد لکھی کہ وہ ایک ایئرپورٹ پر اترے تو ایک بزرگ آدمی کے طور پر انہیں خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیا گیا۔

انہیں امیگریشن کے لیے قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑا، اور ان کے لیے تمام مراحل آسانی سے طے ہو گئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں ایئرپورٹ سے نکلا تو میں نے دعا کی کہ اے پروردگار! جب میں آپ کے سامنے حاضر ہوں تو مجھے معذور جانتے ہوئے میرے ساتھ خصوصی برتاؤ کرنا، اور مجھے حساب کتاب کے مرحلے سے اسی طرح آسانی کے ساتھ گزار دینا۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ خدا بندے کے لیے ویسا ہی ہے جیسا وہ اس کے بارے میں گمان کرتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ مولانا کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ ہوگا جیسا انہوں نے گمان کیا۔ ہم گواہ ہیں کہ وہ ایک صاف ستھری زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ بشکریہ، روزنامہ دنیا۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 287۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.