امن و آشتی کے علمبردار تھے مولانا وحید الدین خان، نئی دہلی۔ مولانا وحید الدین خان ہمارے درمیان ایک ایسی شخصیت تھے جو ہمیشہ اہلِ ملک کے درمیان صلح اور امن کی راہیں تلاش کرتے تھے۔ وہ مذاہب کی اُن تعلیمات کو پیش کرتے تھے جو سب کے درمیان یکساں تھیں۔ وہ برادرانِ وطن کے ساتھ خیرخواہی کے تعلقات پر زور دیتے تھے، شدت پسندی کے سخت خلاف رہتے تھے۔
اُن کا سارا لٹریچر امن اور صلح کا خزانہ ہے، جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر جناب کلیم الحفیظ نے پریس کو جاری ایک تعزیتی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کو درجنوں اعزازات سے نوازا گیا، جس میں پدم بھوشن بھی شامل ہے۔ لیکن مولانا کی شخصیت بھارت کے لیے خود ایک اعزاز کی حیثیت رکھتی تھی۔
مولانا اسلام کے مبلغ بھی تھے اور مفکر بھی؛ اُن کی فکری جدوجہد کے نتیجے میں بہت سے پہلو روشن ہوئے۔ مولانا کی ادارت میں شائع ہونے والا ماہنامہ الرسالہ اپنی شناخت میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ مولانا کا انتقال علم کے سورج کے غروب ہونے کے برابر ہے۔ مولانا کافی مدت سے علیل تھے، انہوں نے بھرپور عمر 97 سال پائی۔
اللہ نے اُن سے خوب کام لیا۔ اب یہ اُن کے عقیدت مندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُن کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ مولانا کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور اپنے مشن کا ساتھی بنایا۔ اُن کی ایک بیٹی فریدہ خانم صاحبہ، جو جامعہ سے ریٹائرڈ ہیں، انہوں نے مولانا کی درجنوں کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور الرسالہ انگریزی کی مدیر ہیں۔
اُن کے بیٹے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب خود ایک بین الاقوامی اسلامی اسکالر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے۔ urdu-lex.com، 22 اپریل 2021، کتاب "داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان"، صفحہ نمبر 286۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.