← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
MWK aur Ulama ka Eteraz
Urdu · 36 min
مولانا وحید الدین خان، اور علماء کا اعتراض۔ مولانا انس ملک ندوی، سورت گجرات۔ مولانا وحید الدین صاحب اب اس دنیا سے جا چکے ہیں، جہاں ایک طرف سنجیدہ لوگ دھیرے دھیرے ان کی خدمات کا اعتراف کرنے لگے ہیں، تو وہیں پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے آپ کو "علماء" کہتے ہیں اور عوام کے مابین اپنی شہرت اور مقبولیت کے سبب لوگوں کو مولانا کے فکر سے بدزن کرتے ہیں۔ ان کی حیات میں یہی علماء ان کی کردار کشی کے درپے تھے، اور آج ان کے اس دارِ فانی سے جانے کے بعد بھی ان کے خلاف جھوٹ اور بہتان باندھنے سے باز نہیں آتے دکھائی دیتے۔
اور یہ سب وہ دین کے نام پر کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بہت ہی بڑا اور بہت ہی سنگین جرم ہے۔ کاش کہ یہ لوگ آخرت کی جواب دہی کا احساس رکھتے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی مزاحت نہیں کہ حسد جیسی برائی علماء کی ایک موروثی برائی ہے۔
علماء سے میری مراد علمائے سو ہیں۔ ہمیشہ سے یہ چلا آ رہا ہے کہ ہر مصلحین کے ساتھ وقت کے دینی طبقے کے پیشواؤں نے یہی سلوک کیا ہے۔ کسی سے اگر آپ کو علمی بنیاد پر اختلاف ہوا ہے تو اس کو اختلاف ہی تک محدود رکھنا چاہیے، اسے نزاع اور کردار کشی تک نہیں جانے دینا چاہیے۔ بلاشبہ یہ سنگین جرم ہے۔
اب ہم جائزہ لیں گے کہ آخر ہمارے علماء کے اعتراضات کیا ہیں؟ کیا واقعی ان میں کوئی سچائی بھی ہے یا نہیں؟ مولانا وحید الدین خان پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں: نمبر 1، مولانا وحید الدین خاں اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔ نمبر 2، مولانا وحید الدین ایک متنازع شخصیت ہیں، وہ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔
نمبر 3، مولانا وحید الدین اہل حدیث ہیں، تین طلاق کے حق میں نہیں ہیں۔ نمبر 4، وہ غیر مسلموں کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔ نمبر 5، مولانا جہاد بالسیف کے قائل نہیں۔ نمبر 6، مولانا تبلیغی جماعت کی مخالفت کرتے ہیں۔
نمبر 7، بابری مسجد کے بارے میں مولانا کا موقف دوسرے علماء سے الگ کیوں ہے؟ نمبر 8، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مولانا نے کہا ہے کہ وہ اسوہ حسنہ ہیں، اسوہ کاملہ نہیں۔ نمبر 9، مولانا شاتم رسول کی سزا کے قائل نہیں ہیں۔ نمبر 10، آمدِ مسیح اور دجال کو ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں۔
سب سے پہلے جو چیز سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ مولانا وحید الدین خان دینِ اسلام کے ایک سچے داعی ہیں، اور حقیقی معنی میں اسلام کے مزاج اور اس کی روح سے آشنا ایک عالمِ دین۔ تبھی آپ مولانا کی فکر کو، ان کے مشن کو سمجھ سکتے ہیں۔ ورنہ آپ انہیں اگر دوسرے علماء کی طرح سمجھیں گے تو ان کی باتوں کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یاد رکھیے گا، یاد رکھیے کہ گائے کی غذا گھاس ہے اور شیر کی غذا گوشت، اسی طرح ہر آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ مولانا کو سمجھ سکے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا ذہنی مستوى بلند کرے۔ کنڈیشنڈ ذہن کا آدمی اس قابل نہیں کہ وہ مولانا وحید الدین خان جیسی علمی شخصیت کو سمجھ سکے۔ جو کوئی بھی بلا تعصب مولانا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرے گا، وہ باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مولانا کے دلائل ایسے ہیں کہ اس کا کوئی جواب ہمارے رواجی علماء کے پاس موجود نہیں۔ دلیل کی سطح پر علماء پوری طرح بے بس ہیں۔
مولانا صاحب کی پوری فکر قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ سالوں سے مولانا کی کتابوں کو پڑھنے کے بعد اور ان کی زندگی کو بغور مشاہدہ کرنے کے بعد، میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کی پوری زندگی رسول اور اصحابِ رسول کی زندگی سے تعبیر ہے۔ سادگی، قناعت، صبر و تحمل، خدا کی معرفت، اور آخرت کا انظار—اسی سے مولانا کی پوری زندگی عبارت ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مولانا کے متعلق ایک شخص نے تنزیہ انداز میں کہا تھا کہ "وہ تو آخرت نویسی کرتے ہیں"۔
بلاشبہ یہ بات بالکل درست ہے کہ مولانا کی تمام کتابیں اور ان کی زندگی کے روز و شب اسی سے عبارت ہیں۔ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں۔ خدا کی معرفت، مخلوق کی خیر خواہی—یہی ساری چیزیں مولانا کی کتابوں میں آپ پائیں گے۔
کہنے والے کی یہ بات درست ہے، لیکن بس اسے تنزیہ نہیں بلکہ تعریف میں ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ دراصل معاملہ تو اصل آخرت ہی کا ہے۔ مخلوق کی خیر خواہی میں اپنے آپ کو پگھلا ڈالنا، خدا کی معرفت اور دینِ اسلام کی تبلیغ کے علاوہ، مولانا کو کبھی کسی اور معاملے کے لیے اتنا فکرمند اور بے چین نہیں پایا۔ رسول اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے ہود اور اس جیسی صورتوں نے بوڑھا کر دیا۔
شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَأَخْوَاتُهَا الطبخات الکبریٰ، جلد 1، صفحہ 334۔ بلاشبہ مولانا کی ذات میں آپ اسی فکر و تڑپ کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ خدا کے دین کے سچے داعیوں کو جو اذیت مذہبی گدیوں پر بیٹھنے والوں نے دی ہے، وہ کسی دوسرے نے نہیں دی۔ حضرت مسیح کی زندگی اس کی ایک واضح مثال ہے۔
ویسے یہ دنیا آزمائش کے اصول پر بنی ہے؛ یہاں کھوٹا سکہ چل جا، چل جاتا ہے اور کھرا رہ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مدارس آج کی ایجاد ہیں۔ یہ کوئی دین کا معیار نہیں کہ 8 سال یا 10 سال مدارس میں تعلیم لینے سے انسان خدا کے نزدیک بھی "علامہ" کا لقب پا لے۔ بلاشبہ یہ بالکل غلط تصور ہے۔
میں علمِ دین اور علماء کا مخالف نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ چند چند سال مدرسے میں پڑھ لینے سے کوئی اللہ والا، عالم نہیں ہو جاتا۔ یہ چند سالوں پر مشتمل علم کے ایک کورس کو مکمل کرنا ہے۔ اس سے عملاً دین کے تعلق سے معلومات حاصل ہوتی ہیں، نہ کہ خشیتِ الہی اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ یہ رواجی تعلیم کسی کو خدا کے نزدیک عالم قرار نہیں دے سکتی، اگر اس کے اندر تقویٰ اور محبتِ الہی وغیرہ پیدا نہ ہوئی ہو۔
قرآن پاک کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو علماء وہ ہیں جو خدا کی خشیت میں کانپتے رہتے ہیں۔ فاطر، سورہ نمبر 35، آیت 28۔ ان کے دل ہمیشہ خدا کی یاد سے آباد رہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ دنیا اعتراف اور بے اعترافی کی امتحان گاہ ہے۔
اگر اعتراف کرو گے تو خدا کی جانب سے انعام ہے، اور اگر بے اعترافی کرو گے تو بلاشبہ خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ اب ہم بات کرتے ہیں ان اختلافی موضوعات کی جن کو لے کر کچھ نادانوں نے مولانا کی کردار کشی کرنا چاہی، اور مولانا کے خلاف مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا کیں۔ ان میں سرِ فہرست مولانا پر یہ الزام ہے کہ وہ اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔ نمبر 1۔
پہلا اعتراض: مولانا صاحب امت کے اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔ تو بھائیو، اس امت کا ہر وہ بڑا عالم جو زندہ تھا اور غور و فکر کرتا تھا، وہ اجماع سے ہٹا ہوا کہلاتا تھا۔ ہاں مگر جب وہ مر جاتا تو امام، شیخ الاسلام، اور نہ جانے کیا کیا القابات سے نوازا جاتا۔ مثالیں تاریخ میں موجود ہیں: امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک، اور احمد۔
ان کی تاریخ آپ پڑھ لیں، آپ کو جواب مل جائے گا۔ کیا مولانا وحید الدین خان اجماع سے ہٹے ہوئے تھے؟ علماء عام طور پر عوام کو مولانا وحید الدین خان کے خلاف صرف اسی ایک جملے سے متنفر کرتے ہیں کہ "مولانا اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے یہاں جو محتاط رویہ اختیار کیا جاتا ہے، وہ آپ کو دوسری جگہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ مولانا نے کچھ اکابرین پر تنقیدیں کی ہیں، اور اس کے پیچھے بھی محرک صرف یہ تھا کہ دینِ اسلام کی حقیقی تصویر انسانیت کے سامنے آئے، اور اسلام کا حقیقی چہرہ—جو کہ ان اکابرین کی سیاسی اور جارحانہ تعبیر کے گرد و غبار میں چھپ چکی تھی—وہ چھٹ جائے، اور اسلام کا روشن چہرہ پوری انسانیت دیکھ سکے۔ مولانا کی زندگی کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو صرف انہی کاموں میں مشغول رکھتے، اور انہی امور میں بولتے جہاں کوئی نتیجہ خیز عمل کی امید ہو، ورنہ وہ خاموشی ہی کو ترجیح دیتے تھے۔ اکابرین کے خلاف ان کی تنقیدیں درحقیقت علمی تجزیہ ہوتی تھیں؛ تنقید کے نام پر کسی کی تنقیص کرنا ان کا مسلک تھا ہی نہیں۔ مولانا کی فکر کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مولانا ایک داعی ہیں، اسلام کے سچے داعی۔
دعوتِ اسلام ان کی زندگی کا مشن ہے، جس کے سبب ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں مولانا کی رہنمائی ہمیشہ سے یہی رہی کہ اس ملک میں ہر حالت میں امن برقرار رہنا چاہیے۔ کیونکہ اگر امن نہیں ہوگا تو اس ملک میں دعوت کے مواقع برباد ہو جائیں گے۔ مولانا صاحب کی اسی حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مولانا پہلے شخص ہیں جو غیر مسلموں کے اعلیٰ افراد تک اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ثابت ہوئے۔ اسلام کے متعلق جو غلط فہمی ہندوستان کے غیر مسلم عوام کو لاحق تھی، ان کے ازالے کا ایک بہت بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مولانا کی ذات کو بنایا۔
اللہ تعالیٰ ان کے ان مسائل کو شرف قبولیت بخشے، اور اس ٹیم کو دین کی خدمت کے لیے مزید بہتر کارکردگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ نمبر 2۔ دوسرا اعتراض ہے کہ مولانا وحید الدین خان ایک متنازع شخصیت ہیں، ان کو قبولِ عام وہاں حاصل نہیں۔
میں کہوں گا کہ متنازع ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی سنت ہے۔ کیونکہ داعی کا کام حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ہوتا ہے، اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا، وہ معاشرے میں متنازع ہو کر ہی رہے گا۔ انبیاء کی تاریخ اس کی شاہد ہے۔ نمبر 3۔
تیسرا اعتراض مولانا کے متعلق یہ کیا جاتا ہے کہ مولانا احناف کے مسلک سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے اعتراضات ہی سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے علماء کے یہاں مسالک اور گروہ بندی کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ تو ظاہر ہے کہ جو عالم اتحاد بین المسالک کے ساتھ انسانیت کو جوڑنے کی آواز بلند کرے، وہ ان میں مقبول کیسے ہو سکتا ہے؟ مولانا اس طرح کی باتوں کو ایمانیات میں شمار نہیں کرتے تھے۔
ہاں، مولانا حنفی مسلک کے پیروکار تھے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو باتیں قرآن اور سنت سے غلط ثابت ہو جائیں، اسے صرف اس بنا پر صحیح سمجھیں کہ ان کا مسلک اس کا حکم دیتا ہے۔ تین طلاق کے متعلق سبھی لوگ جانتے ہیں کہ مولانا اس سلسلے میں سلفی مسلک کو زیادہ درست مانتے تھے، کیونکہ موجودہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور دینی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہی مسلک زیادہ راجح نظر آتا ہے۔ اور اسی سبب سے خود مختلف مسلم ممالک نے بھی اب اسی کو اپنایا ہوا ہے، جیسے سعودی عرب، یو اے ای، اور انڈونیشیا وغیرہ نے۔ نمبر 4۔
چوتھا اعتراض یہ کہ مولانا صاحب غیر مسلموں کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ سارے بودہ اعتراضات کی اصل وجہ دعوتی ذہن کا نہ ہونا ہے۔ ورنہ یہ جانتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے میلوں میں کیوں جاتے تھے۔ دعوتِ دین اس امت کا اصل مشن ہے۔
اگر دعوت کا ذہن مفقود ہے تو اس امت کا خیرِ امت ہونا یقیناً مشکوک ہے۔ مولانا ایک داعی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عکاس کے میلے میں جا کر دعوت دیا کرتے تھے۔ لہٰذا دعوت کے لیے جو مواقع ملیں، انہیں اویل کرنا ایک سچے داعی کا کام ہے، اور مولانا یہی کرتے تھے۔ نمبر 5۔
مولانا کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مولانا جہاد بالسیف کے قائل نہیں۔ یہ مولانا پر سراسر ایک الزام ہے، جس کی ہمارے علماء کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں۔ مولانا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جہاد بالسیف اب منسوخ ہو چکا ہے۔ مولانا صرف یہ کہتے ہیں کہ جہاد بالسیف خدا کا عارضی حکم تھا، جبکہ جہاد بالقرآن یعنی دعوت کا کام اسلام کا ایک ابدی حکم ہے۔
دعوتِ دین یا دین کی نسبت سے اب قتال بالسیف عملاً موقوف ہے، حکماً منسوخ نہیں۔ لیکن کون سمجھائے ان نادانوں کو جو کچھ کا کچھ مطلب اپنے ذہن سے نکال لیتے ہیں؟ البتہ یہ درست ہے کہ موجودہ زمانے میں جو لڑائیاں کشمیر، افغانستان، عراق، ایران، اور فلسطین میں لڑی جا رہی ہیں، ان کو مولانا جہاد کا نام نہیں دیتے تھے، بلکہ اسے قومی لڑائیاں شمار کرتے تھے۔ اگر آج مسلمان مولانا کے مشوروں کو قبول کر لیں تو یقیناً ان کے لیے یہ سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔
مگر کچھ لوگوں نے دین کی سیاسی تعبیر کر کے ان خونریز لڑائیوں کو جواز بخش دیا ہے۔ جس سے آخر یہی ہوگا کہ مسلمان مزید سے مزید تر ہلاکت کے گڑھے میں گرتے چلے جائیں گے۔ نمبر 6۔ چھٹا اعتراض مولانا پر یہ ہے کہ مولانا مصلحت کی بنا پر تبلیغی جماعت کے حامی ہیں، ورنہ دراصل تبلیغی جماعت کے مخالف ہیں۔
لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ یا تو کلی طور پر کسی کی موافقت کو جانتے ہیں یا کلی مخالفت کو۔ جبکہ ان کے درمیان ایک تیسری چیز بھی موجود ہے، اور وہ ہے: اچھے پہلوؤں کو سراہنا اور غلطیوں کی نشاندہی کرنا۔ مولانا نے بس یہی کیا۔ وہ مداہنت اور چاپلوسی کے ہنر سے پوری طرح ناواقف تھے۔
ان کا کام صحیح باتوں کا اعتراض کرنا۔ ان کا کام صحیح باتوں کا اعتراف کرنا اور غلط بات کی وضاحت کرنا ہوتا تھا۔ انہیں اپنی ملت، قوم و مسلک سے کہیں زیادہ اسلام کی سربلندی کی فکر رہتی تھی۔ وہ مسلم قوم کے نہیں، اسلام کے ایڈووکیٹ تھے۔
اسی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کو ان کی غلطیوں پر آگاہ کیا۔ انہوں نے کبھی مصلحت کی خاطر قوم کی غلطیوں پر خاموشی نہیں اختیار کی، بلکہ حق اور سچ بولنے کا حق ادا کر دیا۔ اللہ انہیں اس کا بہترین بدلہ عطا کرے۔ مولانا نے تبلیغی تحریک پر جو کتاب لکھی ہے، بلاشبہ وہ خود تبلیغی جماعت کے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے بدرجہا بہتر ہے۔
اور اس کے پڑھنے کے بعد، اور اس کو پڑھنے کے بعد، تبلیغی جماعت کے بارے میں میری اپنی مثبت رائے بنی ہے۔ میں علماء کی اکثریت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ تبلیغی جماعت سے بیزار ہیں۔ دل میں ان کے لیے عناد رکھتے ہیں، لیکن مصلحت کے سبب وہ علماء تبلیغی جماعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ مولانا وحید الدین وہ ہیں جن میں نفاق بالکل نہیں تھا۔
جہاں وہ ایک طرف اس کے اچھے کاموں کو سراہتے ہیں، تو دوسری طرف اس میں جو خرابیاں ہیں، اس کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ اور یہی ایک حقیقی عالمِ دین کا کام ہے۔ نمبر 7۔ ساتواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مولانا کا بابری مسجد کے بارے میں موقف ہمارے علماء کے موقف سے بالکل الگ ہے۔
جی بالکل درست۔ لیکن یہاں پر بھی مولانا کے بارے میں ہمارے قائدین غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ بابری مسجد کے حوالے سے ہندوستانی علماء نے مولانا کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مولانا مسجد کو غیر مسلموں کے سپرد کر دینے کے قائل تھے، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں۔
بابری مسجد کے قضیے میں مولانا کا موقف مختلف مراحل میں مختلف تھا۔ یعنی مولانا کی تجاویز ہر مرحلے میں الگ الگ تھیں۔ مسجد کی شہادت سے پہلے انہوں نے مسلمانوں کو جو مشورہ دیا تھا، وہ یہ تھا کہ ہندوؤں کی طرح مسلمان بھی ثالثی کے فیصلے پر راضی ہو جائیں۔ اس وقت مسلمانوں نے اسے نہیں مانا۔
کاش مسلمان اس پر راضی ہو جاتے تو بہت امید تھی کہ آج حالات ہرگز اس طرح نازک نہ ہوتے، اور مسجد کی مخالفت ہندوؤں کے لیے وقار کا مسئلہ نہ بنتی۔ مگر جب مسجد کو گرا دیا گیا، تب مسلمان اسی ثالثی کے آپشن کی دہائی دینے لگے تھے۔ دہائی دینے لگے تھے۔ لیکن اب وقت گزر چکا تھا۔
مسجد کی شہادت کے بعد مولانا نے مسلمانوں کو صحیح اور غلط کے پیمانے پر نہیں، بلکہ ممکن اور ناممکن کے زاویے سے دیکھتے ہوئے جو مشورہ دیا تھا، وہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح مناسب تھا۔ اور اگر اس وقت اسے مان لیا جاتا تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت بالکل مختلف ہوتی۔ اور بالآخر وہی ہوا جو مولانا نے کہا تھا، اور مسلمانوں نے اسے مجبور ہو کر مانا۔ بابری مسجد کے متعلق اگر مولانا کے موقف کو اپنا لیا جاتا تو مسلمانوں کو اس طرح کی شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو باتیں مولانا نے اس وقت کہی تھیں، جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا، اور جن باتوں کا مولانا نے اس وقت مشورہ دیا تھا، آج وہی مشورہ امت کے علماء دے رہے ہیں۔
نمبر 8۔ مولانا صاحب پر ایک سب سے بڑا اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مولانا نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اسوہ حسنہ سمجھا، نہ کہ اسوہ کاملہ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ مولانا صاحب کے اس جملے پر معترض ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مولانا صاحب کے اس مضمون کو اس کے پورے سیاق کے ساتھ مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم انبیاء کے مابین فرق نہ کریں۔
البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 136۔ 285۔ تمام انبیاء سے رہنمائی حاصل کرنا، اور تمام کو اپنے لیے اسوہ سمجھنا، یہی تعلیم ہمیں قرآن اور اسلام دیتا ہے۔ مولانا نے اسوہ حسنہ اور اسوہ کاملہ کا یہ لفظ استعمال کیا ہے۔
اس کے پیچھے یہی سیاق تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں کو اسوہ سمجھیں، اور جس وقت، جس جس حالات میں، جس نبی کا اسوہ موجود ہو، اس پر عمل پیرا ہوں۔ بس اتنی سی بات تھی۔ ایک سیدھی سی بات کو علماء نے کیا سے کیا معنی پہنا دیا۔ اگر انسان موش گافیاں تلاش کرنے کو ہی اپنا مشغلہ بنا لے تو اسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ہے؟
ایسے لوگوں کو مولانا کا وہ جملہ پڑھنا چاہیے جو مولانا نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں لکھا ہے۔ مولانا نے اپنی کتاب عظمتِ اسلام میں لکھا ہے: "پیغمبر صرف پیغام رساں نہیں ہوتا، اسی کے ساتھ وہ لوگوں کے لیے نمونہ عمل بھی ہوتا ہے"۔ جس کو قرآن میں اسوہ الاحزاب، سورہ نمبر 33، آیت 21 کہا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہر قسم کے حالات آپ کے اوپر گزریں، تاکہ آپ ہر اعتبار سے ساری انسانیت کے لیے نمونہ بن سکیں۔
چنانچہ سیرت اور حدیث کی کتابیں بتاتی ہیں کہ واقعتاً ایسا ہی ہوا۔ آپ کی زندگی ہر قسم کے واقعات سے بھری ہوئی زندگی ہے۔ ہر صورتحال اور ہر موڑ کے لیے آپ کی زندگی میں نمونہ موجود ہے۔ صفحہ 106۔
آپ نے اپنی عملی زندگی سے یہ بتایا ہے کہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی، یعنی سپریم سکسیس، حاصل کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ آپ کی حیثیت ایک ابدی رہنما کی ہے۔ صفحہ 115۔ اسی طرح مولانا ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت اتنی بلند تھی کہ اگر آپ پیدا نہ ہوتے تو تاریخ کو لکھنا پڑتا کہ اس طرح کا انسان نہ کوئی پیدا ہوا ہے، نہ ہو سکتا ہے۔
مولانا کے اسوہ حسنہ اور کاملہ کے جملے سے مقصود صرف اور صرف یہ تھا کہ رسول اللہ ہی کی طرح تمام پیغمبروں میں ہمارے لیے دعوتی نمونے موجود ہیں۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ حکم دیتا ہے: "تم ان کی پیروی کرو"۔ قرآن میں ہے: "فَبِهُدَاهُ مُقْتَدِينَ"۔ سورہ نمبر 6، آیت 90۔
اسی طرح الرسالہ فروری 2013 میں مولانا نے اسوہ رسول کے عنوان سے لکھا ہے: "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل اسوہ بااعتبار فہرست"۔ یعنی ان ٹرمز آف لیسٹ نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ آج پیش آنے والے ہر واقعے کے لیے ڈائریکٹ طور پر رسول اللہ کی زندگی میں نمونہ مل جائے۔ بلکہ وہ بااعتبارِ انطباق، یعنی ان ٹرمز آف اپلیکیشن ہے۔
یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ ابن جبل کو بطور عامل یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے معاذ ابن جبل سے پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ؟
انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں اور اللہ کی کتاب میں بھی نہ پاؤ؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ اجتہاد و رائے، ولا آلو۔
رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے فرستادے کو اس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے۔ سورہ نبی داؤد، حدیث نمبر 3592۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ ابن جبل کو اعتماد تھا کہ وہ سنتِ رسول کے ذریعے تمام پیش آمدہ معاملات کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ اس اعتبار سے نہ تھا کہ سنت بااعتبارِ فہرست ایک مکمل فہرست ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ معلوم فہرست پر اجتہاد کا اضافہ کر کے وہ اس کو مکمل کر سکتے ہیں۔
اس روایت سے جو اصول دریافت ہوتا ہے وہ یہ ہے: سنت پلس اجتہاد برابر ہے کامل اسوہ رسول کے۔ سنہ پلس اجتہاد از ایکول ٹو اسوہ کاملہ۔ نمبر 9۔ مولانا پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے، یا کہوں کہ مولانا کی ایک مشہور کتاب شتمِ رسول کے مسئلے پر کیا جاتا ہے۔
وہ ہے شاتمِ رسول کی سزا۔ میں اس بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ مولانا کی ویسے تو تمام کتابیں ایک شاہکار ہیں، لیکن اگر ان میں بھی کچھ کتابوں کو منتخب کیا جائے تو بلاشبہ مولانا کی یہ کتاب مستقبل میں ایک ریفرنس بک شمار کی جائے گی۔ مولانا نے اس میں بہت ہی عمدہ طریقے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی معاشرہ جبر کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام آزادیِ رائے کا پورا احترام کرتا ہے۔
صرف احترام ہی نہیں، بلکہ آزادیِ رائے کو معاشرے میں فروغ دیتا ہے۔ گستاخیِ رسول کے نام پر قتل کرنا بلاشبہ نبیِ رحمت کا طریقہ نہیں۔ محمد ابن عبداللہ تو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ عبداللہ بن ابی جیسا گستاخِ رسول بلاشبہ سزا کا مستحق تھا۔
لیکن حضور کی جانب سے جس سلوک کا سزاوار بنا، ایک مرتبہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا: "لنحسنن صحبتہ ما دام بین اظہرنا"۔ الطبخات الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 50۔ یعنی جب تک وہ ہمارے درمیان ہے، ہم ضرور ضرور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کریں گے۔ اسلام میں شتم بحث و مباحثے کا موضوع ہے، ڈائیلاگ کا موضوع ہے، نہ کہ قتل و سزا کا۔
یہی سب مٹا، یہی سب مٹانے کے لیے ہی تو اسلام آیا تھا۔ لیکن افسوس مسلمانوں پر کہ جوں جوں مسلمان اپنی علمی کمی کی بنا پر دلائل میں کمزور ہوتے جا رہے ہیں، ان کے یہاں اس طرح کا تشدد اور غلو پنپتا جا رہا ہے۔ نمبر 10۔ مولانا پر کیے جانے والے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ مولانا مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی اور دجال کو بھی ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں۔
تو بھائی جان، کم از کم مولانا ان احادیث، ان حدیث کا علمی تجزیہ کر کے ایک معقول تاویل تو پیش کرتے ہیں۔ ویسے بھی یہ چیزیں ایمانیات کا حصہ نہیں ہیں۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 3435۔ چلو مان لیا کہ مولانا مسیح علیہ السلام کی جسمانی آمد کے قائل نہیں، لیکن آپ ان علماء کے بارے میں کیا کہیں گے جو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس قبیل کی ایک بھی حدیث صحیح نہیں؟
بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے چلے جانے کے 300 سال بعد امت میں پھیلیں۔ اور ایسا کہنے والے اس امت کے بڑے بڑے علماء ہیں۔ لہٰذا اگر دیکھا جائے تو اس معاملے میں مولانا کا معاملہ بالکل محتاط ہے۔ دوستو، اگر ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں، فرقہ واریت چھوڑیں، اور علمی اختلافات کو حسن سمجھیں، نہ کہ وبال، اور علمی اختلافات کو حسن سمجھیں، حسن سمجھیں، نہ کہ وبال، آج ضرورت ہے کہ مولانا وحید الدین صاحب کی فکر کو لوگوں تک پہنچایا جائے، دعوت کا شعور مسلمانوں میں پھر سے زندہ کیا جائے۔
مسئلہ کشمیر، انارسی، اور سی اے اے۔ مولانا وحید الدین خان ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی مدبر بھی تھے۔ اگرچہ بہت سے لوگ مولانا کو اس زاویے سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ مولانا کی خوبی صرف اچھی باتیں کرنے میں نہیں تھی، بلکہ وہ مسائل کی جڑ کو جاننے کی کوشش کرتے اور پھر اس کا حل تجویز کرتے تھے۔
وہ ہمیشہ حقیقت پسندی کی زمین پر کھڑے رہتے تھے۔ بلاشبہ یہی وہ حکمتِ خداوندی تھی جس کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ جسے حکمت دی گئی، اسے خیرِ کثیر دے دیا گیا۔ البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 269۔ مولانا نے شروع ہی سے اہلِ کشمیر کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ تشدد کا راستہ مکمل طور پر چھوڑ دیں اور ہندوستان سے الحاق کو دل کی رضامندی سے قبول کر لیں۔
مولانا نے کہا تھا کہ کشمیریوں کے پاس صرف دو ہی آپشنز ہیں: پہلا یہ کہ انڈیا سے الحاق پر راضی ہوتے ہوئے تعلیم و تجارت کے میدان میں ترقی کرتے چلے جائیں، اور دوسرا یہ کہ تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو مزید ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیں۔ اور آج حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اتنی قربانیوں کے باوجود آج کشمیر کے حالات بد سے بھی بدتر ہیں۔ کاش کہ کشمیریوں نے مولانا کی تجویز کو قبول کر لیا ہوتا تو آج ان کو یہ حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
مولانا کا ایک واقعہ آپ کے سامنے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ والوں کا ردعمل پریشان کن حالات میں کیسا ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں انارسی اور سی اے اے کے معاملے کو لے کر مسلمان کافی خوفزدہ ہیں۔ وہی جلسے جلوس اور احتجاجات، اور احتجاجات کی فضا خوب چل رہی تھی، جو فی الحال کووڈ کی وجہ سے تھم چکی ہے۔ بہرحال، مولانا سے انارسی اور سی اے اے کے متعلق مشورہ چاہا کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟
مولانا نے بالکل خاموشی کے ساتھ یہ جواب دیا کہ یہ ملک اور اس کی نعمتیں تمہیں دینے والا خدا ہے۔ تو جو چیز خدا نے دی ہے، تو اسے چھیننے کا حق بھی صرف اور صرف خدا کو ہی ہے۔ کوئی اور اسے ہرگز چھین نہیں سکتا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔
صرف اپنے وطنی بھائیوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں۔ ان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کریں۔ یقین جانیے، یہ سب معاملے یوں ہی ختم ہو جائیں گے۔ یقیناً اسی کو کہتے ہیں حکمت۔
خدا کی عنایت سے ایک مومن ان چیزوں کو جان لیتا ہے جسے دوسرے لوگ کبھی جان نہیں سکتے۔ مولانا کی یہ بات حتمی ہے۔ یقیناً ان چیزوں سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ماضی کے پہیے کو کبھی بھی ریورس گیئر میں گھمایا نہیں جا سکتا، مگر یہ کہ مسلمان پھر سے ابیل مجھے مار والی پالیسی اپنائیں۔
ورنہ اس طرح کی چیزیں خود بخود مٹ جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ڈرنے کا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم الشان ذمہ داری کو کرنے کا کام ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو سونپی ہے۔ اور وہ ہے دعوت الی اللہ کا مشن۔ مولانا کی وہ صفت جس نے مولانا کو لاکھوں انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا، وہ تھی پوری انسانیت کی فلاح کے لیے ان کی کڑھن۔
وہ صرف ذہین انسان نہیں، بلکہ وہ ایک نہایت متقی انسان تھے۔ اور اسی تقویٰ کی بنا پر اللہ نے ان پر اپنی حکمت کے سرے کھول دیے تھے۔ آج کوئی بھی معقول آدمی مولانا کو پڑھ کر متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ ان کی باتوں میں جس طرح کا وضوح، مسائل کا استدراک، اور ہر ایک واقعے سے عبرت خیزی کا انوکھا انداز، یقیناً خدا کی عطا کے بنا، یقیناً خدا کی عطا کے بنانا ممکن ہے۔
مسائل کا استدراک اور ہر ایک واقعے سے عبرت خیزی کا انوکھا انداز، یقیناً خدا کی عطا کے بنا ناممکن ہے۔ مولانا دعا اورینٹڈ انسان تھے۔ وہ ہر وقت دعا میں رہتے تھے۔ اور ہم ساتھ، ہم تمام ساتھیوں کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔
مجھے اب بھی یاد ہے کہ 2019 میں میں جب دہلی قرآن کانفرنس میں شریک ہوا تو مولانا جس وقت تشریف لائے، ان کی زبان سے سب سے پہلا لفظ جو نکلا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت نصیب کرے۔ آج مولانا اپنے کریم خدا کے سامنے حاضر ہو چکے ہیں۔ رب کریم مولانا پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے لیے اس اس کار خیر کو ان کی بلندی درجات کا ذریعہ بنائے اور ہمیں کامل بصیرت کے ساتھ دعوت الی اللہ کے اس خدائی مشن میں اپنا بھرپور کنٹریبیوشن کرنے والا بنائے۔ آمین۔
کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 275۔