مولانا کی تحریریں میری نظر میں: محمد ندیم ندوی، مظفر نگر۔ مولانا کے متعلق پہلا تعارف لکھنؤ میں دورانِ تعلیم ہوا۔ یہ تعارف منفی تھا۔ دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے ندوے کی لائبریری میں "پیغمبر انقلاب" کا مطالعہ کیا۔
اس کتاب نے میرے زاویۂ فکر کو تبدیل کر دیا۔ یعنی یہ معاملہ قدیم اسلوبِ تحریر اور عصری اسلوبِ تحریر کا ہے، منفی ہونے کا معاملہ نہیں ہے۔ پھر میں نے مولانا کی کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مولانا کی کتابوں کے متعلق تاثرات کو میں چند نکات کی روشنی میں رکھوں گا۔
نمبر 1: علمی تنقید زندہ قوم کی علامت اور اس کی بقا کا ذریعہ ہے، اور تعمیرِ ملت کا لازمی جز ہے۔ یہ چیز آپ کو مولانا کی تحریروں میں جا بجا نظر آئے گی، خصوصاً "شتم رسول کا مسئلہ" نامی کتاب میں علمی تنقید کا اعلیٰ نمونہ موجود ہے۔ نمبر 2: مولانا نے ثابت کیا کہ کیسے ہم موجودہ مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر علما پچھلی صدیوں ہی میں گم نظر آئے نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں مولانا کی کتاب "مسائل اجتہاد" بہت اچھی کتاب ہے۔
نمبر 3: مولانا کی تحریروں سے انسان کے اندر تعمیری صلاحیت اور عملی جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو تعمیرِ انسانیت کے لیے ناگزیر ہے۔ جیسے "رازِ حیات" اور "نشری تقریریں" کے بعض خطبات۔ ان کتابوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا مولانا ایک موٹیویشنل آرٹ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ نمبر 4: ہندوستان کے مسائل پر مولانا نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ اپنی نظیر آپ ہے، اور ہر محبِ وطن کے لیے اس کا مطالعہ لازمی ہے۔
اس سلسلے میں مولانا کی "ہند پاک ڈائری" اور "ہندوستانی مسلمان" بہت عمدہ کتابیں ہیں۔ نمبر 5: مولانا کی تحریریں معرفتِ الہی کا ذریعہ بنتی ہیں اور بندے کا رب سے تعلق مضبوط کرتی ہیں۔ یہ چیز مولانا کی کتاب "معرفت" اور "اللہ اکبر" میں نمایاں ہے۔ نمبر 6: مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ خارجی سیاست سے پہلے داخلی سیاست، یعنی اصلاح، لازمی ہے، جو مشکل امر ہے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ گزشتہ صدی میں اسلام کے نام پر جتنی تحریکیں وجود میں آئیں، ان کا تعلق خارجی سیاست سے تھا۔ انہوں نے اصلاحِ بین المسلمین کی کوشش نہیں کی، اس سے صرف تبلیغی جماعت کو مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کی کتاب "قیادت نامہ: تصویرِ ملت" ایک نشانِ راہ کا کام کرتی ہے۔ نمبر 7: مولانا کی تحریروں کا مرکزی نقطہ، جس کے لیے مولانا نے ساری زندگی وقف کی تھی، وہ یہ تھا کہ امت کو اس کا فرضِ منصبی یاد دلایا جائے تاکہ مسلمان اللہ کی امانت لوگوں تک پہنچائیں۔
لوگوں کو اللہ کا تعارف کرائیں، جس کے متعلق یہ امت مجرمانہ غفلت میں پڑی ہوئی تھی۔ اس موضوع پر مولانا نے بہت کام کیا، جن میں سے چند کتابیں یہ ہیں: "دورِ دعوت"، "اسلامی دعوت"، "دعوتِ اسلام"، "حل یہاں ہے" وغیرہ۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 273۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.