Maulana Wahiduddin Khan
33 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Mughalaton ka Jayeza

Urdu · 33 min

مغالطوں کا جائزہ، پروفیسر ابو عریب، کرناٹک۔ انسان کی اصلاح کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے، کیونکہ خدا نے انسان کو بااختیار مخلوق کی حیثیت سے پیدا فرمایا ہے۔ اس بنا پر آدمی سرکشی اور اطاعت دونوں قسم کے رویّوں کا اظہار کرتا ہے۔ اپنی شخصیت کو آخری حد تک چھپانے کی کوشش کرتا ہے، خاص طور پر سچائی کے مقابلے میں ہر قسم کی غلط روش اختیار کرتا ہے۔

یہ سلسلہ نبیوں کے زمانے سے آج تک کے مصلحین کے ساتھ بھی جاری ہے۔ استہزا، عیب نکالنا، الزام تراشی کرنا، شوشہ نکالنا وغیرہ۔ صاحبِ رسالہ بھی وقت کے ایک مصلح انسان تھے، ان کے معاصرین نے بھی وہ تمام حربے مولانا کے خلاف استعمال کیے جو ماضی کی تاریخ میں مصلحین کے ساتھ کیے گئے تھے۔ میں نے اس قسم کے بعض الزامات اور مغالطوں کا جائزہ لے کر ان کی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ قارئین کو کوئی بات دعوت الی اللہ سے نہ پھیر سکے۔

نمبر 1: برنامجونہ اعداد المبرمجین۔ تحریکیں دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک خارج رخی تحریک اور دوسرے داخل رخی تحریک۔ اول الذکر تحریک کا نشانہ کسی خارجی ڈھانچے کو بدلنا ہوتا ہے، جیسے معاشرتی، معاشی یا سیاسی نظام کو بدل کر اس کی جگہ دوسرا نظام قائم کرنا۔ ثانی الذکر تحریک کا مقصد کسی خارجی ڈھانچے کی شکست و ریخت نہیں ہوتا، بلکہ ایسی تحریک انسان کو اس کے داخل سے مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتی ہے، جس کے سہارے تمام خارجی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔

اسی لیے ایسی تحریک فرد کو خارجی سطح پر متحرک کرنے کے بجائے اس کے باطن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ اس سے زیادہ دور رس اور گہری نوعیت کی تبدیلی لائی جا سکے۔ الرسالہ تحریک بھی انسان کی داخلی شخصیت میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے اٹھی تھی۔ ظاہر ہے، ایسی تحریک کو جو ایک زوال یافتہ قوم کے انسانی جمود کو توڑنے کے لیے اٹھی ہو، اسے انتہائی صبر کے ساتھ، ایک طویل مدت تک تزکیہ و تربیت کے ذریعے افراد سازی میں لگے رہنا ضروری تھا۔ اسی لیے الرسالے کے اجراء سے لے کر قیام سی پی ایس انٹرنیشنل تک، یعنی 1976 عیسوی سے 2001 عیسوی تک کا زمانہ، افکارِ الرسالہ کا گویا دورِ تیاری، یعنی پریپریٹری پیریڈ تھا۔

اس زمانے میں مولانا کے کام کا طریقہ یہ رہا کہ الرسالہ اور دیگر شائع شدہ کتب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلایا جائے، تاکہ اس ذہن سازی کے ذریعے مطلوبہ افرادِ کار کی ایک ایسی ٹیم وجود میں آ جائے جو اپنی ذات میں پروگرام ساز ہوں۔ اسی لیے مولانا نے ایک عرصے تک نہ کوئی تنظیمی ڈھانچہ بنایا اور نہ ہی کوئی خارجی پروگرام دیا۔ اس روایتی طریقے کو ترک کرنے کی اور بھی کئی اہم وجوہات تھیں، چونکہ یہی چیز آگے چل کر بہت جلد ایک نئی جماعت اور ایک نئے فرقے کے وجود میں آنے کا سبب بن جاتی ہے، اور پھر ایک زوال یافتہ قوم سے کسی تعمیری کام کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کی اچھی طرح تربیت نہ کی جائے۔ ورنہ ایسے افراد کسی تنظیم کی تنزل و بربادی میں اضافے کا سبب تو ضرور بن سکتے ہیں، نہ کہ اس کی تعمیر و ترقی میں اضافے کا ذریعہ۔

مولانا کا یہ انداز روایتی ذہن اور سطحی سوچ رکھنے والوں کی سمجھ میں نہ آ سکا، چنانچہ اس بات کو عوام و خواص میں اس طرح مشہور کیا گیا کہ مولانا کے پاس الرسالہ اور لٹریچر کے سوا کوئی عملی پروگرام نہیں ہے۔ یعنی ان لوگوں کے نزدیک غیر تربیت یافتہ افراد کو لے کر عملی پروگرام کے نام پر خارجی ہنگامہ کھڑا کرنا گویا کام تھا، اور لٹریچر کے ذریعے خاموشی سے تزکیہ و تربیت اور تعمیر و اصلاحِ فرد میں ایک وقت تک لگے رہنا کوئی کام ہی نہیں تھا۔ اس بات کو ہر طرف پھیلا دیا گیا، چنانچہ ہندوستان سے لے کر عرب ممالک تک ہر جگہ مولانا سے ایک سوال ضرور کیا گیا، وہ یہ کہ آپ کا پروگرام کیا ہے؟ اس کے جواب میں مولانا نے وہ جملہ کہا جو بہت مشہور ہوا: "برنامجونہ اعداد المبرمجین" یعنی ہمارا پروگرام ہے پروگرام ساز افراد کو تیار کرنا۔

وقت کے روایتی ڈھانچے میں کھڑے ہو کر دیکھنے والوں کو یہ جواب سمجھ میں نہیں آ سکتا تھا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاہم اس سے قطع نظر جو اعتراض کیا گیا، اس جملے پر ایک اور رخ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس جملے کو دوبارہ دیکھیے: مولانا کے پاس صرف الرسالہ اور لٹریچر ہے، کوئی عملی پروگرام نہیں ہے۔ اس جملے میں بہت بڑا بالواسطہ اعتراف موجود ہے، گویا وہ یہ اقرار کر رہے ہیں کہ فکرِ رسالے میں تو کوئی ایسی بات نہیں ملتی جو قابلِ گرفت ہو، یا جس کو عقلی یا نقلی دلائل سے غلط ثابت کیا جا سکے۔

قابلِ اعتراض بات بس یہ ہے کہ کوئی عملی پروگرام مولانا کے پاس ہمیں نظر نہیں آتا۔ یہ جملہ کہہ کر گویا وہ الرسالے کی صحتِ فکر کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ جملہ اعتراف ہے، نہ کہ جملہ اعتراض۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کچھ نادان لوگوں نے اس کو اعتراض سمجھ کر پھیلا دیا۔

نمبر 2: القرآن مشن۔ دوسرا مغالطہ بعض احباب کو اس وقت پیش آیا جب القرآن مشن کا آغاز ہوا، قرآن کے انگریزی ترجمے کی اشاعت کے فوری بعد، 2010 عیسوی میں القرآن مشن کی شروعات ہوئی۔ اس کا خاص مقصد حدیثِ رسول میں کی گئی ادخالِ کلمے کی پیشنگوئی کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ چنانچہ مولانا نے اپنی ساری توانائی اور توجہ کے ساتھ پوری سی پی ایس ٹیم کو اس کام پر لگایا۔

اس کے لیے ہندوستان کے مختلف شہروں میں کئی دعویٰ میٹ منعقد ہوئے، جیسے دہلی، حیدرآباد، بنگلور اور ممبئی وغیرہ۔ ان دعویٰ میٹس کا خاص مقصد دعوت الی اللہ کی اہمیت اور ٹیم اسپرٹ کو سی پی ایس ممبران میں پیدا کرنا تھا، تاکہ قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے سب متحرک ہو جائیں۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مولانا نے اسلامی مرکز کے تاسیسِ مقصد، یعنی علمی و تحقیقی کام سے ہٹا کر ساری ٹیم کو بس قرآن کی تقسیم، یعنی قرآن ڈسٹریبیوشن پر لگا دیا۔ جن افراد کو یہ اشکال پیش آیا، انہوں نے میرے سامنے جب ذکر کیا تو ذہن کے حافظے میں یہ بات رہ گئی، اور ذہن مسلسل اس پر سوچنے لگا۔

علمی و تحقیقی کام پر مولانا نے کہاں لکھا ہے؟ یہ سوچتے ہوئے یاد آیا کہ مولانا نے اپنی کتاب "تجدید دین" کے باب "علومِ اسلامی" کی تدوین کے تحت اس سلسلے میں کچھ لکھا ہے۔ فوراً تجدید دین کا متعلقہ باب دوبارہ پڑھا، اور جب فہرست تدوینِ علومِ اسلامی کو بغور دیکھا تو حیرت و اطمینان کی کیفیات سے دوچار ہوا۔ اطمینان اس بات کا کہ مجھے اس اشکال کا جواب مل چکا تھا، اور حیرت کی پہلی وجہ یہ تھی کہ بارہا اس فہرست کو میں نے دیکھا ہے، مگر پہلا نکتہ ہی یاد نہ تھا۔

دوسری وجہ یہ ہوئی کہ سن 1983 عیسوی میں پہلی بار تجدید دین شائع ہوئی تھی، جبکہ سی پی ایس اور القرآن مشن کا کوئی وجود بھی نہ تھا۔ گویا اس وقت مولانا نے جس علمی و عملی کام کا نقشہ بنایا تھا، ٹھیک اسی پروگرام کے تحت مولانا کام کر رہے تھے۔ اس فہرست کے مطابق سب سے پہلے جو کام کرنا ہے، وہ درج ذیل ہے: غیر عربی دانوں کے لیے قرآن پاک کے تراجم بغیر تفسیر شائع کرنا، مختلف زبانوں میں۔ اسی وقت مولانا نے یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ پہلا کام تراجمِ قرآن کی اشاعت کا کام ہے۔

ڈسٹریبیوشن کا عمل بھی اشاعت ہی کا کام ہے۔ ظاہر ہے، یہ اشاعت دعوتی تقاضوں کو پورا کرنے ہی کے لیے مطلوب تھی۔ جب ترجمہ اور اشاعت کا کام ہو چکا تو اس کو خدا کے بندوں تک پہنچانا ہی سب سے اولین تقاضا ہوگا۔ اور پھر اس کام کی نوعیت بھی ذہن میں رہے کہ دنیا کے تقریباً 6 بلین انسانوں تک قرآن کو ان کی قابلِ فہم زبان میں پہنچانا ہے۔

گویا کام تو عین اپنے پروگرام اور مقصد کے تحت ہی ہو رہا ہے، نہ کہ مقصد سے ہٹ کر کیا جا رہا ہے۔ اور پھر قرآن ڈسٹریبیوشن کو دعوتی کام نہ سمجھنا دعوت الی اللہ کی تصغیر ہے۔ نمبر 3: مسیح کی آمدِ ثانی اور مولانا کا موقف۔ تیسرا مغالطہ لوگوں کو اس وقت ہوا جب مولانا نے مسیح کی آمدِ ثانی کی احادیث کی قابلِ فہم تاویل کرنے کی کوشش کی۔

اس مسئلے کو لے کر مسلمانوں میں بہت سی بے اصل باتیں مشہور ہو چکی ہیں، جیسے دوبارہ آسمان سے ایک خاص شہر اور ایک خاص جگہ پر مسیح کا جسمانی نزول ہوگا، وہ دجال کو قتل کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ قدیم و جدید دور کے ممتاز اہلِ علم نے مسیح کے جسمانی نزول کا انکار کیا ہے، جیسے جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہ، سید رشید رضا، مولانا عبیداللہ سندھی، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، جاوید احمد غامدی وغیرہ۔ اس سلسلے میں مولانا نے جو لکھا ہے، وہ ملاحظہ ہو: مصر کے مشہور عالم محمد ابن احمد ابو زہرا نے نزولِ مسیح کی تمام روایات کو "اخبارِ احاط" کہا ہے، اور وہ متواتر نہیں ہیں، اور پہلی تین صدیوں کے بعد عوام میں مشہور ہوئی ہیں۔ الرسالہ، جولائی 2008، صفحہ 8۔

اس طرح کے معاملات میں جب کوئی تاویل سجھائی نہ دے رہی ہو تو اہلِ علم کو دو طرفہ مشکل پیش آتی ہے۔ ان "اخبارِ احاط" کو مان کر ایک ایسی بات کو تسلیم کیا جائے جو نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ عقل اسے قبول کر سکتی ہے، یا ان احادیث کا انکار کیا جائے۔ اس کشمکش سے ہر صاحبِ علم کو سابقہ پڑتا ہے۔ اس کشمکش سے نکلنے کی جستجو اور ایسی تاویل کی تلاش ہمیشہ مطلوب ہوتی ہے جو عقل اور قلب دونوں کے لیے اطمینان بخش ہو۔

جن اخبارِ احاط میں مسیح کی آمدِ ثانی کا ذکر ہوا ہے، ان کی بہترین تاویل کرنے کی مولانا نے دو طرح سے کوشش کی ہے: ایک وہ جو کتابچہ قیامت کا علام میں موجود ہے، ملاحظہ ہو۔ ایک اعتبار سے ظاہر ہونے والا شخص امتِ محمدی کا ایک فرد ہوگا، اس اعتبار سے اس کو رجولِ مومن کہا گیا۔ دوسرے اعتبار سے وہ گمراہی کے عمومی اندھیرے میں ہدایت کی روشنی کو مکمل طور پر دریافت کرے گا۔ اس اعتبار سے اس کو مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا شخص۔

ایک اور اعتبار سے وہ شخص امتِ محمدی کے آخری زمانے میں وہی رول ادا کرے گا جو امتِ یہود کے آخری زمانے میں حضرت مسیح نے انجام دیا تھا۔ گویا کہ یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے تین پہلوؤں کو بتاتے ہیں، نہ کہ الگ الگ تین مختلف شخصیتوں کو۔ قیامت کا علام، صفحہ 45۔ دوسری تاویل وہ ہے جو مضمون "مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی" میں لکھا ہے، ملاحظہ ہو۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں کا زمانہ نبوت۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں کا زمانہ نبوت قیامت تک ہے۔ اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طور پر آنا ناقابلِ فہم بات ہے۔ اس لیے ان روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی، وہ مسیح کی آمدِ ثانی نہیں ہے، بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمدِ ثانی ہے۔

یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابلِ انطباق، یعنی اپلیکیبل بن جائے گا۔ الرسالہ، جون 2008، صفحہ 5۔ حیدرآباد دعویٰ میٹ میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک نشست میں مولانا نے فرمایا کہ دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح پیغمبرِ امن ہیں جس طرح پیغمبر مسیح کو سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے یہاں بھی پرامن ماڈل پوری طرح موجود ہے، مگر بعد کے ادوار میں امتِ محمدی جہادی ماڈل بمعنی خطال سے اس قدر کنڈیشن ہو جائے گی کہ وہ آپ کے پرامن ماڈل کو دریافت کرنے سے عمومی طور پر خاصر رہے گی۔

غالباً اس دور میں جو چیز واقع ہوگی، وہ یہ کہ پرامن طریقہ کار۔ غالباً اس دور میں جو چیز واقع ہوگی، وہ یہ کہ پرامن طریقہ کار ہی قابلِ عمل ہوگا۔ اسی بات کو حدیث میں تمثیل کی زبان میں "مسیح کی آمدِ ثانی" کہا گیا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ مسیح کی آمدِ ثانی کا عقیدہ، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اخبارِ احاط اور اسلامی لٹریچر میں پہلے سے موجود ہے۔

اور اس مسئلے کی مولانا نے جو قابلِ فہم تاویل پیش کی ہے، اس تاویل کو ماننا لازمی نہیں ہے۔ اس مسئلے میں آپ کے اور ہمارے لیے اب جو انتخاب ہے، وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح کا آسمان سے جسمانی نزولِ ثانی مانیں یا ان اخبارِ احاط کا انکار کریں۔ تیسرے یہ کہ مولانا کی پیش کردہ قابلِ فہم تاویل کو مانیں۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس معاملے میں اپنے آپ کو کس گروہ کے ساتھ بریکٹ کرنا پسند کرتے ہیں۔

نمبر 4: آر ایس ایس، بی جے پی اور مولانا۔ چوتھا مغالطہ یہ ہوا کہ مولانا بی جے پی اور آر ایس ایس سے ملے ہوئے ہیں۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو محض ان کے غیر داعیانہ مزاج کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مسلمانوں میں داعیانہ مزاج ہوتا تو ان کے اندر انسانوں سے خیرخواہی کا مزاج ہوتا۔

وہ مدعو سے ملاقات کو غنیمت سمجھتے۔ مدعو کی تالیفِ قلب کرتے ہوئے دین کا پیغام ان تک پہنچانے کے مواقع تلاش کرتے۔ مولانا کے اندر خالص داعیانہ مزاج تھا۔ جہاں بھی مدعو کے سامنے اپنی بات پیش کرنے کا موقع ملتا، وہاں پہنچ جاتے تھے۔

جیسا کہ مولانا نے وضاحت کی ہے۔ ہندوستان میں غیر مسلم دو طرح کے ہیں: ایک "نو پرابلم" یعنی سیکولر طبقہ، اور دوسرا "پرابلم" طبقہ۔ مسلمان یہ کرتے ہیں کہ نو پرابلم طبقے کے لوگوں سے مل کر جلسے اور پروگرام کرتے ہیں تاکہ ان کی تائید حاصل کر سکیں۔ اس سے ہمارا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔

مولانا نے انتہائی حکمت سے پرابلم گروہ میں کام کیا، اور ان کے ذہن سے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔ ملاحظہ ہو، اور آخرِ حیات، صفحہ 824 تا 825۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ محمد علی جناح کی قیادت میں تقسیم کی تحریک چلا کر مسلمانانِ ہند نے ہندوستان میں رہنے کا اخلاقی جواز کھو دیا تھا، کھو دیا ہوتا۔ اگر دو مسلم رہنما موجود نہ ہوتے، ایک مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے مولانا حسین احمد مدنی، بشمول جمیعت العلماء ہند، دونوں کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں سر اٹھا کر ہندوستان میں رہنے کا اخلاقی جواز فراہم کیا۔

دونوں نے مذہبی بنیاد پر تقسیمِ ہند اور دو قومی نظریے کی پرزور مخالفت کی۔ قومی یکجہتی اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور اپنا حصہ ادا کیا۔ مگر بدقسمتی سے آزادی کے بعد جتنے بھی مسلمانوں کے لیڈر و رہنما پیدا ہوئے، سید شہاب الدین سے لے کر موجودہ رہنماؤں تک، سب مسٹر جناح کا تسلسل ثابت ہوئے ہیں، سوائے دو کے: ایک مولانا وحید الدین خان اور دوسرے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام۔ جدید ہندوستان میں ملک اور قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی خدمات و تعاون، یعنی کریڈیبلٹی اینڈ کنٹریبیوشن، کسی بھی درجے میں مولانا آزاد اور مولانا مدنی کی خدمات سے کم نہیں ہیں۔

دونوں نے برادرانِ وطن کی نظروں میں مسلمانانِ ہند کے وقار کو بلند اور وفاداری کو غیر مشکوک بنایا۔ نمبر 5: کشمیر و فلسطین اور مولانا کا موقف۔ کشمیر کا مسئلہ بھی غیر داعیانہ ذہن کی پیداوار ہے۔ مولانا اس مسئلے کو ایک داعی کی طرح دیکھتے تھے۔

مولانا جس کشمیر کا تصور کرتے تھے، اس کا خاکہ شاید کچھ اس طرح تھا: کشمیر کو خدا نے بے پناہ سیاحتی کشش رکھنے والا خوبصورت قدرتی مناظر کا مرکز اور مخصوص پلاننگ کے تحت ایک مسلم اکثریتی علاقہ بنایا، تاکہ دنیا بھر سے سیاح وہاں آئیں اور کشمیر ایک بہت بڑا عالمی دعوتی مرکز بن جائے۔ کشمیری اس منصوبۂ خداوندی کو سمجھتے اور مکمل طور پر پرامن دعوتی کام میں اپنے آپ کو لگاتے ہوئے ہر سیاح کو قرآن پہنچاتے رہتے، تو نہ صرف یہ کہ بہت بڑا دعوتی کام ہوتا، بلکہ اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں میں خدا کی خصوصی مدد و نصرت کے مستحق بھی بن جاتے۔ مگر افسوس، کشمیر کے کچھ لیڈروں نے مولانا کی پرامن دعوتی آئیڈیالوجی کے بجائے پرتشدد سیاسی آئیڈیالوجی کو اختیار کیا، جس کی وجہ سے یہ امکان واقع نہ بن سکا۔ اور اس کے برعکس روز بروز کشمیر اور کشمیریوں کی تباہی و بربادی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

فلسطین کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ فلسطین بھی اپنی قدیم مذہبی تاریخی آثار کی وجہ سے عالمی سیاحوں کا مرکز ہے۔ اسی لیے فلسطین میں دعوت کا عالمی مرکز بننے کا پورا امکان موجود ہے۔ مگر افسوس، فلسطین اور کشمیر دونوں کی کہانی ایک جیسی ہے۔

ان نامساعد حالات کے باوجود خدا کا فضل ہے کہ دونوں جگہ اب سی پی ایس کی ایک مضبوط ٹیم وجود میں آ چکی ہے اور خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ نمبر 6: بابری مسجد اور مولانا کا موقف۔ دوسرے معاملات کی طرح بابری مسجد کے مسئلے میں بھی مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے نے مولانا پر بڑی زیادتی کی ہے۔ مولانا کے موقف کو پڑھے اور سمجھے بغیر بات کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔

حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا سو کالڈ دانشور طبقہ کیا اتنا کم فہم ہے کہ وہ کسی بات کو سمجھنے کی اپنے اندر سرے سے کوئی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ کسی نے کہا بابری مسجد مولانا نے ہندوؤں کو دے دی، کسی نے کہا مولانا نے مسلمانوں کو مسجد سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا، وغیرہ وغیرہ۔ بابری مسجد کے معاملے میں مولانا نے جو رائے دی، اس کی درج ذیل ترتیب ہے۔ اس زمانی ترتیب، یعنی کرونولوجی، کو سمجھے بغیر مولانا کا موقف واضح نہیں ہو سکتا۔

اس کی وضاحتی ترتیب کچھ اس طرح ہے: نمبر 1: اس معاملے میں مسلمانوں کو کم سے کم جو کرنا تھا، وہ یہ تھا کہ یکم فروری 1986 کے بعد بھی وہ اسی پر قائم رہتے جس پر وہ اس سے پہلے قائم تھے۔ یا دوسری سینکڑوں مسجدوں کے بارے میں آج بھی جس طرح، جس طریقے کو وہ عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں، یعنی مذکورہ غلط فیصلے کو قانون اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا۔ قیادت نامہ، صفحہ 79۔ مولانا کا پہلا مشورہ یہ تھا، مگر ہمارے لیڈروں اور اخبارات نے اس کے بالکل برعکس جو کچھ کیا، وہ یہ تھا: بند، گرفتاری، دھرنا، ریلی، جلسوں اور تقریروں کے ہنگامے شروع کر دیے۔

اور ہمارے اخبارات نے اس موضوع پر تیز و تن سرخیاں قائم کر کے مسلسل دھواں دھار مضامین شائع کیے۔ اس طرح اس مسئلے کو مقامی سطح سے اٹھا کر بین الاقوامی مسئلہ بنا کر پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شدید ترین تناؤ کا ماحول پیدا کیا۔ تناؤ کا ماحول بنا دیا۔ نمبر 2: دوسرے مرحلے میں جب حکومت اور عدالت دونوں کوئی پائیدار فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے، اس وقت ایک میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی کہ تاریخ دانوں کے ایک بورڈ کو ثالث بنا کر معاملہ اس کے حوالے کیا جائے، تاکہ وہ تاریخی آثار کی روشنی میں جانچ کر بتائے کہ مسجد کسی دوسری عمارت کو توڑ کر تو نہیں بنائی گئی ہے۔

ہندو فریق کے نمائندوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، مگر مسلم فریق کے ایک لیڈر نے ہنگامہ کر کے اس کو ماننے سے انکار کیا۔ ملاحظہ ہو، مضمون: قیادت کا دیوالیہ پن۔ الرسالہ، جولائی 1988۔ اس مسئلے پر جلسہ، جلوس، نعرے بازی و بیان بازی کر کے نفرتوں کو اتنی ہوا دی گئی کہ فرقہ پرستی کا سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھا۔

تمام فرقہ پرست عناصر متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے، جس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ اگلے الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں 289 ہوئیں، اور پھر 89 سے بڑھ کر 180 ہو گئیں، اب 300 تک پہنچ چکی ہیں۔ بالآخر اس سیاست کا انجام یہ ہوا کہ بابری مسجد 6 دسمبر 1992 عیسوی کو گرا دی گئی، اور اس کی جگہ ایک عارضی مندر بھی پولیس اور فوج کی موجودگی میں بنا دیا گیا۔ نمبر 3: تیسرا مرحلہ۔ مسجد شہید ہو چکی ہے۔

پورے ملک میں کشیدگی کا ماحول ہے، گویا ایک آتش فشاں ہے جو اگر پھٹ جائے تو سب کچھ جل کر خاک ہو جائے گا۔ حالات کی نزاکت اور سنگینی کا بروقت مولانا نے ٹھیک اندازہ لگایا۔ حالات جس رخ پر جا رہے تھے، اور اب ہمیں کیا کرنا چاہیے، اس کو سمجھنے کے لیے درج ذیل سطور ملاحظہ ہوں۔ 6 دسمبر سے پہلے ہمارے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ بابری مسجد کو کس طرح بچائیں۔

6 دسمبر کے بعد اب مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کس طرح بچایا جائے، اور اجودھیا جیسے واقعے کو کسی اور مقام پر دہرانے کو کس طرح روکا جائے۔ شریعت کی روشنی میں پوری طرح سوچ بچار کرنے کے بعد، اس کے حل کے لیے میں نے تین نکاتی فارمولا پیش کیا ہے، جو کہ اس طرح ہیں: مسلمان بابری مسجد کے بارے میں اپنے ایجیٹیشن کو ختم کر دیں۔ ہندو اپنی مندر، مسجد، تحریک کو اجودھیا ہی میں ہمیشہ کے لیے سٹاپ کر دیں۔ گورنمنٹ عبادت گاہوں کے تحفظ کے ایکٹ، 1991 کو دستور ہند کا جز بنا دے۔

الرسالہ، مئی 1993، صفحہ 4۔ اس فارمولے کو غور سے دیکھیے، اس کے بین السطور کو سمجھیے۔ کتنا معقول فارمولا مولانا نے دیا تھا۔ اس فارمولے کے تحت مولانا مسلمانوں کو مسجد کے ایجیٹیشن کو ختم کرنے، یا بالفاظ دیگر مسجد سے دستبردار ہونے کا مشورہ کب دے رہے ہیں؟

غور کیجیے، یہ مشورہ کب دیا جا رہا ہے؟ یہ مشورہ اس وقت دیا جا رہا ہے جبکہ مسجد کا وجود ختم کر دیا گیا ہے، اور مسلمانوں کو مسجد کی عمارت سے دستبردار کیا جا چکا ہے۔ تمام مسلم رہنما صرف تماشہ دیکھتے رہنے کے علاوہ کچھ نہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اب دوبارہ مسجد وہاں بننے کا دور دور تک کوئی امکان؟

اب دوبارہ مسجد وہاں بننے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اب وہاں جو کچھ ہے، وہ مسجد نہیں، مسجد کا ملبہ پڑا ہوا ہے۔ اگر آپ دانشمند ہیں تو اب آپ اس ملبے سے، نہ کہ مسجد سے، صرف اعلان دستبرداری کر کے، آپ کی عملی دستبرداری تو ہو چکی ہے، یعنی جو چیز آپ کھو چکے ہیں، اس سے اعلان دستبرداری کر کے 15 کروڑ مسلمانوں اور ہماری اگلی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اگلے دو نکات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تھا مولانا کا اصل مشورہ۔

بین السطور کو اپنی دانست میں میں نے کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اور اگر آپ اس ملبے سے دستبرداری کے لیے تیار نہیں، تو کیا ہوگا؟ مولانا کی اس پیشن گوئی کو بھی سن لیجیے۔ مولانا کے الفاظ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔

ملاحظہ ہو، 6 دسمبر کے حادثے کے بعد اس معاملے میں نوعی اور بنیادی تبدیلی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ اب مسئلہ بابری مسجد کے تحفظ کا نہیں ہے، اب اصل مسئلہ خود مسلمانانِ ہند کے تحفظ کا ہے۔ اب اگر مسلمان اپنی اس احتجاجی تحریک کو مزید جاری رکھیں، جس طرح اس ایشو پر وہ 6 دسمبر سے پہلے چلا رہے تھے، تو یقینی طور پر اس کا نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ مذکورہ مقام پر دوبارہ بابری مسجد بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس عملاً جو نتیجہ نکلے گا، وہ یہ ہوگا کہ مسلمان پورے ملک میں فسادات کی زد میں آ جائیں گے۔

وہ بے شمار ایسی مشکلوں میں گھر جائیں گے کہ اس ملک میں عزت کے ساتھ رہنا ہی ان کے لیے دشوار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ 6 دسمبر کے بعد 2 اور 24 کی طرح یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس معاملے میں اب مسلمانوں کے لیے جو انتخاب ہے، وہ بابری مسجد بنانے یا بابری مسجد نہ بنانے کے درمیان نہیں ہے، بلکہ بابری مسجد اور ملت کی تباہی کے درمیان ہے۔ یعنی مسلمان اگر دوبارہ اسی مقام پر بابری مسجد تعمیر کرنے کی مہم چلائیں، تو اس کے نتیجے میں یہ نہیں ہونے والا ہے کہ بابری مسجد اپنے اصل مقام پر بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس جو ہوگا، وہ یہ کہ انڈیا کے مسلمان ناقابلِ بیان تباہی میں پھنس کر رہ جائیں۔

الرسالہ، مئی 1993، صفحہ 6 تا 7۔ بین القوسین کی عبارت پر غور کیجیے۔ آج لفظ بہ لفظ یہ بات صحیح ثابت ہو چکی ہے: مسجد اب دوبارہ وہاں نہیں بن سکے گی۔ 1993 عیسوی میں ہی ایک صاحبِ بصیرت انسان کو یہ سمجھ میں آ چکا تھا، مگر ہمارے دانشورانِ ملت کو اس وقت کیا سمجھ میں آتا؟

نہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سمجھ میں آیا، اور نہ 9 نومبر 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین کا مسئلہ درپیش ہے۔ کئی والدین اس خدشے سے پریشان ہیں کہ ہماری اگلی نسلوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ ہمارے رہنماؤں نے اپنی نااہلی سے ایک بھیانک تاریکی میں پوری قوم کو دھکیلا ہے۔

اب اس پر کچھ احباب کو یہ شکایت ہے کہ سی اے اے اور این آر سی پر مولانا نے کوئی رہنمائی نہیں کی۔ حالانکہ رہنمائی تو ان لوگوں سے طلب کرنی چاہیے جو مولانا کے پیشگی تنبیہ کے باوجود ان حالات کو پیدا کرنے کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، اور برابر ملت کو اسی راستے پر ہانکے جا رہے ہیں۔ اب واحد خدائے عالم الغیب کی ذات ہی سے امید ہے کہ وہ اگلی نسل کو ہماری کوتاہیوں اور ہمارے رہنماؤں کی نادانیوں کے نتیجے میں پیدا شدہ حالات سے نکلنے کے اسباب بھی فراہم کرے گا۔ کتاب: داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 263۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.