← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Al-Risala Mission ki Tahriron ka Taaruf
Urdu · 84 min
الرسالہ مشن کی تحریروں کا تعارف: مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو۔ مولانا وحید الدین خان صاحب نے جس میدان کا انتخاب کیا تھا، اسے ہم اسلامی اص— اسے ہم اسلام عصری اسلوب میں، عصر جدید میں اسلامی لٹریچر، یا عصر حاضر میں اسلام کی تشریح و توضیح کہہ سکتے ہیں۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں عصری اسلوب میں اسلام کا عنوان مولانا کا امتیازی موضوع ہے، اور انہوں نے اس موضوع کی وضاحت میں اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ عصری اسلوب میں لٹریچر: حقیقت یہ ہے کہ جب ماڈرن ایج آیا تو مختلف علماء نے یہ خیال ظاہر کیا کہ دورِ جدید کی نسبت سے اسلام کو کیسے قابلِ فہم بنایا جائے۔
چنانچہ دیوبند کے ایک بزرگ عالم، مولانا قاری محمد طیب، اکثر کہا کرتے تھے کہ آج کی ضرورت جدید طرز استدلال ہے۔ ان کے الفاظ میں، مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں۔ ڈائری، 1984، صفحہ 318۔ اسی طرح اہل ندوہ کی "إلى الإسلام من جديد" کی تحریک بھی اسی رائے کا اظہار تھی۔
اس سلسلے میں مولانا علی میاں کی ایک کتاب کا عنوان ہے: "ردةٌ ولا أبا بكرٍ لها"، صفحہ 171۔ یعنی ارتداد— یعنی ارتداد— یعنی ارتدادِ جدید کے مقابلے کے لیے کوئی ابوبکر صدیق نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ میدانِ کار پوری طرح قربانی چاہتا تھا، dedication چاہتا تھا، مکمل سنجیدگی اور فراغت چاہتا تھا۔ چنانچہ مولانا کے ذہن میں اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
لہٰذا انہوں نے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کو تیار کرنے میں اپنی ساری زندگی لگا دی۔ دورِ جدید کو متعین کیا، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے گہرائی سے اس کا مطالعہ کیا۔ دورِ جدید میں پائی جانے والی مثبت اقدار کی وضاحت کی۔ عصری اسلوب میں مذہبی اپروچ کیا ہونا چاہیے، اس کی وضاحت کی۔
الغرض، اسلام کی عصرِ نو دریافت کی حد تک ایک علمی اور فکری لٹریچر تیار کر کے انسانیت کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ معاملہ تجدد پسندی کا نہیں تھا، بلکہ تطبیقِ نو یا انطباقِ نو، یعنی reapplication، کا تھا۔ یعنی قرآن و حدیث کی ابدی تعلیمات کو دورِ جدید کے اسلوب میں بیان کرنا، اور عصرِ حاضر کی نسبت سے ان کا relevance ثابت کرنا۔ اس کو مذہبی اصطلاح میں ہم اجتہاد کہہ سکتے ہیں۔
گویا مولانا نے دورِ جدید کی نسبت سے بھرپور اجتہاد کیا۔ اس علمی اور فکری عمل کو تین عناوین کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے: نمبر 1: مبنی بر عقل روحانیت (mind-based spirituality)۔ نمبر 1: مبنی— نمبر 2: مبنی بر عقل استدلال (reason-based argument)۔ نمبر 3: مبنی بر امن اقدام (peace-based activism)۔
مولانا کا مرکزی تصور، یعنی central idea، یہ تھا کہ دورِ جدید حقیقت میں دورِ اسلام ہے، مگر اس دور کو ملحد فلسفیوں نے الحاد کے حق میں خوب استعمال کیا۔ امت مسلمہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس دور کو مکمل طور پر توحید کے حق میں استعمال کرتے۔ مگر امت مسلمہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے مولانا فرمایا کرتے تھے کہ میری سب سے بڑی دریافت اللہ کی دریافت ہے۔
میں نے اس دور کے علمی الحاد کو مکمل طور پر پڑھا ہے، اور ہر طریقے سے اس کے استدلالی بنیادوں کو اسلام کی دریافتِ نو میں convert کر دیا ہے۔ حقیقت میں سائنسی علم کو ملحدین نے hijack کر لیا تھا۔ میں نے اس علم کو توحید کے اثبات کے لیے ان سے آزاد کرا لیا ہے۔ اسلام ایک مشن۔
مولانا کی تعبیر کا ایک پہلو یہ ہے کہ مولانا قرآن و حدیث، تاریخِ انبیاء، اور تاریخِ اسلام— بلکہ تاریخِ عالم— کو ایک خدائی مشن کے روپ میں دیکھتے ہیں، اور اس کو خدا کے منصوبۂ تخلیق کے عنوان کے تحت واضح کرتے ہیں۔ یعنی تخلیقِ کائنات اور تخلیقِ حضرت آدم سے لے کر قیامت تک کے تمام واقعات کو، زمانی اعتبار سے، وہ ایک قابلِ فہم منصوبہ بندی کے طور پر واضح فرماتے ہیں، اور قرآن و حدیث سے مشن کی ترقی اور تسلسل کے لیے رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ گویا مولانا کے پاس اسلام ایک مشن ہے۔ سائنسی اسلوب: مولانا کی تحریریں عصری اسلوب میں ہیں، یعنی scientific اسلوب میں۔
اس میں ڈیٹے کی بنیاد پر گفتگو ہوتی ہے، بیانیہ انداز نہیں ہوتا۔ اس میں تقدساتی اسلوب یا تمثیلی اسلوب نہیں ہوتا، بلکہ تجزیاتی اور تحقیقی اسلوب ہوتا ہے، قدیم روایتی اسلوب میں نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے یہ جدید ذہن کے لیے قابلِ فہم ہوتا ہے۔ مگر جن کا مطالعہ روایتی ہوتا ہے، ان کی اپنی ذہنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ابتداً ان کے لیے ان باتوں کو قبول کرنا مشکل نظر آتا ہے۔
ان کا معاملہ خالفن الشباب، خالفن الشیوخ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یعنی جدید سوچ رکھنے والوں نے ساتھ دیا، اور قدیم سوچ رکھنے والوں نے اختلاف کیا۔ مولانا اپنی غیر مطبوعہ ڈائری میں ایک جگہ لکھتے ہیں: "میں نے علماء پر جو تنقید کی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ علماء نے کوئی مفید کام انجام نہیں دیا ہے۔ میری تنقید صرف اس بات پر ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء دورِ جدید کی نسبت سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے۔
نہ ہی انہوں نے دورِ جدید کو سمجھا، اور نہ ہی دورِ جدید کی نسبت سے امت کی رہنمائی کی۔ " ڈائری، 2011۔ اس موضوع سے متعلق کتاب "علماء اور دورِ جدید" کا مطالعہ مفید ہوگا۔ مولانا کی تحریروں میں بار بار مختلف انداز سے جن باتوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ ہیں: معرفتِ رب (realization of God)، معرفتِ حیات (realization of life)، معرفتِ جنت (realization of Paradise)، معرفتِ دعوت (realization of Dawa (Work)۔
تقریباً ساری تحریروں کا محور یہی موضوعات ہیں۔ تحریر کے متعلق اصولی موقف: مولانا نے ہماری ایک تربیتی مجلس میں کہا تھا کہ میں نے سوچ سمجھ کر اپنی تحریروں کا ایک موقف اپنایا ہے۔ اسی پر میں بار بار لکھتا ہوں، یعنی معرفت اور دعوت کے موضوع پر، اور شخصی مدح و قدح سے مکمل اجتناب کرتا ہوں۔ اور بعض موضوعات پر ایک مرتبہ کچھ لکھتا ہوں تو اس کو پھر سے دہراتا نہیں ہوں، گویا وہ میری ایک علمی توجیہ یا میری علمی رائے کی حد تک ہوتا ہے۔
مبنی بر دلیل لٹریچر: مولانا کی تحریروں میں قرآن و حدیث سے ماخوذ الفاظ کی جو تشریحات ہیں، اگر ان کو مولانا کے علمی استدلال اور فکری نقطۂ نظر کے مطابق سمجھ لیا جائے تو الرسالہ مشن کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ مولانا نے دعوت و معرفت کے موضوعات کو عصری اسلوب میں سمجھانے کے لیے صفحات کے صفحات لکھے ہیں۔ بظاہر کہیں کوئی بات قابلِ اعتراض لگ رہی ہو تو دوسرے مضامین میں یا دوسرے پیراگراف میں ہی اس کا جواب موجود ہوتا ہے۔ قاری اگر مولانا کی تحریروں سے وابستہ رہے تو باتوں کو ٹھیک طور پر سمجھ سکتا ہے۔
مولانا کے خلاف لکھی گئی کتابوں سے الرسالہ مشن کی تحریروں کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ مولانا نے فرمایا تھا کہ میری تحریر یا تقریر میں جس بات کی وضاحت ہوتی ہے، میں اسی کا ذمہ دار ہوں۔ خدا کا فضل ہے کہ آج تک ہماری نظر سے کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جس میں مولانا کی تحریروں پر علمی رد کیا گیا ہو۔ عقیدت مندانہ اسلوب نہیں، حقیقت پسندانہ اسلوب۔
مولانا نے اپنی تحریروں میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کو مخاطب کیا، اور عقیدت مندی کے اسلوب کے بجائے حقیقت پسندی کا اسلوب اختیار کیا۔ قاری کو مولانا کی تحریروں کا مطالعہ کرتے وقت اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ عصرِ حاضر کے چیلنجز: توحید اور اس کے پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری ہر زمانے میں مطلوب ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں ایسے افراد کو اٹھائے گا جو وقت کے انحراف کا اور باطل افکار کا دلیل و برہان کی زبان میں مقابلہ کرتے رہیں گے، چاہے وہ اہلِ دین کا غلو ہو یا ملحدین کی مغالطے ہوں۔ ہر قسم کے فکری مسائل کو ایڈریس کرتے رہیں گے، جیسا کہ ایک حدیثِ رسول میں اسی ذمہ داری کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
آپ نے کہا: "يَحْمِلُ هذا العِلْمُ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ أَدُولُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينِ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ"۔ شرح مشکل الاثار، حدیث نمبر 3884۔ یعنی اس علم کو ہر دور کے قابلِ اعتماد لوگ آگے لے کر جائیں گے۔ یہ لوگ اس علم سے اہلِ غلو کی تحریفات کی نشاندہی کریں گے، وہ اہلِ باطل کے جھوٹ اور جاہل لوگوں کی غلط تشریحات کی نفی کریں گے۔
موجودہ دور بہت سے نئے نئے فکری مغالطوں کا دور ہے۔ اس دور میں مختلف نظریات اور ازم پیدا ہوئے۔ جہاں اہلِ دین کا انحراف ہے، وہیں غیر اہلِ دین کا الحاد بھی اپنے پاس مستقل ایک لٹریچر رکھتا ہے۔ گویا ہر ایک نے مبنی بر نظام تشریح کرنے کی کوشش کی: معاشی نظام، سیاسی نظام، اخلاقی نظام وغیرہ۔
ہر فکر کے مستقل رہنما شخصیات ہیں۔ اس طرح ہر ایک کے پاس رہنمائی کرنے والا لٹریچر بھی موجود ہے۔ بنیادی طور پر بڑی تقسیم کے اعتبار سے چار ازم وجود میں آئے ہیں: مارکسزم، ڈارونزم، فرائیڈزم، اور اسلام کی سیاسی تعبیر۔ چند مسلم شخصیات نے حالات سے متاثر ہو کر اسلام کو بھی نظامی یا سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی، جس کو دین کی نظامی تشریح یا سیاسی تشریح کہہ سکتے ہیں۔
الغرض، ان تمام باطل افکار کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ مولانا نے الرسالہ اور تذکر القرآن کے ذریعے ان تمام غلط افکار کا جواب دیا، اور ان پر علمی حجت قائم کی۔ مولانا نے دورِ جدید کے ان فکری چیلنجز کو پہچان کر اسلام کو عصرِ نو دلیل و برہان کے اعلیٰ مقام پر پہنچانے کا فریضہ ادا کیا۔ شاید ہی کسی شخص نے یہ حق ادا کیا ہو۔
مستقل کتابیں اور مقالات تیار کیے، اور مختلف اسفار کر کے ملأِ قوم تک سچائی کا پیغام پہنچایا۔ مذہب اور جدید چیلنج: کتابِ معرفت، اظہارِ دین، خدا کی دریافت، دورِ دعوت وغیرہ جیسی کتابیں شائع کیں۔ اہلِ مشن خدا کو اپنا بہتر دل: مولانا نے اپنی ساری بہترین صلاحیتیں خدا کے لیے دی ہیں۔ آج ہم اپنی صلاحیتوں کو کیش کرنا تو جانتے ہیں، خدا کے لیے دینا نہیں جانتے۔
ہم کو اپنی زندگی کا احتساب کرنا ہے، اور خدا کے لیے اپنا بیسٹ دینے کی کوشش کرنا ہے۔ میں نے اور میرے علماء ساتھیوں نے تقریباً 10 سال کے عرصے میں بار بار مولانا کی تربیتی مجالس میں حاضری دی، اور فون کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہے۔ الحمدللہ، 2011 سے 2021 تک کی صحبتوں سے مولانا کے مشن کو سمجھنا ہمارے لیے اور آسان ہو گیا ہے۔ اب بھی کتابوں اور یوٹیوب پر موجود ان کے خطابات کے ذریعے الرسالہ مشن کو سمجھا جا سکتا ہے۔
مولانا کی تحریروں میں مطالعہ کتب کا نچوڑ ہے، مشاہدۂ کائنات کا سبق ہے، اور انسانی ملاقاتوں سے حاصل شدہ عبرت و نصیحت کی روداد ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم مولانا کی ساری کتابوں کا مطالعہ کریں، اور ساتھ میں خدا کے اسباب اور کائنات کی ڈسکوری پر لکھی گئی تمام انگریزی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے رہیں۔ تلخیص، نہ کہ تشریح: ایک طویل علمی صحبت کے نتیجے کی بنا پر میں نے اپنی فہم و دانش کے مطابق مولانا کی تحریروں میں جو اہم بنیادی موضوعات ہو سکتے ہیں، ان کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی مزید وضاحت الرسالے کے مضامین میں کوئی بھی قاری پا سکتا ہے۔
میں نے صرف تقریبِ فہم کے لیے کوشش کی ہے۔ میں نے ذیل میں 30 اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جو مولانا کی فکر کو سمجھنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ان میں شخصیات کا رول واضح کیا گیا ہے، دین کے تعلق سے پائے جانے والے تصورات کی تصحیح کی گئی ہے، اور مستقبل کا روڈ میپ بتایا گیا ہے۔ نمبر 1: ابراہیم علیہ السلام کا رول: "إِنَّ اللَّهَ اصْتَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"۔
سورہ نمبر 3، آیت 33۔ یعنی: بے شک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سارے عالم کے اوپر منتخب کیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں تاریخِ انبیاء کا ذکر ہے، اور ہر ایک پیغمبر کے رول کو دریافت کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بالخصوص خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو بت پرستی کے ماحول سے نکال کر فطرت کے آزادانہ ماحول میں بسایا، تاکہ ایک مضبوط گروہ تیار ہو جو عالمی مشن کے لائق ہوں۔
واقعہ یہ ہے کہ اہلِ کتاب ہوں یا مشرکین، دونوں اپنی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کرتے ہیں۔ قرآن میں "أَنِ التَّبِيعُ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا" سورہ نمبر 16، آیت 123 کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو۔ اس کو دریافت کر کے عمل کا صحیح نقشہ بنایا جائے، تاکہ امامتِ عالم کا ابراہیمی منصوبہ واضح ہو۔
جس کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: "إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا" سورہ نمبر 2، آیت 124۔ یعنی میں تم کو سب لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ان مذکورہ آیات میں انبیاء کی تاریخ کا ذکر ہے، اور ملتِ ابراہیم کی اتباع، اور حضرت ابراہیم کی امامت کا ذکر ہے۔ گویا یہ ایک خدائی منصوبے کا اعلان ہے۔
نمبر 2: بنو اسماعیل کا رول: خدائی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے عرب کے صحرا کے فطری ماحول میں ایک نسل کو اللہ تعالیٰ نے پروان چڑھایا، اور انہیں ڈیزرٹ تھیراپی کے ذریعے شجاعت، صداقت، اور اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل بنایا۔ اس نسل کو تاریخ میں بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں رسول اور اصحابِ رسول جیسے باعزم و باحوصلہ لوگ پیدا ہوئے۔ قرآن کی اس آیت میں اسی منصوبۂ تخلیق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: "وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ وَاجْتَبَآكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِنْ لَتَبِيعُكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّىٰكُمُ الْمُسْلِمِينَ"۔
سورہ نمبر 22، آیت 78۔ یعنی: اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو، جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اسی نے تم کو چنا ہے، اور اس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمہارے باپ ابراہیم کا دین، اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا۔
اس آیت میں غالباً بنو اسماعیل کے انتخاب کا ذکر ہے۔ اس نسل کا انتخاب کر کے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے کائناتی معرفت اور عالمی دعوت کی پلاننگ کی ہے۔ نمبر 3: اصحابِ رسول کا رول: بنو اسماعیل میں اللہ تعالیٰ نے ایک گروہ پیدا کیا، جن کو ہم اصحابِ رسول کہتے ہیں۔ اس گروہ کو اللہ تعالیٰ نے مذہبی جبر کے خاتمے کے لیے برپا کیا، تاکہ ختمِ نبوت کا خدائی منصوبہ پائے تکمیل تک پہنچے۔
اس خدائی منصوبے کے تحت اصحابِ رسول کی شکل میں ایک مضبوط جماعت کا قیام عمل میں آیا، جس نے مذہبی تہذیب کے دور کا خاتمہ کیا، اور مذہب کو اقتدار کے جبر سے آزاد کرایا۔ جس کی بنا پر دنیا میں حقیقی خدا پرستی وجود میں آئی، اور انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ تخلیق کو خالق کا درجہ دینے کے بجائے مخلوق کا درجہ دے، اور تخلیق کو تحقیق کا موضوع بنائے۔ اسی کے نتیجے میں بتدریج دورِ جدید کا ظہور ہوا، جس کو آج ہم سائنسی دور کہتے ہیں۔ اس کی ابتدا دورِ صحابہ سے ہوئی، اور اس کا کلمنیشن اہلِ یورپ کے ذریعے 21ویں صدی میں ہوا۔
اس اعتبار سے اسلام کو دورِ جدید کا خالق مانا جا سکتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اسی رول کی طرف اشارہ ہے کہ صحابہ کرام نے خدا کے منصوبے کو سمجھا، اور ایک دوسرے سے مسابقت کیا، اور مشن کو پائے تکمیل تک پہنچایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوهُ عَنْهُ"۔ سورہ نمبر 9، آیت 100۔
یعنی: اور مہاجرین و انصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں، اور جنہوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ اگر کوئی گروہ اصحابِ رسول کی طرح خدا کے لیے وقت کا مطلوب رول ادا کرے گا، وہ گروہ بھی خدا کی رضا کا امیدوار ہوگا۔ نمبر 4: تکمیلِ دین: رسول اور اصحابِ رسول نے جو جدوجہد کی، اس کا اعلان حجۃ الوداع کے موقع پر کیا گیا۔ چنانچہ اس وقت قرآن کی جو آیتیں اتریں، ان میں ایک جز یہ تھا: "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"۔
سورہ نمبر 5، آیت 3۔ یعنی: آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ یہاں تکمیلِ دین کا مطلب استحکامِ دین ہے، نہ کہ فہرستِ احکام کی تکمیل۔ اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دین ناقص تھا، اب دین مکمل ہو گیا۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے رسول اور اصحابِ رسول کو دعوت سے اقتدار کے مرحلے تک پہنچا دیا، اور دینِ اسلام کو مستحکم کر دیا، جس کی وجہ سے حفاظتِ دین کا انتظام ممکن ہوا۔ اس آیت کے بعد بھی وحی کا سلسلہ جاری رہا۔ مثلاً ابن عباس وغیرہ کے مطابق سورہ البقرہ کی آیت نمبر 281 سب سے آخری آیت ہے: "الْإِدْخَانُ فِي عُلُومِ الْقُرْآنِ" جلد 1، صفحہ 178۔ اس لیے اس آیت سے استحکامِ دین کا وہ اعلان ہو رہا ہے، جس کی بنا پر ختمِ نبوت کا منصوبہ ممکن ہو پایا۔
تکمیلِ دین کی یہی توجیہ عین مطابقِ واقعہ ہوگی۔ نمبر 5: حفاظتِ قرآن: قرآن مجید کی کامل حفاظت خدا کا منصوبہ تھا۔ "الحجر" سورہ نمبر 15، آیت 9۔ اسی مقصد سے مسلمانوں کو اقتدار کی طاقت عطا کی گئی، اور اسی بنا پر ختمِ نبوت کا منصوبہ بھی ممکن ہوا۔
ورنہ پوری تاریخ میں کسی بھی نبی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ نسل در نسل اپنی تعلیمات کی حفاظت کر سکے۔ تقریباً تمام انبیاء کرام اور ان کے اصحاب پر معاصر بادشاہوں نے شدید مظالم ڈھائے۔ اپنی جان بچانے کی خاطر انہوں نے ہجرت کی۔ یہی تہذیب تھی جو مکمل طور پر حفاظتِ دین کے لیے مستقل رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔
جیسا کہ حضرت مسیح اور پیروانِ مسیح کی زندگی اس بات کی قریبی دلیل ہے، اور انجیلِ مقدس کی غیر محظوظیت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے۔ اور انجیلِ مقدس کی غیر محفوظیت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے۔ اس پس منظر میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو اقتدار کا ملنا اور اس کا چھن جانا آخر کس بنا پر تھا۔ روایتی دور میں جب تک قرآن کی حفاظت کا مسئلہ تھا، مسلمانوں کو اقتدار کی طاقت دی گئی تھی۔
جب پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے قرآن کی حفاظت کا بہتر انتظام ہو گیا، تو اقتدار کی طاقت غیر اہم ہو گئی۔ حفاظتِ قرآن کے اس انتظام کے بعد، اشاعتِ دین کے لیے سارا زمانہ خود ہی تائید میں آ گیا ہے۔ آج اسلام کی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اقتدار کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ پرامن منصوبے کی ضرورت ہے۔ قرآن کی اس آیت میں حفاظتِ قرآن کے اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے: "إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ"۔
سورہ نمبر 15، آیت 9۔ یعنی: یہ یاد دہانی، یعنی قرآن، ہم ہی نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ حفاظتِ قرآن کے خدائی منصوبے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر امت اس بات کو نہ سمجھے تو وہ اقتدار میں غالب آنے والی طاقتوں کے خلاف منفی نفسیات میں مبتلا ہوگی، اور اقتدار کے حصول میں اپنا وقت ضائع کرے گی۔
نمبر 6: اظہارِ دین: بعض آیات کی صحیح توجیہ نہ کرنے کی وجہ سے اقدام میں فرق ہو جاتا ہے۔ انہی آیات میں سے اظہارِ دین والی آیت ہے۔ انہی آیات میں سے اظہارِ دین والی آیت ہے۔ اس آیت میں اظہارِ دین کا مطلب سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ دینِ اسلام کا فکری اظہار ہے۔
اظہارِ قوم نہیں، بلکہ دین کا اظہار ہے۔ یہ بات اس آیت میں خود موجود ہے۔ آج اسلام کے حق میں وہ سارے علمی دلائل جمع ہو چکے ہیں، جو اسلام کے فکری غلبے کے ہم معنی ہیں۔ آج دین کے فکری اظہار کے لیے علمی تیاری کی ضرورت ہے، نہ کہ عالمی اقتدار کے لیے جنگ کی تیاری کی۔
قرآن مجید میں اظہارِ دین اور اتمامِ نور کے الفاظ اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس دور میں تقریباً دونوں وعدے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: "هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ"۔ سورہ نمبر 48، آیت 28۔
یعنی: اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے۔ سورہ الصف میں ہے کہ "وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ"۔ سورہ نمبر 61، آیت 8۔ یعنی: اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا۔
اظہارِ دین اور اتمامِ نور کا وعدہ خدائی مشن کی تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نمبر 7: انذارِ عالم: ختمِ نبوت کے بعد امتِ مسلمہ پر فرض کے درجے میں کارِ نبوت کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے۔ یعنی: انذارِ عالم کی ذمہ داری۔ اس کو واقعہ بنانے کے لیے خدا نے دورِ جدید میں ہر قسم کی کمیونیکیشن کی سہولیات مہیا کیں، اور عالمی انذار کا عمل ممکن ہو گیا۔
امتِ مسلمہ کو عالمی انذار کی پلاننگ کرنی تھی، نہ کہ عالمی اقتدار کی منصوبہ بندی کی۔ مگر 200 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ امتِ مسلمہ نے خلافتِ اسلامیہ کی واپسی کے لیے ان تھک کوششیں کیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ بلکہ برعکس طور پر، نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کو دہشت گردی پر ابھارنے والا مذہب سمجھا جانے لگا۔ ایک طرف عالمی سطح پر اسلام کی امیج بلڈنگ کی ضرورت تھی، تو دوسری طرف عالمی تبلیغ و انذار کی۔
قرآن مجید میں اسی عالمی انذار کے بارے میں بتایا گیا ہے: "تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا"۔ سورہ نمبر 25، آیت 1۔ یعنی: بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا، تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ عالمی انذار کو واقعہ بنانا اس دور میں ممکن ہو گیا ہے۔
اگر اس موقع کو بھرپور طور پر استعمال نہ کریں تو خدا کے یہاں پکڑ ہوگی۔ نمبر 8: عصری اسلوب میں اسلام کی تبیینِ نوع: زمانے کی نسبت سے مدعو کے ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا جاتا ہے، اس کو لسانِ قوم میں بات کرنا کہتے ہیں۔ آج ایک داعی کو مدعو کے لحاظ سے اسلوبِ عصری کو جاننا ضروری ہے۔ عصرِ حاضر، تمثیلی اسلوب کے بجائے سائنٹیفک اسلوب میں کلام کرنے کا طریقہ رائج ہے۔
عصرِ حاضر کا اسلوب ریزن بیسڈ اسلوب اور تحقیق بیسڈ اسلوب ہے۔ چنانچہ اسلامی لٹریچر کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش "الرسالہ مشن" کے ذریعے ہوئی ہے۔ عصری اسلوب کے تقاضوں کی رعایت "الرسالہ لٹریچر" میں پائی جاتی ہے۔ اسلوبِ عصر میں کلام ہی اس لٹریچر کی خصوصیت ہے۔
اللہ تعالیٰ صاحبِ مشن کو جزائے خیر عطا کرے کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے اپنے خون کے آخری قطرے تک کو نچوڑ کر امتِ مسلمہ کی طرف سے یہ فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ فرضِ عین کے درجے میں اس لٹریچر کو استعمال کریں اور دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیں۔ کیونکہ دعوت ایک سنگین ذمہ داری ہے، اور اسلوبِ عصر اس کی ناگزیر ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ"۔
سورہ نمبر 14، آیت 4۔ یعنی: اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کر دے۔ اس آیت میں لسانِ قوم کا مطلب ہے لسانِ عصر۔ نمبر 9: اجتہاد: اجتہاد ہر زمانے کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، تاکہ قیامت تک دین کی عصری تطبیق اور دین کی تبلیغ ہو سکے۔
اجتہاد کی اسی اہمیت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "عنَ اَمْرِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانٌ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ"۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352۔ یعنی: جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔
حدیث کے مطابق غلط اجتہاد میں بھی ثواب ہے، اگر نیت صحیح ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ بدلے ہوئے حالات کی رعایت کرتے ہوئے تطبیقِ نوع کرنا ہی اجتہاد ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ تعبدی امور میں نئے اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ دعوتی اور تربیتی امور میں ہر وقت اجتہاد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اگر اجتہاد کو کل عدم قرار دے دیا جائے، تو تبیینِ حق کا کام انجام نہیں پا سکتا، اور اسلام عملاً ایک ماضی کی داستان بن کر رہ جائے گا۔
وہ حال اور مستقبل کے لیے اپنا ریلیونس کھو دے گا۔ اس روش سے نہ ہی ازدیادِ ایمان نصیب ہوگا، اور نہ ہی فریضِ دعوت کا حق ادا ہوگا۔ قرآن، حدیث اور اجتہاد، یہی احیائے اسلام کے ضامن ہیں۔ نمبر 10: دورِ جدید: موجودہ دور قدیم دور سے مختلف ہے۔
اس دور میں ہر قسم کی ایجادات اور ہر قسم کی آزادیاں ہیں۔ اس میں ہر قسم کے مثبت اور منفی تغیرات واقع ہوئے ہیں۔ اگر ہم اس تبدیلی سے بے خبر ہیں، تو صحیح معنوں میں ہم دینِ اسلام کی اشاعت اور اس کی تبیین کے لیے مطلوب کردار ادا نہیں کر سکتے۔ دورِ جدید دورِ اسلام ہے، لیکن یہ دور اسلام کی موافقت کے اعتبار سے پوٹینشل حالت میں ہے۔
اس کو ایکچوئل بنانے کی ذمہ داری امتِ مسلمہ کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے دورِ جدید میں مادی سفر آسان کر دیا ہے، اسی طرح معنوی سفر بھی خدا نے آسان کر دیا ہے۔ قرآن میں آیا ہے: "وَتَحْمِلُوا أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَحِيمٌ"۔ سورہ نمبر 16، آیت 7۔
یعنی: اور وہ جانور تمہارے بوجھ اٹھا کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم اپنی جان کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ بے شک تمہارا رب بڑا شفیق، مہربان ہے۔ اس آیت کے مطابق معلوم ہوا کہ ماضی میں انسانی مشقتوں کو حیوانی تعاون کے ذریعے سے حل کیا جاتا تھا، مگر آج میکانیکل سپورٹ کے ذریعے سے حل کیا جاتا ہے۔ گویا جدید دور کے اس انقلاب نے انسان کی ہر مشقت کو دور کر دیا ہے، چاہے وہ مادی ہو یا معنوی۔
نمبر 11: دورِ امن: رسول اور اصحابِ رسول نے جو جنگیں کی تھیں، اس کا اہم مقصد یہ تھا کہ مذہب کے حق میں پرامن ماحول قائم ہو جائے، اور مذہبی تہذیب کا خاتمہ ہو جائے۔ جس کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے: "وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ"۔ سورہ نمبر 2، آیت 193۔ یعنی: اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے۔
صحابہ کرام نے اسی فتنے کو ختم کرنے اور دورِ امن کو وجود میں لانے کے لیے جنگ کی تھی۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا تھا: "قَاتَلْنَا حَتَّىٰ لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُخَاتِلُوا حَتَّىٰ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ"۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4513۔ یعنی: ہم جنگ کر چکے ہیں یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا، اور دین سارا کا سارا اللہ کے لیے ہو گیا، اور تم جنگ کرنا چاہتے ہو یہاں تک کہ دوبارہ فتنہ آئے، دوبارہ وہ فتنہ آئے، اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔
دوسرے الفاظ میں، اب جو جنگ ہوگی وہ ملک و مال کے لیے ہوگی۔ اس کی وجہ سے یہ اندیشہ ہے کہ قدیم دور کا مذہبی جبر والا فتنہ واپس نہ آ جائے۔ گویا ختمِ فتنے کے بعد جو عمل کرنا ہے، وہ پرامن دعوت کا مشن ہے، نہ کہ دوبارہ جنگ کی حالت کو واپس لانا۔ اب مذہبی امور کے لیے جنگ موقوف ہو چکی ہے، کیونکہ جو چیز ماضی میں جنگ کے ذریعے ملتی تھی، آج وہ پرامن منصوبے کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج جنگ صرف تباہی لاتی ہے، کامیابی نہیں۔ یہ زمانہ بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے ہتھیاروں کا زمانہ ہے۔ اس دور میں جنگ کے برے اثرات صرف دو لڑنے والے فریقوں کے درمیان نہیں رہتے، بلکہ اس تباہی کا برا انجام عام لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ جنگ کا انجام اجتماعی ہلاکت، یعنی ماس ڈسٹرکشن۔
ماس ڈسٹرکشن کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس دور میں ہتھیار سے جنگ کرنا اسلام کی روح کے سراسر خلاف ہے۔ آج کا انسان حقیقت میں امن و شانتی کا متلاشی ہے، جنگ کا نہیں۔ اگر اہلِ ایمان اس بات کو سمجھ جائیں تو امن کی طرف دنیا اپنے قدم مزید آگے بڑھائے گی۔
بس اس کی ایک ہی شرط ہے کہ اہلِ اسلام اپنے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر قیمت پر پرامن جدوجہد کریں، نہ کہ کوئی پرتشدد اقدام۔ جدید دور دورِ امن ہے، مگر یہ پوٹینشل حالت میں موجود ہے، اور اس کو ایکچوئل بنانے کی ذمہ داری اہلِ اسلام کی ہے۔ نمبر 12: معرفتِ اعظم: تخلیقات میں غور و فکر کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے، اس کے لیے ایک اعلیٰ فریم ورک اور ایک بہترین انفراسٹرکچر درکار تھا۔ وہ آج میسر ہو گیا ہے۔
چنانچہ خالق کی معرفت کو تخلیق کی معرفت سے جاننے کا اتنا بڑا موقع اہلِ ایمان کو اس سائنسی دور میں ملا ہے، جو اس سے پہلے اتنے اعلیٰ پیمانے پر حاصل نہ تھا۔ اس کے ذریعے وہ اثباتِ ایمان بھی کر سکتے ہیں، اور اپنے لیے ازدیادِ ایمان کا سامان بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ سپرٹ آف انکوائری یعنی تلاش و جستجو کے نتیجے میں جو کائناتی نشانیاں ڈسکور ہوئی ہیں، وہ عین اسلام کے حق میں ہیں۔ لہٰذا یہ دور اعلیٰ معرفت کا دور ہے۔
اگر ہم مادی مسائل میں الجھنے کے بجائے معرفت کو اپنا مقصود بنائیں تو معرفتِ اعظم کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ معرفتِ اعظم کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ کائنات کی نشانیوں کے ذریعے دلائلِ اعظم کا پانا ہی معرفتِ اعظم کا پانا ہے۔ اس دنیا میں دلائلِ اعظم ہی سے حقیقتِ اعلیٰ کا ادراک ممکن ہے۔
کیونکہ احادیث میں اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ کی ذات پر نہیں۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: "تَفَكَّرُوا فِي آَلَاءِ اللَّهِ وَلَا تَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ"۔ المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6319۔ یعنی: اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر کرو، اللہ کی ذات میں نہیں۔
ابن عباس کی ایک روایت میں ہے: "تَفَكَّرُوا فِي كُلِّ شَيْءٍ وَلَا تَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ"۔ العظمت لابو الشیخ الاصبہانی، حدیث نمبر 2۔ یعنی: ہر چیز میں تفکر کرو، اور اللہ کی ذات میں تفکر نہ کرو۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: "فَإِنَّكُمْ لَا تَخْدُرُونَ قَدْرَهُ"۔
العظمت لابو الشیخ الاصبہانی، حدیث نمبر 5۔ یعنی: تم اس کی قدرت نہیں رکھتے ہو۔ ان احادیث میں "عَلَاءُ اللَّهِ" اور "كُلُّ شَيْءٍ" میں غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی: اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں غور کرو، اس سے تم کو خالق کی معرفت حاصل ہوگی۔
یہ عملاً اس دور میں اعلیٰ پیمانے پر قابلِ تطبیق ہو چکا ہے۔ خردبین اور دوربین کی ایجاد کے بعد تخلیق کا تفصیلی علم حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ سائنسدان کی نظر صرف قوانینِ فطرت کی معلومات تک رہتی ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے وہ معرفت کا سامان ہوتا ہے۔ سائنسدان کو معلوماتِ اعظم ملتی ہیں، اور اہلِ ایمان کو معرفتِ اعظم۔
نمبر 13: شہادتِ اعظم: دورِ جدید میں جو انفراسٹرکچر تیار ہوا ہے، اور آفاق و انفس کے جو دلائل کھولے گئے ہیں، اس کی وجہ سے خدا اور آخرت کے اثبات کے لیے دلائلِ اعظم فراہم ہو گئے ہیں۔ اب اہلِ ایمان کو اخواء میں عالم کے درمیان شہادتِ اعظم کا فریضہ ادا کرنا ہے، نہ کہ لڑ کر اپنے آپ کو یا سامنے والے کو ختم کر دینا۔ آج حجت و برہان کی طاقت سے حجت قائم کرنا ہے، نہ کہ تلوار و بم کے ذریعے خون بہانا۔ ایک حدیث میں بذریعہ دلائل حق کو ثابت کرنے والے کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: "هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ"۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938۔ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا"۔ اس حدیث میں غالباً اسی عظیم شہادت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کو ادا کرنے پر خدا کے یہاں بڑا اجر مقدر ہے۔ شہادت علی الناس کا یہ عظیم موقع ہر داعی کے لیے مقدر ہے، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
"لِّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ"۔ سورہ نمبر 4، آیت 165۔ خدا کی طرف سے حجت کو ادا کرنے کا یہ فریضہ دلائل و براہین کے میدان میں ہوگا، نہ کہ میدانِ جنگ میں۔ نمبر 14: مثبت فکر: انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی یا دعوتی رول، اگر اس کو پرامن طریقے سے گزارنا ہے تو صرف ایک ہی شرط ہے، اور وہ ہے مثبت فکر کو اپنانا۔
ورنہ شکایت اور نفرت کا ذہن پیدا ہوگا، اور سماج کو تباہی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ لہٰذا کسی کو دشمن سمجھنا، سازشی سمجھنا، ظالم سمجھنا، یہ ساری چیزیں مثبت فکر کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب تک اس روش کو ترک نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک کوئی بڑا تعمیری کام انجام نہیں پا سکتا، انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ اسی لیے قرآن میں بار بار شکر گزار بننے پر زور دیا گیا ہے۔
مثلاً قرآن کی یہ آیت: "لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ"۔ سورہ نمبر 14، آیت 7۔ یعنی: تم شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا۔ شکرِ مزید پر انعام، مزید کے شکر، شکرِ مزید پر انعام، شکرِ مزید پر انعامِ مزید کے وعدے ہیں۔
ناشکری کی زندگی تو حسرت میں اضافہ کرے گی۔ مثبت فکر خدا کے تعلق سے مثبت رہنا سکھاتی ہے، ورنہ انسان خدا ہی سے منفی اور بدزنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک حدیث میں مومن کو دعا کے الفاظ یہ بتائے گئے ہیں: "وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكِ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 771۔
یعنی: تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بندہ خدا سے یہ دعا کرتا ہے۔ بندہ خدا سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے تعلق سے مثبت ذہن کے ساتھ رہے گا۔ علماء کے مطابق، خدا کے تعلق سے یہ سوچ تقدیر کا مسئلہ ہے۔
اس اعتبار سے مثبت ذہن پر قائم رہنا گویا عقیدے کا مسئلہ ہے۔ مثبت فکر کو اپنانا گویا خیر کا سرچشمہ حاصل کرنا ہے۔ نمبر 15: تزکیہ: کائنات کی ہر چیز انسان کو یہ سبق دینا چاہتی ہے کہ اپنے اندر ذہنی ارتقاء پیدا کرو۔ آلِ عمران، سورہ نمبر 3، آیت 190 تا 193۔
خدا کی کائنات میں نیکٹر کی طرح تزکیے کے بے شمار آئٹم چھپے ہوئے ہیں۔ اگر انسان اس کی آواز پر کان لگائے تو اپنے ایمان میں اضافہ بھی ممکن ہے، اور اخلاق میں درستگی بھی۔ قرآن اگر کتابِ مستور ہے تو کائنات کتابِ مشہود ہے۔ لہٰذا تزکیے کا تعلق اوراد و وظائف سے نہیں ہے، بلکہ شعوری دریافتوں سے ہے۔
جن اوراد و وظائف کو ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی انبیاء کرام کے شعوری الفاظ ہیں، نہ کہ ہماری طرح محض تکرارِ لسانی یا رٹے ہوئے الفاظ۔ تزکیہ نام ہے ربانی دسترخوان سے رزقِ معرفت حاصل کرنے کا۔ تزکیہ نام ہے شعوری سطح پر تعمیرِ شخصیت کا۔ مزکّہ انسان ہی کے لیے جنت ہے، نہ کہ کسی کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو جانے سے جنت ملے گی۔
تزکیہ ایک شعوری عمل ہے، اپنے آپ کو بے خودی اور مدہوشی کے عالم میں لے جانے کا نام تزکیہ نہیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیات سے تزکیے کی اہمیت واضح ہوتی ہے: "وَذَلِكَ جَزَاءُ مَن تَزَكَّىٰ"۔ سورہ نمبر 20، آیت 76۔ یعنی: یہ جنت بدلہ ہے اس شخص کا جو پاکیزگی اختیار کرے۔
"قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ"۔ سورہ نمبر 87، آیت 14۔ یعنی: کامیاب ہوا جس نے اپنے کو پاک کیا۔ "قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰ"۔
سورہ نمبر 91، آیت 9۔ کامیاب ہوا جس نے نفس کو پاک کیا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو ڈیولپ کرے، اور شعوری تزکیے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔ شعوری تزکیہ ہی ارتقاءِ ذہنی کا ذریعہ ہے۔
یہی تزکیہ عبرت پذیری سکھاتا ہے۔ اسی سے انسان درس و عبرت والی زندگی گزار سکتا ہے۔ نمبر 16: اخوانِ رسول کا رول: مادی ترقی ہو یا معنوی ترقی، اس کے لیے ایک بوسٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک شدید محرک کی ضرورت پڑتی ہے، تاکہ اس کا حق ادا ہو اور آگے بڑھنے کا ذہن پیدا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں آنے والے امتی کو "اخوانِ رسول" کا ٹائٹل دیا ہے۔ آپ نے یہ ٹائٹل بطور مشن دیا ہے، نہ کہ بطور فضیلت۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: آپ نے کہا: "وَدِدْتُ أَنَّ قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ أَنْتُمَ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُهُ"۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 249۔ یعنی: میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔
رسول اللہ کا مشن قیامت تک لوگوں پر خدا کی حجت قائم کرنا ہے۔ اسی عمل کی ترغیب کے لیے رسول اللہ نے اس حدیث میں داعیِ حق کو "اخوانِ رسول" کا لقب دیا ہے، تاکہ سارے امتی اس مشن کو شعوری طور پر جانیں، اور رسول اللہ کے مشن پر قائم ہو کر مطلوب دعوتی رول ادا کریں۔ کارِ نبوت کی ادائیگی ہی رسول سے محبت کا تقاضا ہے۔ اصحابِ رسول سے جو تقاضا تھا، اسی طرح اخوانِ رسول سے بھی ایک تقاضا ہے۔
اصحابِ رسول سے حفاظتِ قرآن کا مشن مستحکم ہوا۔ اخوانِ رسول سے اشاعتِ قرآن کا مشن گھر گھر پہنچنا ہے۔ نمبر 17: دورِ تائید: اشاعتِ قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا دور ظاہر کیا ہے جس کو ہم دورِ تائید کہہ سکتے ہیں۔ دورِ جدید اسلام کے حق میں دورِ تائید ہے، نہ کہ دورِ تعذیب۔
دعوت کا عملی اقدام ہو یا فکری اظہار، دونوں کے لیے یہ دور موافق دور ہے۔ اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم نے خدا کے اس منصوبے کو نہیں سمجھا تو اندھے اور بہرے بنے رہیں گے، اور اپنا مطلوب رول ادا نہیں کر پائیں گے۔ اور یہ ڈر ہے کہ خدا کے یہاں ان مواقع کو ضائع کرنے پر سخت پوچھ ہوگی۔
اس تائیدی رول کے بارے میں مختلف احادیث میں بتایا گیا ہے۔ مثلاً: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ"۔ المعجم الکبیر الطبرانی، حدیث نمبر 14640۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُؤَيِّدُ هَٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ"۔
صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062۔ ان دونوں احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ہر قسم کے افراد سے کرے گا، خواہ وہ سیکولر ہوں یا غیر دین دار۔ اس قسم کی کئی احادیث ہیں جو غیر اقوام کے تائیدی رول کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر ہم اس دور کو ڈسکور کریں تو ہر ترقی ہمیں اپنی تائید نظر آئے گی، اور ہر شخص دینِ اسلام کا معید نظر آئے گا، چاہے وہ مغربی ہو یا مشرقی۔
نمبر 18: اہلِ مغرب کا رول: اہلِ مغرب اسلام کے لیے معیدین کا گروہ ہیں، نہ کہ مخالفین کا گروہ۔ خدا نے ان کو اپنے دین کی خاطر سائنسی ترقی دی ہے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ ان کی ایجادات اور ان کی کوششوں کا دل سے اعتراف کرے۔ ان سے شکایت کو اپنے اوپر حرام سمجھے۔
انہوں نے جو تہذیب دی ہے، اس کو سمجھے۔ اگر ان میں کلچر کی برائیاں ہیں تو اس کو دعوت کا موضوع سمجھیں، نہ کہ دشمنی اور نفرت کا۔ کیونکہ اس کا تعلق انسانی آزادی کے غلط استعمال سے ہے، نہ کہ اہلِ مغرب کی سائنسی ترقی سے۔ آج اہلِ مغرب میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو اپنے اندر اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں، اور جنہوں نے انسان کو جدید سہولیات سے نوازا ہے۔
ہمیں ان تمام چیزوں کا اعتراف کرنا ہے، اور اسلام کے حق میں انہیں استعمال کرنا ہے۔ ان چیزوں کے استعمال کی قیمت کھلے اعتراف ہی سے ادا کی جا سکتی ہے۔ آج ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ویسٹوفوبیا میں مبتلا ہونے کے بجائے ان کی خدمات کا اعتراف کریں، اور ان کی ایجاد کردہ چیزوں کو دعوتی میدان میں استعمال کریں۔ آج مسلم برانڈ کے نام سے کوئی مادی چیز کو ایجاد کر کے اپنا الگ جزیرہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ ویسٹ کی ایجادات کو استعمال کرے، اور اپنے پاس موجود سب سے بڑی چیز قرآن کو ان لوگوں کے سامنے بطور دعوت پیش کرے۔ کیونکہ اللہ قیامت کے دن پہلے مادی ایجادات کے بارے میں نہیں پوچھے گا، لیکن دعوتی کوتاہی کے بارے میں وہ ضرور پوچھے گا۔ ایک حدیث میں اہلِ مغرب کے بارے میں پیشنگوئی کی گئی ہے کہ قیامت کے قریب ان کا غلبہ رہے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ الْمُسْتَرِدُ الْقُرَشِيُّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ"۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 2898۔ یعنی: قیامت کے قریب اہلِ روم سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ اس غلبے والی بات کو جب قرآن میں بیان کردہ ایک خبر سے ملا کر سمجھا جائے تو یہ ایک مثبت بات بن جاتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے نصاریٰ اپنے دل میں سب سے زیادہ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
"أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً"۔ سورہ نمبر 5، آیت 82۔ یعنی: ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہاں اہلِ مغرب سے بے نتیجہ مقابلے سے روکا گیا ہے۔
اس لیے اب ان کے تائیدی رول کو جاننے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے دشمنانہ طریقہ اختیار کرنے کی۔ قرآن دشمنی میں اضافے کا حکم نہیں دیتا ہے، بلکہ حسنِ سلوک کے ذریعے دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی تلقین کرتا ہے۔ فصلت، سورہ نمبر 41، آیت 34۔ نمبر 19: تخلیق کے ادوار: تخلیق کے چھ ادوار ہیں، جس میں انسان کی تخلیق سب سے آخر میں ہے۔
انسان کو خدا نے اپنی معرفت کے خولی اظہار کے لیے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ انسان کو اس دنیا میں خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہونا ہے، اور اخواء میں عالم کے درمیان اس کا اظہار کرنا ہے۔ ساری تخلیق کا مقصد خدا کی معرفت ہے، اور انسان ایک استثنائی مخلوق ہے جو آزادی کا اختیار رکھتے ہوئے سیلف ڈسکوری پر خدا کو دریافت کرنے اور سیلف ڈسپلن پر رہنے کی ذمہ داری لیے ہوئے ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے: "وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا"۔
سورہ نمبر 33، آیت 72۔ یعنی: اور انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا، بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ مولانا کے مطابق، امانت سے مراد اختیار و آزادی سے کام کرنا ہے۔ انسان نے کائنات کے آغاز میں اپنے لیے امانت، یعنی آزادانہ اختیار کا چوائس لیا۔
قرآن کی مختلف آیتوں میں تخلیقی ادوار کا ذکر ہے۔ یہ انسان کی معرفت میں اضافہ کرنے کے لیے ہے، نہ کہ صرف خبر دینے کے لیے۔ قرآن کی مختلف آیتوں میں تخلیقی ادوار کا ذکر ہے۔ یہ انسان کی معرفت میں اضافہ کرنے کے لیے ہے، نہ کہ صرف خبر دینے کے لیے۔
مولانا کی تحریروں کو اگر ترتیب سے جمع کیا جائے تو کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کا ایک نقشہ تیار ہو سکتا ہے۔ سیکولر لوگوں نے اگر دنیا کے مادی نقشے کی ترتیب کی کوشش کی ہے تو مولانا نے معنوی نقشہ تیار کیا ہے۔ نمبر 20: تاریخ کی تعبیر: تاریخ کی تعبیر جنہوں نے بھی کی ہے، وہ خدا کے منصوبۂ تخلیق سے واقف نہیں تھے۔ انہوں نے تاریخ سے منفی غذا لی۔
خدا کے نقشے کے مطابق یہ ہے کہ خدا نے انسان جیسی ایک بااختیار مخلوق پیدا کی، اور خدا خود انسان کی آزادی کو ہر وقت مینج کر رہا ہے۔ قرآن میں انسانی تاریخ کے آغاز کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جو فرشتوں اور خدا کے درمیان ہوا تھا۔ "وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفًا قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ"۔ سورہ نمبر 2، آیت 30۔
یعنی: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جان نشین بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے جب اپنا ایک نیا منصوبہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے مجموعے کو دیکھ کر یہ رائے قائم کی۔ مگر خدا نے جب مطلوب افراد کی فہرست بیان کی، تب فرشتوں نے خدا کا منصوبہ سمجھ لیا۔ اگر ہم انسانی تاریخ کو مثالی افراد کا باغ سمجھیں تو تاریخ اس سے خالی ملے گی۔
اگر ہم یہ مانیں کہ یہاں غیر مثالی دنیا میں مثالی افراد کا انتخاب ہو رہا ہے، یعنی تاریخ میں صالح افراد کو چنا جا رہا ہے، تو انسانی تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جائے گی۔ ورنہ تاریخ صرف خاک و خون کی داستان نظر آئے گی۔ تاریخ میں صالح افراد کو چننے کا خدائی عمل جاری ہے، تاکہ ان کو خدا کی جنت میں بسایا جائے۔ نمبر 21: تاریخ کا ربانی سفر: معرفت ہی مقصدِ تخلیق ہے۔
اسی بنیاد پر تاریخِ انسانی اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ اس دنیا میں معرفت کے سفر کا آغاز ہوتا ہے، جو ابدالآباد تک جاری رہے گا۔ خدا اپنے منتخب افراد کو یہ موقع دے گا کہ وہ کبھی ختم نہ ہونے والی معرفت کا سفر جاری رکھیں۔ چنانچہ کوئی بھی تخلیق بے کار نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عظیم سفر کا حصہ ہے، جس کو ربانی سفر کہا جاتا ہے، جس کی قیمت ربانی زندگی اپنانے سے ادا ہوگی۔
سیاست یا قومیت کے مسائل میں الجھے رہنے سے نہیں ہوگی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: "قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنْفَدَ كَلِمَاتِ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا"۔ سورہ نمبر 18، آیت 109۔ یعنی: کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے، تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگر ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔
اس آیت میں جو بات ہے، وہ صرف ایک خبر کے طور پر نہیں ہے، بلکہ مطلوب عمل کے طور پر ہے، جس عمل کو ایک مومن بندہ ابدالآباد تک انجام دیتا رہے گا۔ گویا دنیا اور آخرت میں حمدِ رب میں جینا ہی اصل جینا ہے۔ نمبر 22: حدیبیہ منہاج: مولانا نے الرسالے میں صلح حدیبیہ کے واقعے کو بہت اہمیت دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کو قرآن میں فتح مبین، سورہ الفتح، سورہ نمبر 48، آیت 1 کہا گیا ہے۔
صلح حدیبیہ سے یہ پتہ چلا کہ جان کی قربانی کے مقابلے میں وقار کی قربانی زیادہ بڑی چیز ہے۔ یہی وہ قربانی تھی جس نے رسول اللہ کے مشن کو فتح مبین تک پہنچایا۔ انسان کے دلوں کو جیتنے کا یہ حکیمانہ طریقہ سب سے پہلے رسول اللہ نے دنیا والوں کو انٹروڈیوس کر کے کیا، یعنی ایک طرفہ طور پر فریقِ مقابل کی ہر شرط کو مان لینا، تاکہ امن کا ماحول بنے۔ آج اسی امن کے حصول کے لیے مسلمانوں کو ماضی کی عظمت باہر آنا ہوگا۔
ماضی کی عظمت سے باہر آنا ہوگا۔ حدیبیہ منہاج اجتماعی کامیابی کے لیے شاہ کلید ہے۔ یہ مادی شکست میں معنوی فتح کی کامیابی کا راز ہے۔ اور مادی فتح سے زیادہ معنوی فتح اسلام کا اصل مطلوب ہے۔
اس لیے قرآن میں اس کو فتح مبین کہا گیا ہے: "إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا"۔ سورہ نمبر 48، آیت 1۔ یعنی: بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔ دعوتی مشن کا سفر ہمیشہ صلح حدیبیہ کی حد تک جاتا ہے۔
جس نے اس راز کو جان لیا، وہی فاتح ہے، اور جس نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا، وہ شکست کھا گیا۔ آج عالمی طور پر اخواء میں متحدہ میں ایک ناجنگ معاہدہ طے پایا ہے۔ گویا دنیا اصولی طور پر اس کی پابند ہو گئی ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک پر جارحانہ کارروائی نہیں کرے گا۔ اس موجودہ صورتحال کو صلح حدیبیہ کی توسیعِ سنت سمجھنا چاہیے، اور اس سے عالمی فائدے حاصل کرنا چاہیے۔
نمبر 23: اقامت دین: اقامت کے موضوع پر مولانا نے بہت لکھا ہے۔ اس کو ردِعمل کہنا بہت بڑی نادانی ہے۔ اس کو عمل کا صحیح رخ متعین کرنے کی کوشش سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ اقامت دین کو نفاذِ دین یا کامل دین کا نفاذ سمجھ کر امت کو تکلیفِ مالا یوتاخ میں ڈال دیا گیا ہے۔
امت کو تکلیفِ مالا یوتاخ میں ڈال دیا گیا ہے، جس کا انجام یہ ہوا ہے کہ امت مایوسی کا شکار ہوئی، اور اس مفروضہ مقصد کے حصول کے لیے خودکش بمباری جیسے خبیث فعل تک کو اپنے لیے جائز کر لیا۔ دین ہر ایک سے مکمل قبولیت کا تقاضا کرتا ہے، مکمل نفاذ کا نہیں۔ جو لوگ اقامت دین کو تنفیذِ شریعت کے معنی میں لیتے ہیں، وہ دین کی ایسی تعبیر کرتے ہیں جس میں اقتدار کی طاقت لازمی جز کے طور پر شامل ہو جاتی ہے۔ پھر امت ایک سیاسی اپوزیشن کے طور پر پہچانی جاتی ہے، جبکہ اس کی پہچان خدا اور آخرت کی طرف دعوت دینے والی امت کے طور پر مطلوب ہے۔
ورنہ امت کا ہر اقدام خومرخی بن جاتا ہے۔ مدعو ہمیشہ اسی مغالطے میں رہتا ہے کہ اسلام بھی ایک سیاسی جنگ کا مذہب ہے، اخروی نجات کا مذہب نہیں ہے۔ دین کی ایسی تعبیر کرنا جس کے ہم مکلف نہیں ہیں، یہی تحریف اور غلو ہے، اور اسلام میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ جس آیت سے یہ ہدف متعین کیا گیا ہے، وہ اس ہدف کے لیے مطابقِ واقعہ بھی نہیں ہے، اور نہ ہی مطابقِ تاریخ ہے، حتیٰ کہ مطابقِ لغت بھی نہیں ہے۔
"شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ وَمَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ"۔ سورہ نمبر 42، آیت 13۔ یعنی: اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو۔ اس آیت میں اولی الاعظم انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔
اگر ہم حقیقت پسندی کے ساتھ ان کے اقامت دین کو سمجھنے کی کوشش کریں تو پتہ چلے گا کہ مذکورہ پیغمبروں نے نہ ہی اقتدار کی کوشش کی، اور نہ نفاذِ قانون کے لیے سرگرم رہے، بلکہ ان مشترک تعلیمات کی اشاعت کرنے میں لگے رہے، جس پر نجات کا دارومدار ہے۔ دین کی اقامت کا مطلب اس کا اتباع ہے، نہ کہ حکومت یا اقتدار کا قیام۔ چونکہ یہ بات تمام انبیاء کرام کے درمیان غیر مشترک، بلکہ غیر موجود چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ نمبر 24: احتساب خویش: اسلام کا مطلوب یہ ہے کہ افراد کے اندر احتسابِ غیر سے پہلے احتسابِ خویش کا ذہن پیدا ہو۔
دوسروں کی غلطیوں کا انکشاف کرنے سے زیادہ، انسان اپنی غلطیوں کو دریافت کرے۔ قرآن میں "الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر" کا حکم بھی آپسی اصلاح کے لیے ہے۔ مستقبل کی صحیح تعمیر کے لیے ماضی اور حال کی غلطیوں کو جان کر توبہ کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ جب کوئی مصلح احتسابِ خویش کی ذمہ داری ادا کرے گا تو اس کی زد میں اس کی اپنی ذات بھی آئے گی، اور ماضی اور حال کے اکابر بھی ہوں گے۔
یہ بہت ہی حساس عمل ہے۔ یعنی یہ قیامت سے پہلے قیامت کو قائم کرنا ہے۔ خدا کے سامنے حاضر ہونے سے پہلے اپنا دفتر چیک کرنا ہے۔ یہی ایسا کام ہے جس میں وقت کے مصلحین امت کا بھی امتحان ہے، اور متبعین شریعت کا بھی۔
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: "وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ يَعْفُو عَنْكَ كَثِيرٍ"۔ سورہ نمبر 42، آیت 30۔ یعنی: اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے، تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔ اس آیت کے مطابق مصیبت کا پہلا ذمہ دار خود مبتلا انسان ہے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص۔
مولانا اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: موجودہ دنیا کو اسباب کے قانون کے تحت بنایا گیا ہے۔ یہاں آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ واضح طور پر اس کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ دنیا کے یہ واقعات اس لیے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔ اپنی پیدا کردہ مصیبتوں کو جاننا بہت ہی مشکل کام ہے۔
دوسروں کو دوشی ٹھہرانا بہت آسان ہے۔ اپنی ذات کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا یہی قرآنی روش ہے۔ دوسروں کی سازش کا انکشاف کرتے رہنا غیر قرآنی روش ہے۔ اگر احتسابِ خویش کے لیے امت تیار ہو جائے تو غیر معمولی تبدیلی واقع ہوگی۔
الرعد، سورہ نمبر 13، آیت 11۔ مولانا کے الفاظ میں: اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے، نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ نمبر 25: خشیتِ انسانی، خشیتِ ربانی۔
یہ دور خشیتِ انسانی سے نکل کر خشیتِ ربانی میں داخل ہو گیا ہے۔ آج اسلام اور مسلمان دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔ ارکانِ اسلام کا تقریباً ہر جگہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ اللہ کی عبادت کے لیے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں ہے۔
اگر کسی جگہ مسلمانوں کو کوئی رکاوٹ ہے تو وہ "آ بیل مجھے مار" کے اصول کے تحت ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے مدارس اور مکاتب کا ایک مضبوط سلسلہ ہر جگہ قائم ہے۔ مسلمان کسی بھی معاشرے کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ لہٰذا وہ ماضی کے خوف اور خدشات میں جینا چھوڑ دیں، اور خوفِ خدا میں جینے والے بنیں۔
قرآن میں حکم کے انداز میں بطور پیشن گوئی ارشاد ہوا ہے: "فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي"۔ سورہ نمبر 5، آیت 3۔ یعنی: تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ دوسرے الفاظ میں: اب جو دور آنے والا ہے، اس میں انسانوں سے ڈرنے کا ماحول نہیں ہوگا، تو تم ان سے نہ ڈرو، بلکہ میری خشیت میں جیو۔
مولانا ہمیشہ امت مسلمہ کو انسان کے خوف سے نکالنا چاہتے تھے، اور خدا کی خشیت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ انسان کا خوف اگر ہو بھی تو وہ وقتی ہوگا، مگر خدا کا خوف دائمی ہے۔ لہٰذا وقتی خوف سے نکل کر دائمی خوف کی طرف آگے بڑھنا ہوگا۔ بظاہر حالات اگر خوف کے ہوں تو خدا پر ڈال دیں، اور انتظار کریں۔
کیونکہ مومن کا اصل سہارا خدا کی ذات ہے، نہ کہ کوئی اور طاقت۔ نمبر 26: نفرتِ مغرب کا فتنہ۔ اس کا اشارہ حدیث میں "فتنہ دوہائمہ" کے الفاظ میں موجود ہے۔ حدیث کے متعلق الفاظ یہ ہیں: "ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَ لَا تَدْعُوا أَحَدًا مِّنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً"۔
سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4242۔ یعنی: پھر دوہائمہ کا فتنہ ہوگا، اور وہ اس امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑے گا، مگر وہ اس کو ہٹ کرے گا۔ حدیث کے مطابق فتنہ دوہائمہ، یعنی سیاہ فتنہ، امت مسلمہ میں پھیلنے والا عمومی فتنہ ہوگا۔ لطمۃً سے مراد غالباً لطمہِ نفرت ہے۔
یعنی نفرت کا فتنہ اتنا زیادہ پھیلے گا کہ امت کا ہر فرد اس سے شدید طور پر متاثر ہو جائے گا۔ وہ ہر امت کے ہر فرد کو نفرت کا کیس بنا دے گا۔ یہ حادثہ اس طرح پیش آئے گا کہ جو مغربی قومیں حدیث کے الفاظ میں معیدِ دین بن کر ابھریں گی، ان کے ساتھ ایک اور اتفاقی پہلو بھی شامل ہوگا، وہ یہ کہ یہ مغربی قومیں ایک طرف معیدِ دین تہذیب لے کر ظاہر ہوں گی، لیکن اسی کے ساتھ ان کی دوسری حیثیت یہ ہوگی کہ وہ اس سیاسی کلچر کی حامل ہوں گی جس کو نوآبادیاتی نظام، یعنی کلونیلزم، کہا جاتا ہے۔ نوآبادیاتی نظام ایک اتفاقی سبب، یعنی چانس فیکٹر کی بنا پر، اس تائیدی تہذیب کا حصہ ہوگا۔
مگر مسلم رہنما دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پالیسی، ڈی لنکنگ پالیسی، اختیار نہ کر سکیں گے، اور سیاسی اختلاف کی بنا پر خود اپنی تائید کے لیے ظاہر ہونے والی تہذیب کے دشمن بن جائیں گے۔ مسلمانوں کا یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھے گا کہ امت کا کوئی فرد اس کی زد میں آنے سے محفوظ نہ رہے گا۔ اگر ہم اس فتنے کو نہیں سمجھیں گے تو خالق سے بھی بدزن رہیں گے، اور مدعو سے بھی۔ اس طرح بحیثیت اخوانِ رسول، ہم مطلوب دعوتی رول ادا نہیں کر پائیں گے۔
نمبر 27: انصار اللہ ماڈل۔ قرآن میں کہا گیا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ"۔ سورہ نمبر 61، آیت 14۔ یعنی: اے ایمان والو!
تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا: "کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے؟ " حواریوں نے کہا: "ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ " اس آیت میں رسول اللہ کی موجودگی میں ہی اہلِ ایمان کو انصار اللہ بننے کے لیے حواریوں کے ماڈل کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی توجیح کیا ہوگی؟
مولانا اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: یہود کی اکثریت نے اگرچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو رد کر دیا، مگر ان میں سے کچھ لوگ حواریین ایسے تھے جنہوں نے پورے اخلاص اور وفاداری کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا، اور آپ کے پیغمبرانہ مشن کو آگے بڑھایا۔ تذکر القرآن۔ حواریوں نے جو طریقہ کار اپنایا، اس کو اپنانا ہوگا، یعنی عمومی رجحان سے اوپر اٹھ کر خدا کے دین کی مدد کرنا۔ حکمتِ دعوت کے طور پر پیروانِ حضرت مسیح نے ساری دنیا میں دعوتی کلچر قائم کیا ہے، اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔
ہمیں بھی ان کے دعوتی طریقہ کار کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے، ان کی شریعت یا ان کے عقیدے کو نہیں۔ یہی حکمت دعوت کا تقاضا ہے۔ امتحان کے تقاضے کے تحت وہ حالات جو ملتِ مسیح پر پیش آئے، وہ امت مسلمہ پر بھی پیش آئیں گے، مگر وہ لوگ مشکل حالات میں بھی ایک دعوتی گروہ بن کر ہی رہے۔ ان کی پہچان ہی محبت، امن، دعوت، تعمیر، تعلیم، ترقی بن گئی۔
یہی طریقہ ملتِ محمدی کو بھی اپنانا ہوگا۔ نمبر 28: نہ جنگ تدبیر، پیس فل پلاننگ۔ ہتھیار کے استعمال اور خون بہائے بغیر اپنا مطلوب حاصل کرنا اگر دیکھنا ہو تو سیرت رسول کو گہرائی سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کی تحقیق کے مطابق دنیا کی جنگی تاریخ میں رسول اللہ ہی وہ واحد قائد ہیں جن کی جنگی تدبیر کی وجہ سے انسانوں کا سب سے کم خون بہا۔
رسول اللہ نے ہر جنگ کو معمولی جھڑپوں میں بدل دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ساری جنگوں کی مدت صرف 36 گھنٹے شمار کی جاتی ہے، یعنی 23 سال کی مشنری زندگی میں صرف ڈیڑھ دن کی مدت سے بھی کم میدانِ جنگ میں رہے۔ نہ جنگ تدبیر کی واضح مثال صلح حدیبیہ ہے۔ رسول اللہ نے امن کی بحالی کے لیے یکطرفہ طور پر اہلِ مکہ کے سارے شرائط قبول کیے۔
اگر کوئی کہے کہ صلح سے کیا ہوتا ہے، تو اس کا جواب قرآن کی زبان میں فتحِ مبین ہے۔ اسی طرح پرامن تدبیر سے کیا ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب ہندوستان کی آزادی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان والوں نے آزادی کے لیے ہتھیار اٹھائے تو ہر طرح کی ناکامی ملی۔
جب گاندھی جی کے کہنے پر ہندوستانیوں نے ہتھیار پھینک دیے اور پرامن تدبیر، یعنی غیر ہتھیاری تدبیر، اختیار کی تو آزادی کا پرچم لہرا سکے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ پرامن تدبیر اختیار کریں، تاکہ انسانوں کو جہنم سے آزادی ملے، انسانوں کے دلوں کو فتح کیا جا سکے۔ آج مادی تعمیر ہو یا معرفت کا سفر، دونوں کے لیے پرامن منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مولانا نے جب کبھی سیکولر حوالے دیے ہیں تو وہ پریکٹیکل وزڈم کے طور پر ہوتے ہیں، اور حکمت کو اپنانے کے لیے اسلام میں کوئی تفریق نہیں ہے، چاہے وہ مذہبی انسان سے ملے یا سیکولر انسان سے۔
جیسا کہ حدیثِ رسول ہے: "الحکمۃ الضالۃ المؤمن حیثُمَا وجد المؤمن ضالةً فَلْيُجْمِعْهَا إِلَيْهِ"۔ مسند الشہاب القضائی، حدیث نمبر 146۔ یعنی حکمت مومن کا متاعِ گمشدہ ہے۔ مومن جہاں اپنی گمشدہ متاع کو پائے، تو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے پاس رکھ لے۔
نمبر 29: ذہنی ارتقاء۔ ذہنی ارتقاء کا لفظ مولانا کی کتابوں میں بہت زیادہ ملتا ہے۔ اس سے مراد سیکولر پرسنیلٹی ڈیولپمنٹ نہیں، بلکہ انٹلیکچول اور اسپرچول ڈیولپمنٹ ہے۔ مادی واقعات سے معنوی حقائق تک پہنچنا، زندگی کے حقائق سے واقف ہونا، قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں اپنی عاجزانہ پوزیشن کو دریافت کرنا، دنیا کے مقابلے میں آخرت کی زندگی کو ڈسکور کرنا، اعلیٰ اخلاق پر قائم رہنا، وغیرہ۔
قرآن میں رسول اللہ کے اخلاق کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بلند اخلاق پر فائز تھے: "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ"۔ سورہ نمبر 68، آیت 4۔ یعنی: اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ اعلیٰ اخلاق کا حامل انسان وہی ہوتا ہے جو ذہنی ارتقاء کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو۔
خدا سے اعلیٰ تعلق اور بندوں سے اعلیٰ سلوک، یہی ذہنی ارتقاء ہے۔ بے خدا ذہنی ارتقاء مولانا کے یہاں نہیں ہے۔ نمبر 30: دعوت۔ مولانا کی تحریروں میں ابتدا ہی سے دعوتِ الٰہی کی بات کہی جا رہی ہے۔
دعوت کا مطلب خدا کے بندوں کو منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے، خدا اور آخرت کا تعارف کرانا ہے۔ مدعو کی قابلِ فہم زبان میں خدا کا پیغام پہنچانا ہے۔ ایسی تبلیغ جس سے مدعو کا ذہن ایڈریس ہو۔ مولانا محترم دعوت اور کنورژن میں فرق کرتے ہیں۔
دعوت کا مطلب ہے انٹلیکچول ٹرانسفارمیشن۔ دعوت ہمارا اختیار ہے، ہدایت خدا کا ڈومین ہے۔ القصص، سورہ نمبر 28، آیت 56۔ جو لوگ کنورٹ کرنے کو دعوت سمجھتے ہیں، وہ نہ اسلامی دعوت سے واقف ہیں اور نہ ہی زمانے کے تقاضوں سے۔
دعوت کا مطلب اسلام کے کلمے کو ہر گھر میں داخل کرنا ہے، نہ کہ دعوت کے پیغام کو کسی کے اوپر امپوز کرنا۔ قرآن میں کئی مقامات پر اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں: "وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ"۔ سورہ نمبر 36، آیت 17۔
یعنی: اور ہمارے ذمے تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ أَنْتَ مِمَ الدَّارِينَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ"۔ مسند احمد، حدیث نمبر 16957۔
یعنی: یہ دین اس جگہ تک پہنچے گا جہاں جہاں پر دن رات پہنچتے ہیں۔ کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہچانے۔ مذکورہ آیت اور حدیث میں ابلاغِ عام اور ادخالِ عام کا ذکر ہے۔ مکمل سنسیرٹی کے ساتھ تبلیغ ہماری ذمہ داری ہے۔
تبدیل کرنا خدا کی منشا سے ہے۔ توحید کا یہ مشن تاریخی اعتبار سے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی آخری تکمیل تک پہنچے گا۔ حضرت آدم سے حضرت ابراہیم تک، حضرت ابراہیم سے حضرت مسیح تک، حضرت مسیح سے حضرت محمد تک، اور حضرت محمد سے وقوعِ قیامت تک۔ اس کے لیے خدا نے امن کا دور پیدا کیا ہے۔
اب ایسے افراد کی ضرورت ہے جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں۔ قیامت تک انسان حالت میں قیامت تک انسان حالتِ امتحان میں رہے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ساری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے اور ساری دنیا تبدیل ہو جائے۔ انسان کو منصوبۂ تخلیق کے مطابق انکار و اختیار کا حق ان کے رب کی طرف سے ملا ہوا ہے۔
قیامت سے پہلے اختیار کا کلی طور پر خاتمہ ہو جائے، ایسا مصلحت امتحان کے خلاف ہے۔ وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ سورہ نمبر 18، آیت 29۔ یعنی: اور کہو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے نہ مانے۔
ابلیس نے قیامت تک مہلت مانگی تھی۔ قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سورہ نمبر 15، آیت 36۔ یعنی: اے میرے رب! تو مجھے اس دن تک کے لیے مہلت دے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔
اس آیت کے مطابق خدا نے ابلیس کو قیامت تک کے لیے چھوٹ دے کر بھیجا ہے، مگر اس سے مخلص بندے بچے رہیں گے اور وہی آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ سورہ نمبر 15، آیت 40۔ یعنی: سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں، سب کو میں گمراہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ صاحبِ الرسالہ کی کوششوں کو قبول فرمائے۔
انہوں نے جو دورِ جدید میں دین کی تطبیق یا اجتہاد کی کوشش کی ہے، اس کو سمجھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں منصوبۂ تخلیق کو جان کر اس کے مطابق زندگی گزارنے اور صحیح رخ پر منصوبہ بندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 236۔