← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Meri Nazar me
Urdu · 17 min
مولانا میری نظر میں مولانا عبداللہ چترویدی، لکھنؤ۔ مولانا وحید الدین خان صاحب ایک عظیم شخصیت تھے۔ میں نے مولانا سے زندگی میں صرف 1 مرتبہ ملاقات کی ہے، اور ان کی تقریباً 250 سے زیادہ کتابیں ہیں، جن میں سے 200 کے آس پاس میں نے پڑھی ہیں۔ مولانا پر جو بہت سارے الزامات ہیں کہ انہوں نے یہ لکھا ہے یا فلاں بات لکھی ہے، لیکن جب میں نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ مولانا نے لکھا کچھ اور ہے، اور الزامات بے بنیاد لگائے جا رہے ہیں۔
ایک جگہ مولانا نے لکھا ہے کہ آج تک جتنے لوگوں نے میرے اوپر اعتراض کیا، ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جو یہ بتا سکے، جو یہ بتا سکا ہو کہ آپ کی یہ بات قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ یہ سب بے بنیاد اور جھوٹی چیزیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ آدمی جب کسی کی مخالفت پر آتا ہے تو وہ یہ بھی نہیں ڈرتا کہ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہو رہا ہوں۔ اس کے لیے وہ جھوٹ بھی بولتا ہے، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
دنیا میں جتنے بھی لوگ اس طرح کے ہوئے، یعنی خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز دین پیش کیا، ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔ قرآن اس کی گواہی دے رہا ہے۔ اور بڑی عجیب اور حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمین پر سب سے پہلا فتویٰ کفر کا دیا گیا، وہ ایک رسول کو دیا گیا۔ وہ ہیں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام۔
اس وقت کے تمام اہل علم نے، جو یہودی تھے، ان سب نے عیسیٰ علیہ السلام کو کافر قرار دیا۔ وجہ کیا ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام ان کے خود ساختہ دین کی تردید کر رہے تھے، تو انہوں نے ان کو کافر قرار دے دیا۔ صحابہ کرام نے اس سے مکمل طور پر پرہیز کیا۔
کسی صحابی نے کسی کو کافر نہیں کہا۔ حد یہ ہے کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، جو سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو قرآن کا حصہ نہیں مانتے تھے، اس کے باوجود صحابہ ان کا احترام کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ قرآن سیکھیں گے تو عبداللہ ابن مسعود سے۔ اختلاف کی وجہ سے کسی پر جھوٹی باتیں گھڑنا، اور اس پر بہتان لگانا، بے بنیاد باتیں کرنا، یہ کم از کم اہل ایمان کی شان تو نہیں ہے۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز اور حقیقی دین پیش کیا، ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔
مثلاً حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر مولانا علی میاں ندوی نے تاریخ دعوت و عظمت میں ایک جلد پوری لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حافظ ابن تیمیہ کو اس وقت کے اہل علم نے کافر قرار دیا۔ لیکن علی میاں نے لکھا کہ کافر کا فتویٰ دینے والوں کو دنیا نہیں جانتی، لیکن ابن تیمیہ کو دنیا رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ نئی چیز نہیں ہے کہ جتنے بھی لوگوں نے خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز اور سچا دین پیش کیا، ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔
خود مولانا وحید الدین صاحب سے کسی نے بات کی تو مولانا نے جواب دیا، جو میں ابھی درج کر رہا ہوں۔ مولانا نے لکھا ہے: "ایک صاحب نے کہا کہ لوگ آپ کو ایسا اور ایسا کہتے ہیں، تو میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ ہماری قوم میں کون وہ شخص ہے جس کو ایسا اور ایسا نہیں کہا گیا؟ " اس قوم نے شاہ ولی اللہ، اس قوم نے شاہ ولی اللہ کو زندیق کہا، اور آج انہیں انہی کو سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔ اس قوم نے سر سید احمد کو انگریز کا ایجنٹ کہا، اور آج انہیں انہی کو قوم کا سب سے بڑا محسن بتایا جاتا ہے۔
اس قوم نے اقبال کو انگریز کا نمک نمک خوار کہا، اور آج وہ مفکرِ اسلام کی فہرست میں نمبر 1 پر لکھے جاتے ہیں۔ اس قوم نے مولانا حسین احمد مدنی کو کانگریس کا پٹھو کہا، اور آج وہ شیخ الاسلام قرار دیے جاتے ہیں۔ اس قوم نے مولانا ابوالکلام آزاد کو شو بوائے کہا، اور آج وہ دورِ جدید کی سب سے بڑی اسلامی شخصیت شمار کیے جاتے ہیں۔ مسٹر محمد علی جناح کا انتخاب ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ مر گیا مردود، نہ فاتحہ نہ درود۔
اور آج وہ قائد اعظم کا مقام حاصل کیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔ مولانا نے کہا کہ یہ قوم زندہ کی بے قدری کرتی ہے، اور مردے کو پوجتی ہے۔ یہی سینکڑوں سال سے ہو رہا ہے، تو میرے معاملے میں استثنا کیوں کر ہو سکتا ہے؟ اسی طرح سے مولانا کے بارے میں الزام ہے کہ مولانا نے لیبیا کے کرنل قذافی کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔
مولانا نے لکھا ہے کہ میرے بارے میں یہ مشہور کیا جا رہا ہے کہ میں نے لیبیا کے صدر کرنل قذافی کی کتاب "الاخضر" کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک صاحب سے گفتگو ہوئی، میں نے کہا یہ بالکل جھوٹی بات ہے۔ اس کے بعد میں نے انہیں ایک واقعہ سنایا۔ مولانا نے لکھا ہے کہ برطانوی حکومت کے دور میں وائسرائے کے سامنے ایک خط پیش کیا گیا، جس پر محمد علی کا دستخط تھا۔
یہ خط امیرِ کابل کے نام تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ آپ اپنی فوج لے کر ہندوستان پر حملہ کر دیجئے، ہم اندر سے بغاوت کر دیں گے۔ اس کے بعد انگریزوں کو بھاگنا پڑے گا، اور ملک آزاد ہو جائے گا۔ اس خط کے مضمون سے مولانا محمد علی جوہر کی بغاوت ثابت ہوتی تھی۔
اس کو وائسرائے کونسل میں غور کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔ کونسل کی اس میٹنگ میں جنرل جنرل ڈائر بھی تھا، جو اپنی سفاکی کے لیے مشہور تھا۔ جنرل ڈائر نے اس خط کو پڑھا، پھر اس کو پھینک دیا۔ اس نے کہا کہ اس خط کی زبان محمد علی کی زبان نہیں ہو سکتی، یہ تو ہمارے کسی جونیئر آفیسر کا لکھا ہوا خط ہے۔
جنرل ڈائر کی اس بات پر وہ خط رد کر دیا گیا۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے مخالفین کے اندر جنرل ڈائر کے بقدر کردار بھی نہیں، ورنہ وہ قذافی کی کتاب کا ترجمہ دیکھ کر اس کو رد کر دیتے اور کہتے کہ یہ تو وحید الدین خان کی زبان ہی نہیں ہے۔ کیونکہ واقعہ ہے کہ اس کتاب کی زبان میں اور میری زبان میں بہت فرق ہے۔ کرنل قذافی کی کتاب کا ترجمہ تو بہت دور کی بات ہے۔
مولانا کی کرنل قذافی نے ایک دعوت کی، ایک دعوت کی تھی جس میں وہ نہیں گئے تھے۔ وہ بھی مولانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے۔ ڈاکٹر شمس الافاق منسٹری آف ہیلتھ نئی دہلی ملاقات کے لیے آئے، اور رسالے سے پوری طرح پوری طرف متفق ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کا فعل مشکوک معلوم ہوتا ہے، یعنی یہ کہ خدانخواستہ ہندوؤں کا یا حکمرانوں کا ایجنٹ ہوں۔
جو کچھ کہتا ہوں، مفاد کے تحت کہتا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرنس تھی، مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں آئے۔ میں بھی شریک ہوا، اور اخبار "نو" کے ایڈیٹر ایڈیٹر افضل صاحب بھی اس میں شریک تھے۔ ان سے آپ پوچھ لیجئے، ہم لوگ ترابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔
اس کے بعد اسپیشل جہاز کے ذریعے ترابلس سے بن غازی لے جائے گئے، تاکہ وہاں کرنل قذافی سے ملاقات کر سکیں۔ تمام شرکاء خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا ترابلس کے ہوٹل میں ٹھہرا رہا۔ میں اکیلا قذافی سے ملنے نہیں گیا۔
اپنے اس استغنا کی وجہ سے 500 ڈالر کھو دیے۔ یعنی جو لوگ کرنل قذافی سے ملنے کے لیے گئے، ان کو 500 ڈالر انعام کے طور پر دیے گئے۔ یہ بات پہلے معلوم تھی، لیکن مولانا ملاقات کے لیے نہیں گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد باتیں پھیلائی گئیں۔
میں یہ بات اور واضح کر دوں کہ میں مولانا کی تنظیم سے جڑا ہوا نہیں ہوں، لیکن میرا ایک اصول ہے کہ اگر کسی کے اوپر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہو، اور مجھے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم ہے، تو میں اس کی تردید کرتا ہوں، اور اس کو اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ مولانا وحید الدین صاحب تو سراپا دعوت تھے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کو دعوت کے طریقے سے پورا پیش کیا۔ انہوں نے بہت واضح طور پر بتایا کہ دنیا میں جب بھی کوئی حاملِ کتاب قوم مغلوب و ذلیل ہوتی ہے، تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانا چھوڑ دیا۔
چونکہ جو کام میں کرتا ہوں، وہی کام مولانا مجھ سے اعلیٰ پیمانے پر کرتے رہے، منظم طریقے سے کرتے رہے۔ پوری دنیا میں ان کی ٹیمیں ہیں۔ پوری دنیا میں ان کی ٹیمیں ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ کوالٹی کے اعتبار سے جتنی بڑی تنظیم انہوں نے تیار کی، وہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ بہت سارے لوگوں کے سوالات اور اشکالات آ رہے تھے، تو میں نے سوچا کہ میں ایک میسج لوگوں کو دے دوں۔
میں غیر جانبدار ہو کر یہ بتا رہا ہوں کہ مولانا کے اوپر یہ سب جھوٹے الزامات ہیں۔ مولانا دنیا کے ایک عظیم مفکر تھے، اور ان کی سوچ آخرت رخی تھی، جس کی جھلک ان کی ساری کتابوں سے ملتی ہے۔ جو ان کی کتابوں کو پڑھ لیتا ہے، اس کی سوچ بھی آخرت رخی ہو جاتی ہے۔ میں ان کی تنظیم سے جڑے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں، دیکھتا ہوں کہ ان کی سوچ بھی آخرت رخی ہے، اور ان کے اندر بڑی سنجیدگی اور متانت میں نے پائی۔
ان کی تنظیم کے لوگوں سے مل کر میں بہت متاثر ہوا، اور اس لیے میں نے سوچا کہ بے بنیاد اور جھوٹی باتیں جو لوگ پھیلاتے ہیں، اس کے بارے میں کچھ عرض کر دوں۔ حد یہ ہے کہ ہمارے لکھنؤ میں ہمارے جاننے والے ایک انجینئر صاحب رہتے ہیں۔ وہ مجھے ایک بار دو کتابیں دے گئے، اور کہنے لگے کہ یہ علماء نے لکھی ہے۔ ایک کتاب کو تو 10-12 عالم نے مل کر لکھا تھا۔
اس میں لکھا تھا کہ "الرسالہ" چٹکلوں کا مجموعہ ہے۔ تو میں نے ان سے فون کر کے کہا کہ یہ تو سب سے بڑا جھوٹ پہلی ہی لائن میں مل گیا۔ میں نے کہا کہ "الرسالہ" میں نے پڑھا ہے، اور سینکڑوں "الرسالہ" میرے پاس ہیں۔ ان میں کہیں پر چٹکلا ہے ہی نہیں۔
اس میں قرآن و حدیث کی باتیں ہوتی ہیں۔ اتنا بڑا جھوٹ انہوں نے کتاب میں لکھ دیا۔ دوسری کتاب جو موٹی تھی، وہ ایک ادارے کے بہت بڑے عالم کی لکھی ہوئی تھی۔ اس میں انہوں نے مخالفت میں ایک ایسی بات کہہ دی، جس کی تو میں توقع بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی عالم کیا عام مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔
انہوں نے کہا "صلح حدیبیہ" سورہ فتح۔ کوئی دائمی حکم نہیں تھا۔ میں نے ان کو فون کیا کہ کیا سورہ فتح کا حکم دائمی حکم نہیں ہے؟ قرآن کی ہدایت تو قیامت تک کے لیے ہے۔
بہرحال وہ کوئی مثبت جواب نہ دے سکے۔ تو یہ حال ہے کہ لوگ مخالفت میں غیر حقیقی باتوں پر مشتمل کتابیں لکھتے ہیں۔ اور لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ بغیر تحقیق مان لیتے ہیں۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ کوئی بات سنو تو پہلے اس کی تحقیق کرو۔
الحجرات سورہ نمبر 49 آیت 6۔ اس لیے صاحب معاملے کو کوئی بات کہنے سے پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔ میں آخر میں ایک بات کہتا ہوں کہ مولانا نے سورہ صف کی آخری آیت کا ایک جگہ تذکرہ کیا ہے، جس پر ایک صاحب الزام یہ لگاتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خان کہتے ہیں کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں چلے گا، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کا طریقہ چلے گا۔ اس کی تحقیق میں نے کی تو پتہ چلا کہ یہ تو بالکل بےہودہ بات ہے۔
یہاں پر تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جس طرح سے عیسیٰ کے حواریوں نے ان کی مدد کی تھی، اسی طرح تم لوگ مدد کرو۔ مختصراً، لوگ مخالفت میں اس قدر گر جاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ایمان والا بھی کہتے ہیں، اور جھوٹے الزام بھی لگاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔
قرآن سورہ نمبر 3 آیت 61 نے کہا ہے، اور بخاری حدیث نمبر 34 میں ایسے لوگوں کو منافق کہا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ مومن چوری کر سکتا ہے، مومن زنا کر سکتا ہے۔ صحیح البخاری حدیث نمبر 5827۔ مومن بخیل ہو سکتا ہے، مومن بزدل ہو سکتا ہے، لیکن مومن جھوٹا جھوٹ نہیں بول سکتا۔
موطا امام مالک حدیث نمبر 2832۔ بعض لوگ مخالفت میں اس حد تک گر گئے کہ اتنے جھوٹے الزامات لگا بیٹھے۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔ وما علینا الا البلاغ۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 231۔