Maulana Wahiduddin Khan
24 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Eik Qari-e-Al-Risala ki Dairy

Urdu · 24 min

اقاری الرسالہ کی ڈائری، نظیر الاسلام، پلوامہ، کشمیر: "زندگی ایک نازک امتحان ہے۔ انسان اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور بھاری ذمہ داریوں کے اعتبار سے خدا کی شاہکار مخلوق ہے۔ انسان نے عظیم صنعتی انقلاب برپا کر کے دنیا کو جنت کا نمونہ بنایا، مگر یہی انسان کا مقصدِ تخلیق نہیں ہے۔ انسان کو خدا نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس دنیا کو اس کے لیے امتحان گاہ بنایا ہے۔

عبادت اپنے حقیقی معنوں میں اپنا سب کچھ خدا کے حوالے کر کے خدا کو اپنا سب کچھ بنانا ہے۔ مگر خدا نے انسان کو عمل کی آزادی دے رکھی ہے۔ انسان کے لیے اپنی آزادی کو غیب میں چھپے ہوئے خدا کے حوالے کرنا ہمیشہ انتہائی مشکل کام رہا ہے۔ اس میں جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ذبح کرنا، ہلاک کرنا، کچلنا اور روندنا پڑتا ہے، تاکہ آخرت میں خدا کے انعام کے طور پر اس کو جنت کی ابدی زندگی حاصل ہو۔

مگر تمام انسان، سوائے ان لوگوں کے جو سچے مومن ہوں، اس عظیم قربانی کا ثبوت دینے میں ناکام رہ جاتے ہیں، اور بالآخر جہنم کی ہولناک آگ اور دردناک عذاب سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دورِ حاضر میں فتنوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں، کیسے جہنم سے بچ کر جنت کا باسی بنا جائے؟ مولانا وحید الدین خان نے زندگی بھر یہی منزل دکھانے کا کام کیا ہے۔ مگر قرآن کے الفاظ میں— وَمَا يُلَقَّىٰ إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّىٰ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ سورۃ نمبر 41 آیت 35 میں یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔

مولانا وحید الدین خان اپنی تحریر کے آئینے میں دو احساسات ہر وقت غم کا پہاڑ بن کر میرے اوپر چھائے رہتے ہیں: ایک دعوتِ دین اور اصلاحِ امت کی ذمہ داری، دوسرے آخرت کی جواب دہی کا مسئلہ۔ ان دو غموں کے نیچے میری شخصیت گویا کچل کر رہ گئی ہے۔ کتنا جینے کی ضرورت ہے، اور حال یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی جینے کی طاقت نہیں۔ اسی طرح آخرت کی دنیا میں لازمی طور پر داخل ہونا ہے، اور آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کی ذرا بھی ہمت نہیں۔

ایک صاحب نے مولانا وحید الدین خان سے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہا ہوں اور ان کو پسند کرتا ہوں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون؟ مولانا نے جواب میں کہا کہ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون؟ میری دعوتی جدوجہد تقریباً 50 سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں میں نے اپنا خون خشک کیا، میری شخصیت ویران ہو گئی، میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا۔

مگر اب بھی ہر طرف وہی حال نظر آتا ہے جس کی مثال انجیل میں ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ "ہم نے بانسری بجائی مگر تم نے رقص نہیں کیا، ہم نے ماتم کیا مگر تم نہیں روئے"۔ خدا کی دریافت نمبر 1: زندہ اور طاقتور خدا پر یقین کرنا اتنا عجیب ہے کہ ماننے والے بھی اس کو نہیں مانتے، اور جاننے والے بھی اس کو نہیں جانتے۔ خدا مکمل طور پر ظاہر ہونے کے باوجود مکمل طور پر چھپا ہوا ہے۔ وہ اپنی تخلیق میں مکمل طور پر ظاہر ہے، مگر اپنی ذات میں وہ مکمل طور پر پوشیدہ ہے۔

براہِ راست طور پر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے، مگر بالواسطہ طور پر اس کا مشاہدہ آخری حد تک ممکن ہے۔ نمبر 2: انسان کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے، اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے رابطہ قائم کرنے کا کیا ذریعہ ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسان کی زندگی نہ صرف نامکمل ہے، بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔

جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو، وہ بلاشبہ سب سے بڑا مفلِس ہے، خواہ بظاہر اس نے ساری دولت کے ڈھیر کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا ہو۔ نمبر 3: اس دنیا میں سب سے بڑا پانا یہ ہے کہ آدمی نے خدا کو پا لیا ہے، اور سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی خدا کو پانے سے محروم رہا۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی۔ اور جو لوگ خدا کو پانے سے محروم ہوں، وہ گویا محرومی کی آخری حالت پر پہنچ گئے ہیں، جہاں محرومی ہی محرومی ہے، اول بھی اور آخر بھی۔

خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور اس کے لیے آنسو بہانے کی کیفیت پیدا کرنے کے زیادہ مؤثر ذرائع ہیں جو آدمی کے اپنے پاس موجود ہیں اور ہر وقت حاصل ہو سکتے ہیں۔ وہ مؤثر ذرائع یہ ہیں: نمبر 1: قرآن میں تدبر کرنا، نمبر 2: کائنات میں غور و فکر کرنا، نمبر 3: ہر آن اپنے رب کو یاد کرنا، نمبر 4: ہر آن اپنے... نمبر 4: نماز میں ہمہ تن مشغول ہونا، نمبر 5: دعا و استغفار میں اپنے آپ کو لگائے رہنا، نمبر 6: خدا کی یاد میں کھو جانا، نمبر 7: صبر و شکر اور قناعت کی زندگی اختیار کرنا، نمبر 8: آخرت کی طلب میں اپنے ذوق، اپنی عادتوں اور اپنے عیش و آرام کو ترک کرنا، نمبر 9: تنگی کے باوجود خدا کی خوشنودی میں خرچ کرنا، نمبر 10: دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس کے خدائی مشن کو اپنا مقصد بنانا۔ اس قسم کے بے شمار مواقع ہیں جو ہر وقت اور ہر جگہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ان میں سے ہر ایک آپ کو تڑپا دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں خدا کے فرشتے ترقی، ترقیِ ایمان کی بے حساب غذائیں تقسیم کر رہے ہیں۔ خدا کی معرفت اول دن سے میری تلاش کا مرکز رہا ہے۔ میرا دن اور میری راتیں اسی تلاش میں گزری ہیں، یہاں تک کہ شاید میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کو پا لیا ہے۔

یہ موضوع بلاشبہ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع ہے۔ زمین و آسمان گواہ ہیں کہ میں سب سے زیادہ توحید کے موضوع پر سوچتا ہوں، میں سب سے زیادہ آخرت اور جنت کی باتوں میں گم رہتا ہوں۔ آدمی کو زندہ خدا کا اتنا زیادہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو بالفرض اپنے آپ پر شک ہو۔ شک تو ہو، لیکن اللہ رب العالمین کے وجود پر ادنیٰ درجے میں بھی اس کے اندر کوئی شک پایا نہ جائے۔

اس کو اس بات کا زندہ یقین ہو کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی پکڑ میں ہے۔ یہ یقین و ایمان کسی کو ذکر و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یقین کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ جہاں تک انسان کے وجدان یعنی انٹیوشن کا تعلق ہے، اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا انسان کا وجود۔

اس دنیا میں کامیاب انسان وہ ہے جو حقیقی یقین پر کھڑا ہو سکے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کی دنیا میں چند خوش نصیب روحوں کے سوا کسی کو بھی حقیقی یقین کا سرمایہ حاصل نہیں۔ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے، اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ سب سے بڑی حقیقت اللہ رب العالمین ہے۔

اس ذات کو پا لینا ہی آدمی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی جہاں اپنے رب کو پاتا ہے، وہ سجدہ ہے۔ مگر سجدہ حقیقی معنوں میں سجدہ اس وقت بنتا ہے جبکہ سجدے سے باہر کی دنیا میں آدمی تواضع اور جھکاؤ کی زندگی اختیار کر چکا ہو۔ ایسا شخص اپنی نفسی حالت کے اعتبار سے اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کی تجلیات کا آخذ یعنی ریسپینٹ بن سکے۔

اس کے لیے سجدہ حقیقی معنوں میں رب العالمین سے ملاقات کا مقام بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سجدے سے باہر کی زندگی میں خوش پسند اور متکبر بنا رہے، اس کی روح کے اندر شیطان اپنے گھونسلے بنا لیتا ہے۔ اس کا سجدہ غفلت اور بے کیفی کا سجدہ ہوتا ہے۔ اس کا سجدہ اس کو خدا سے نہیں ملاتا، اس کا سجدہ اس کو خدا سے قریب نہیں کرتا۔

اصل یہ ہے کہ انسان لامحدود اطمینان چاہتا ہے، مگر دنیا کی چیزیں اس کو محدود اطمینان دیتی ہیں، اس لیے وہ اس کی تسکین نہیں بنتی۔ یہ صرف اللہ کی یاد ہے جو نفسیاتی سطح پر انسان کی فطری طلب کا حقیقی جواب ہے۔ أَلَا بِذَكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ سورۃ نمبر 13 آیت 28 یعنی سن لو، بتاکید جان لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ اس لازوال ہستی میں اپنا دل لگایا جائے جو حقیقی اور ابدی ہے۔

اپنی امیدوں اور تمناؤں کو اس عالم کے ساتھ وابستہ کیا جائے جو ان تمام کمیوں اور محدودیتوں سے پاک ہوگی جن کی وجہ سے موجودہ دنیا ہمارے خوابوں اور تمناؤں کی تعبیر بننے نہیں پاتی۔ جو اللہ کو پا لیتا ہے، وہ گویا اپنا سب کچھ پا لیتا ہے۔ دنیا میں اگر اس کو تکلیف پہنچے تب بھی وہ مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے، وہ بالآخر اس کو منزل پر پہنچانے والا ہے۔ آدمی کی امیدیں اور احساسات جہاں اٹکے ہوئے ہوں، وہیں وہ جی رہا ہے۔

اس اعتبار سے دیکھیے تو ہر آدمی خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، کہیں نہ کہیں جی رہا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر بار اور بال بچوں میں جیتا ہے، کوئی اپنی معاش اور کاروبار میں جیتا ہے، کوئی اپنی سیاسی اور قیادتی سرگرمیوں میں جیتا ہے، اور کوئی اپنی عزت اور اقتدار کے خوابوں میں جی رہا ہے۔ مگر یہ تمام جینا جہالت کا جینا ہے۔ یہ اپنا آشیانہ ایسی شاخوں پر بنانا ہے جن کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

حقیقی جینا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب میں جینے لگے، وہ اس سہارے کو پکڑے جس کے سوا اس کائنات میں کسی کے لیے کوئی سہارا نہیں۔ وہ اللہ کی یاد کو لے کر سوئے اور اللہ کی یاد کے ساتھ صبح کرے۔ وہ اسی کے بھروسے پر چلے اور اسی کے بھروسے پر رکے، وہ اسی کے لیے بولے اور اسی کے لیے خاموشی اختیار کرے۔ خدا کو پانے کی قیمت طالبِ خدا کی خود اپنی ذات ہے۔

اس سے کم تر کوئی چیز خدا کو پانے کی قیمت نہیں بن سکتی۔ اپنی نفی نہیں تو خدا کی یافت بھی نہیں۔ خدا کو پانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی خدا کو اپنا واحد کنسن نہ بنا سکے۔ خدا کو پانے کے لیے بلاشبہ یہی سب سے زیادہ اہم بات ہے۔

علم کے بارے میں کسی بزرگ کا قول ہے: "علم تم کو اپنا جز صرف اس وقت دیتا ہے جبکہ تم اس کو اپنا کل دے دو"۔ یہی بات خدا کو پانے کے لیے بھی درست ہے۔ خدا کو پانے کی قیمت یہ ہے کہ آدمی اپنا سب کچھ خدا کو دے دے۔ وہ خدا کو اپنا واحد کنسن بنائے۔

وہ خدا کی سوچ کو لے کر شام کو سوئے اور خدا کی سوچ کے ساتھ صبح کو جاگے۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا زیادہ غرق کرے کہ وہ اس کا خواب دیکھنے لگے۔ خدا کو پانے کی قیمت کامل حوالہ کی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو خدا کے حوالے نہ کرے، خدا کی یافت کے دروازے بھی اس کے لیے نہیں کھلتے۔

اگر آدمی چاہتا ہے کہ اس کو دنیا میں حیات طیبہ حاصل ہو، آخرت میں وہ جہنم کے دردناک عذاب سے بچے اور اس کو جنت نعیم کی فراخی نصیب ہو، تو اس کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی دین توحید کو اختیار کرے۔ دین توحید یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس طرح خدا میں شامل کرے کہ صرف ایک اللہ اس کے یقین اور خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود، اس کا دل و دماغ، اس کے جذبات و کیفیات خدا کی امانت ہیں۔ انسان کی زندگی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا ایک مرکز ہو اور وہ ایک خدا ہو۔

اس کے جذبات، اس کی سوچ، اس کی سرگرمیاں اور اس کا سب کچھ پرواہ پرواہ نہوار خدا کے گرد گھومنے لگے۔ عظمت خداوندی کا اعتراف تاریخ اسلام میں سامانی سلطنت کا ایک حاکم نصر ابن احمد ابن سامان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے نیشاپور کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک جشن منعقد کیا۔ جب وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھا تو اس کی فرمائش کے مطابق تخت نشینی کی افتتاحی رسم قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی۔

مجلس میں ایک عالم موجود تھے، انہوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ انہوں نے سورہ المومن کا ایک حصہ پڑھا جس میں یہ آیت بھی تھی: يَوْمَهُمْ بَارِزُونَ لَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ ۗ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمُ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارُ سورۃ نمبر 40 آیت 16 یعنی جس دن کہ وہ ظاہر ہوں گے اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہ ہوگی۔ آج بادشاہی کس کے لیے ہے؟ اللہ واحد و قہار کے لیے۔

مذکورہ عالم تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو سلطان نصر ابن احمد پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ ہیبت زدہ ہو کر تخت سے اتر پڑا، تاج کو اپنے سر سے اتارا اور سجدے میں گر گیا۔ اس نے کہا: "اے میرے رب! بلاشبہ بادشاہی تیری ہے، نہ کہ میری۔

" پیغمبر اسلام نئے انداز میں مولانا وحید الدین خان صاحب نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر کئی اعلیٰ پائے کی کتابیں لکھی ہیں جن میں مولانا نے تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام کو بطور انسانی ماڈل پیش کیا ہے۔ اس سے پہلے لوگ پیغمبر اسلام کو ایک فوق الفطری اور پراسرار شخصیت کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ حیات طیبہ کی اس قسم کی توجیہ اور تشریح جدید ذہن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے اور ان کی انسانی عظمت کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ مولانا نے پیغمبر اسلام کو فوق البشر کے بجائے اسوۃ البشر یعنی انسان کے لیے نمونے کے طور پر پیش کیا۔

اس کے علاوہ مولانا نے دور جدید میں ان سنتوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے جن کا تعلق اعلیٰ انسانی اقدار سے ہے۔ ان میں دو سنتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک سنت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم سے ہے اور دوسری سنت کا تعلق دعوت کے درد سے۔ خلق عظیم کا مطلب ہے مکمل طور پر ایک طرفہ حسن سلوک جو مدعو کے دل کو جیتنے کے لیے شرط اول ہے۔

جہاں تک دعوت کے درد کا تعلق ہے، سورہ الکہف آیت چھ، سورہ الشعراء آیت تین اور سورہ فاطر آیت آٹھ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خدا کا مومن بنانے کے لیے اتنا زیادہ بے قرار رہتے تھے گویا کہ آپ اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ اس سلسلے میں سورہ الشعراء میں یہ الفاظ آئے ہیں: لَعَلَّكَ بَاخِعُ النَّفْسَ كَاَنَّهُمْ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ سورۃ نمبر 26 آیت 3 یعنی شاید تم اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے اس بات پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ تجدیدی کام تجدید کا مطلب کیا ہے؟ اس کو مولانا نے خود اپنی کتاب میں واضح کیا ہے۔

تجدید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں کوئی نئی چیز نکالی جائے۔ حدیث میں جس تجدیدی عمل کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کو اثر نوع اس کی اصل صورت میں واضح کرنا۔ دین کو انسانی ملاوٹوں سے پاک کر کے اس کو اس کی ابتدائی صورت میں سامنے لے آنا، جیسا کہ پیغمبر نے اس کو اپنے زمانے میں پیش کیا تھا۔ تجدید دین اس اعتبار سے مولانا وحید الدین خان اس دور کے عظیم مجدد ہیں۔

ان کے تجدیدی کارناموں میں سے چند یہ ہیں: نمبر ایک، انسان ایک عاجز مخلوق واقع ہوا ہے۔ وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کے لیے ایک برتر ہستی کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان اپنی امیدوں اور تمناؤں کی تکمیل کے لیے ایک لامحدود دنیا چاہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان جس خارجی سہارے کی تلاش میں ہے، وہ اس کا خدا ہے جو انسان کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔

اور انسان جس کامل دنیا کو پانا چاہتا ہے، وہ جنت ہے جو انسانوں کو موت کے بعد خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے نتیجے میں آخرت میں حاصل ہوگی۔ الرسالہ فکر ان دونوں تقاضوں کا مفصل اور مدلل جواب فراہم کرنا کرتا ہے۔ وہ تمام ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جو اس جو اس خدائی سچائی کو پانے میں ناکام رہتے ہیں، وہ یا تو مایوسی، ناکامی اور عدم تحفظ کی زندگی گزار کر تبھی موت مرتے ہیں یا خودکشی کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے الرسالہ فکر آخری پناہ گاہ ہے۔

الرسالہ فکر انسان کے تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب دیتا ہے۔ وہ آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردوں کو ہٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ انسان اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک کرنے لگتا ہے۔ نمبر دو، الرسالہ فکر پیغمبرانہ مشن کی صحیح ترین تعبیر اور تشریح ہے جو عقل و فطرت کے ناقابل تردید دلائل اور شواہد پر مشتمل ہے۔ نمبر تین، الرسالہ فکر کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں: سچائی کی تلاش، بے آمیز حق کی دریافت، معرفت خداوندی، انسانی عجز کی حقیقت، تزکیہ نفس اور دعوت الی اللہ۔

نمبر چار، الرسالہ مشن اسلام کے بنیادی موضوعات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے تخلیق آدم کی حقیقت اور اس کے تقاضے، توحید، آخرت، رسالت، شہادت حق، امن اور اسلام کو درپیش جدید چیلنجوں کا تجزیہ اور ان کا رد شامل ہیں۔ قومی، سیاسی اور عسکری اسلام کی آئیڈیالوجی کے مقابلے میں مولانا نے امن، انسانیت اور روحانیت کی آئیڈیالوجی دی ہے۔ نمبر پانچ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔

اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اب کار نبوت کا کام آپ کے امتیوں کو انجام دینا ہے۔ اس لیے قرآن میں امت محمدی کو امت وسط بتایا گیا اور کار نبوت کو امت مسلمہ کا مقصد وجود بتایا گیا۔ مولانا نے دعوت الی اللہ اور شہادت حق کے اس قرآنی تصور کو زندہ کیا جو دور رسالت میں موجود تھا اور جو صدیوں سے اسلامی لٹریچر میں اپنی مربوط، مدلل اور مکمل صورت میں غائب ہو چکا تھا۔

نمبر چھ، الرسالہ مشن خالص اثاثیات دین پر مرکوز مشن ہے۔ یہ مشن ان تمام فروعی اور ضمنی حد بندیوں سے اوپر ہے جن کی وجہ سے نئی نئی جماعتیں اور فرقے وجود میں آتے ہیں۔ نمبر سات، صاحب رسالہ نے ایمان، عبادت، ذکر، تزکیہ، معرفت، خشوع اور ربانیت جیسی قرآنی اصطلاحات کی معنوی اہمیت کو نئے انداز میں پیش کیا۔ نمبر آٹھ، احادیث رسول میں اخوان رسول کا خصوصی تذکرہ آیا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو دور آخر میں دین حق کے اعلان و اظہار کے مشن کو پورا کریں گے۔ ان لوگوں کو خدا کے فضل سے مثل صحابہ ایمان عطا ہوگا۔ مولانا نے اخوان رسول کے رول کو نمایاں کیا اور مسلمانوں کو اخوان رسول کی اہمیت کا احساس دلایا تاکہ وہ اس گروہ میں شامل ہو کر سعادت اخروی کے امیدوار بنیں۔ نمبر نو، صاحب رسالہ کا اسلوب بیان تجزیاتی ہے۔

اس اسلوب بیان کے خاص اجزاء یہ ہیں: سائنسی طرز استدلال، لفاظی سے دوری، واقعیت اور موثر انداز میں حقائق و افکار کو ترتیب وار پیش کرنا۔ تجدید و احیائے دین کے سلسلے میں مولانا کے ذریعے زمانے کے معیار کے مطابق انتہائی طاقتور لٹریچر وجود میں آ چکا ہے جو دنیا کے تمام اعلیٰ درجے کے لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لیے کافی کافی ہے۔ داعیان حق کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم اس لٹریچر کو حق سے غافل یا حق سے بے خبر بندگان خدا تک پہنچا دیں تاکہ ہم خدا کی بارگاہ میں بری الذمہ ہوں اور لوگوں کے لیے عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس خدائی کام کو اپنا ذاتی مسئلہ بنائیں اور ہم اپنی تمام صلاحیتوں اور وسائل کو اس مشن میں لگا دیں تاکہ ہم ان سعادتوں کے امیدوار بنیں جو ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں مقدر ہیں۔

ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آج تک ہم اس دعوتی مہم میں اپنے آپ کو یا اپنے مال کو کتنا خرچ کر کر چکے ہیں اور آئندہ کے لیے ہمیں شعوری طور پر یہ طے کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وسائل کا کتنا حصہ اس کام کے لیے وقف کرنے کے لیے تیار ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں کرنے کی قیمت ہے نہ کہ صرف کہنے کی۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 222 222 تا 230۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.