سوشل میڈیا پر مولانا صاحب کے اتنے چاہنے والوں کو دیکھ کر رشک آیا۔ کسی بڑی شخصیت کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد، اُس شخصیت کے ساتھ وفاداری کا واحد راستہ یہ ہے کہ اُس کے مشن کو زندہ رکھا جائے، اور اُس کو مسلسل چلاتے رہنا چاہیے۔ یوں تو دنیا میں بہت ساری شخصیات آئیں اور چلی گئیں، بعض اپنے زمانے میں مشہور بھی تھے۔ لیکن زمانے نے جب کروٹ بدلی تو اُس شخصیت کو کوئی پہچاننے والا بھی نہ تھا۔
اور بعض ایسے ہیں کہ جن کا نام اب بھی دنیا کے ہر کونے میں زندہ ہے۔ انسان اپنی جسمانی زندگی کے حساب سے اس دنیا میں محدود مدت کے لیے آتا ہے۔ لیکن انسان اگر اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو فکری و عملی حساب سے وہ ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے۔ شخصیات کا دارومدار اُس کے فالوورز کی وفاداری و بے وفائی پر ہوتی ہے۔
فالوورز وفا کر لیں اور مشن کو زندہ رکھیں تو شخصیت ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ نہیں۔ سراج احمد بادینی، کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 220۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.