Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

MWK ki Fikr aur Merey Taassuraat

Urdu · 4 min

مولانا وحید الدین خاں کی فکر اور میرے تاثرات۔ سید اسفندر یار پاکستان۔ 21 اپریل 2021 کو مولانا وحید الدین خاں صاحب کا انتقال ہو گیا، وہ دن بھی مجھے یاد ہے جس دن پہلی مرتبہ میرے ہاتھ میں مولانا صاحب کی کتاب آئی تھی۔ یہ 2003 کی بات ہے، رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں، میں چند دوستوں کے ساتھ اعتکاف کے لیے بیٹھا تھا۔

میرے ایک دوست کے پاس مولانا صاحب کی کتاب "اللہ اکبر" موجود تھی، اس نے مجھے پڑھنے کے لیے دی۔ میں نے اس کتاب کے دو تین صفحات پڑھے اور اچانک ہی میری کیفیت بدل گئی، مجھے ایسا لگا کہ اچانک میں نے کوئی چیز پا لی ہو جس کو میں بچپن سے ڈھونڈ رہا تھا۔ جیسے یہی کتاب میرے سوالوں کا جواب بن گئی ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ جیسے اچانک میں نے راستہ ڈھونڈ لیا ہو جس کے سہارے میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہو جاؤں گا۔

مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی ان دیکھی طاقت نے میرے ہاتھ میں مولانا صاحب کی کتاب تھما دی ہو اور سرگوشی کی زبان میں مجھ سے کہہ رہا ہو کہ اس کتاب کو پڑھو۔ میں نے اس کے بعد ساری کتاب ایک ہی رات میں ختم کر ڈالی، اور اگلے دن دوست سے کہا کہ اس مولانا صاحب کی کوئی دوسری کتاب مجھے پڑھنے کے لیے دو۔ میری جب مولانا صاحب کی فکر سے شناسائی ہوئی تو اس پر میں خدا کا شکر بجا لایا تھا کہ یہ خدا کی طرف سے میرے اوپر مہربانی ہے، اور اس سے بھی زیادہ بلیسنگ میں سمجھتا ہوں۔ جب میں اپنی جوانی کے ابتدائی سالوں میں تھا، میں اس وقت انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا، جب مولانا صاحب کی فکر سے روشناس ہوا۔

مولانا صاحب کی مثبت طرز فکر سے میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ شاید اپنے تاثرات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ بہت کم ہیں، اور بات بہت بڑی۔ نمبر 1: مولانا صاحب کی فکر سے میں نے آج کے دور میں خالص اسلام کو جانا۔ نمبر 2: مولانا صاحب کی فکر سے میں نے اسلام کو تجرباتی کیفیت کے طور پر دریافت کیا۔

نمبر 3: مولانا صاحب کی فکر سے میں نے اسلام کی سچائی کو بے آمیز شکل میں دیکھا۔ نمبر 4: مولانا صاحب کی فکر کو پڑھنے کے بعد میری بے قیمت زندگی مجھے قیمتی نظر آنے لگی۔ نمبر 5: مولانا صاحب کی فکر سے میں نے پایا کہ میری اندرونی تڑپ نے باہر کی دنیا سے مطابقت کر لی ہو، اور جیسے میرے سوالوں کا جواب مجھے مل گیا ہو۔ نمبر 6: مولانا صاحب کی فکر سے میں نے دور حاضر کے عصری اسلوب کو بہتر طور پر سمجھا۔

نمبر 7: میں سمجھتا ہوں کہ پوری امت مسلمہ میں واحد مولانا صاحب کا لٹریچر ہے جو جدید افکار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ نمبر 8: مولانا صاحب کے لٹریچر کے مطالعے کے بعد میں نے اپنی پوری سوچ میں مثبت تبدیلی محسوس کی، اور اپنے دنیاوی معاملات کو مثبت طرز فکر سے حل کرنے کی کوشش کی۔ نمبر 9: مولانا صاحب کے فکری نظریات سے دین اسلام کو میں نے واحد مستند دین سمجھا۔ نمبر 10: مولانا صاحب کا لٹریچر آدمی کو ایک حقیقت پسند انسان بناتا ہے۔

نمبر 11: میں نے مولانا صاحب کے لٹریچر سے خدا کے منصوبۂ تخلیق کو بہتر انداز میں سمجھا۔ نمبر 12: مولانا صاحب کے لٹریچر سے انسان کا ذہنی ارتقاء ہوتا ہے۔ کتاب "دائی اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 219۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.