مولانا وحید الدین خاں ایک ایسے عالم تھے جنہوں نے دین کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ زندگی آموز کتابیں بھی لکھیں، اور بتایا کہ زندگی میں جامد فقہی احکام کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ان کے اسفار، ان کی ڈائیریاں، اور انگریزی اخبارات سے زندگی آموز واقعات پر نوٹ، سب قابلِ مطالعہ ہیں۔ بہت سال ہوئے کشمیر پر ان کا موقف پڑھا تھا تو طے شاید تھا، آج آج سو سو جوتے کھا کر محسوس ہوتا ہے، آج سو جوتے کھا کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ درست کہتے تھے۔ زندگی اور سیاست سے متعلق ان کے جیسی بصیرت کسی اور عالم میں شاید ہی ہو۔
تعبیر کی غلطی کیسی مدلل کتاب ہے، انداز ایسا جیسے کہتے ہوں کہ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ کوئی زور زبردستی نہیں، کوئی غصہ نہیں۔ یار عزیز ابو امش ان کے پرستار تھے، اور انہوں نے ہی ان کی تحریروں سے متعارف کرایا۔ ایک بار دیکھا کہ استنبول میں غلطے پل کے سامنے مسجد میں ان کا کیا قرآن کا انگریزی ترجمہ مفت بٹ رہا تھا۔
اللہ کوششوں کو قبول کرے۔ سید کاشف رضا کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 218۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.