← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Islam ka Dayee-a-Bey Misl
Urdu · 18 min
اسلام کا داعیِ بے مثل، نعیم بلوچ، لاہور۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی پر سب سے اچھی تنقید مولانا وحید الدین نے کی ہے: "آپ تعبیر کی غلطی پڑھیے"۔ سال تو یاد نہیں، لیکن اتنا یاد ہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جب استادِ محترم جاوید احمد غامدی سلطان پورے میں تشنگانِ علم کے لیے آسودگی کا باعث تھے، اور ہماری ان سے ملاقات کو شاید ابھی 2. 5 برس ہی ہوئے ہیں ہوئے تھے۔
استادِ محترم کی بہت سی عنایات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں مختلف اہلِ علم کی تصنیفات اور عالمِ اسلام کی علمی شخصیات سے متعارف کراتے رہتے ہیں؛ چنانچہ مولانا امین حسن اصلاحی اور مولانا وحید الدین سے تعارف انہی کی وجہ سے ہوا۔ تعبیر کی غلطی بڑی مشکل سے ملی۔ معلوم ہوا کہ ایک جماعت کے کچھ لوگوں نے کتاب کے شائع ہوتے ہی بازار سے اس کے زیادہ تر نسخے اٹھا لیے تھے۔ اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم پایا: پہلے حصے میں مولانا وحید الدین خان نے وہ داستانِ ہوش ہوش رُبا بیان کی تھی کہ وہ کیسے اس کتاب کو شائع کرنے پر مجبور ہوئے۔
اسے پڑھنے کے بعد قاری مولانا مودودی کے بارے میں خوفناک تحفظات کا شکار ہو سکتا ہے، یا وہ مولانا وحید الدین کو جھوٹا قرار دے کر کتاب ایک طرف رکھ دے گا کہ بانیِ جماعت اسلامی ایسے کردار کے مالک نہیں ہو سکتے۔ میں تو یقیناً کتاب ایک طرف رکھ دیتا، لیکن میرے ذہن میں مولانا مودودی سے انتہائی عقیدت کے جذبات کچھ کچھ مجروح ہو چکے تھے۔ اصل میں جماعتِ اسلامی سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے اس کی تاریخ کا مطالعہ بھی کرتا تھا۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ ماچھی گوٹھ ماچھی گوٹھ 17 تا 21 فروری 1957 عیسوی کے اہم اجلاس کے بعد مولانا مودودی نے جو کچھ کیا، اس کی کیا اخلاقی توجیح کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ 1951 تا 53 کے صوبائی انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے بڑے زور شور سے حصہ لیا تھا، لیکن اسے توقعات سے برعکس انتہائی سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر پیدا ہونے والی بے چینی کا نتیجہ ایک کمیٹی کی شکل میں نکلا، جس نے جماعت کے اراکینِ شورا سے ملاقاتوں کے بعد اپنی یہ سفارشات پیش کیں کہ جماعتِ اسلامی کو عملی سیاست میں آنے سے پہلے معاشرے کی فکری اور اخلاقی تربیت کے کام کو اولیت دینی چاہیے۔ لیکن مولانا مودودی نے انتہائی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی انداز میں کمیٹی کی ان سفارشات کے خلاف فضا پیدا کر دی۔ اس کی وجہ سے جماعتِ اسلامی کے بڑے بڑے رہنما جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔
ان میں مولانا امین حسن اصلاحی اور ڈاکٹر سید اسرار احمد بھی شامل تھے۔ اس داستان کو پڑھنے کے بعد جماعتِ اسلامی کی تاریخ سے واقف ہر غیر جانبدار شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ مولانا مودودی اپنے مخصوص دینی نظریات اور حکومتِ الہیہ کے خود ساختہ تصور کی ترویج کے لیے بہت سے اخلاقی اصولوں کے قائل نہیں ہیں، اور جماعتِ اسلامی اصل میں جمہوری اقدار کے بجائے بعض انتہائی فاشٹ اور آمرانہ خصائص کو دین کا حصہ سمجھتی ہے، اور اس حقیقت کی گواہی اسے جماعت کی عملی جدوجہد کی تاریخ کے ہر صفحے پر جا بجا ملتی ہے۔ تعبیر کی غلطی کا پہلا حصہ اس کا دستاویزی ثبوت ہے۔ تعبیر کی غلطی کا دوسرا حصہ ایک اعلیٰ درجے کی علمی تحقیق ہے۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جماعت اور مولانا مودودی پر متعدد علماء کی علمی تنقیدیں نکلی تھیں، لیکن یہ محض تاثراتی تھیں۔ علماء ان پر کامیاب علمی نقد نہیں کر سکے تھے، لیکن مولانا وحید الدین خان نے اس تنقید کا حق ادا کر دیا۔ انہوں نے بتا دیا کہ مولانا مودودی کی فکر ان کی کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات" پر استوار ہے۔ اس میں انہوں نے الہ، رب، عبادت اور دین کو زیرِ بحث لا کر ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے کہ ان چار اصطلاحات پر قرآن کا درست فہم منحصر ہے۔
لیکن امتدادِ زمانے سے ان کا درست فہم اس قدر گہنا چکا ہے کہ لغات میں بھی وہ فہم موجود نہیں رہا جو اصل میں تھا۔ اس لیے دین کی تعبیر وہ نہیں رہی جو حقیقت میں تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ان اصطلاحات کی وضاحت کی اور اپنے تئیں ان کے معنی متعین کیے، اور اپنے تئیں ان کا معنی متعین کیے۔ اس کے بعد مولانا وحید الدین خان نے دلائل کے ساتھ واضح کیا کہ مولانا مودودی کی یہ تفہیم بالکل غلط ہے، یہ خود ساختہ ہے۔
اس سے دین کی ایک نئی تعبیر سامنے آئی ہے، جس کو انہوں نے بعد میں اپنی دوسری کتاب میں "دین کی سیاسی تعبیر" کا نام دیا۔ کیونکہ مولانا مودودی دین کو ریاست، عبادت کو ٹریننگ کورس، اور رب اور الہ کو ایک ایسی ذی اقتدار ہستی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنی مرضی کو آخری معنوں میں زمین پر نافذ دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس تعبیر کی روشنی میں دین کی تشریح یہ ہوئی کہ اصل میں یہ دنیا اللہ کی ریاست ہے۔ اللہ تعالیٰ کو الہ اور رب ماننے کا تقاضا ہے کہ اس کی مرضی کو پورے انسانوں پر نافذ کر دیا جائے۔
اس لیے سوائے اسلام کے دنیا پر کسی کی حکومت نہیں ہونی چاہیے، اسی کا غلبہ ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلام اور کچھ نہیں، بس غلبِ دین کی جدوجہد ہے۔ ساری عبادات اس کی ٹریننگ ہیں۔ دعوت، تبلیغ اور جہاد اس منزل کو حاصل کرنے کا راستہ ہے۔
اس کے برعکس مولانا وحید الدین خان فرماتے ہیں کہ زیرِ بحث اصطلاحات کے فہم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ انہوں نے قرآن مجید اور اسلامی تاریخ کے جید ائمہ اور علماء کی رائے نقل کر کے بتایا کہ الہ کا مطلب اللہ تعالیٰ ہے۔ جس میں تمام جملہ صفات آتی ہیں۔ مگر مولانا مودودی نے اس میں ایک صفت ایک صفت حاکم مطلق کو تمام صفات پر حاوی کر کے الہ کے معنی کو محدود بھی کیا اور ایک رخا بھی۔
اس طرح رب کا مطلب اصل میں تو پالنے والا ہے، لیکن اس میں مالک و آقا کا مفہوم بھی متضمن ہے۔ مگر مولانا موصوف نے اس میں اسی معنی یعنی مالک و آقا کو لے لیا، اور جب دونوں مفہوم کو ملایا تو اچھا خاصا تمام صفات کا حامل اللہ تعالیٰ اچھا خاصا تمام صفات کا حامل اللہ تعالیٰ محض ایک ڈکٹیٹر فرما روا بن گیا۔ یہی حال عبادت اور دین کا ہے۔ عبادت تضرع، عجز اور فروتنی کا نام ہے۔
آپ خود کو اپنے معبود، خالق و آقا اور رحمان خدا سے انتہائی کم تر اور انتہائی کمزور مان کر اس سے مانگتے ہیں، اور اس کی محبت میں حمد و تسبیح کرتے ہیں۔ لیکن جب آپ اسے اصل میں حکمران سمجھتے ہیں، عبادت کو اللہ کی سلطنت میں کام کرنے کی قوت کے حصول کا ایک آلہ سمجھتے ہیں، اپنے آپ کو اللہ کی زمین پر اللہ کے اقتدار کو بحال کرنے کا ایک کل پرزہ سمجھتے ہیں، تو آپ میں عجز نہیں، تو آپ میں عجز نہیں، فخر و برتری کا جذبہ پیدا ہوگا۔ آپ بندے نہیں، فوجی پریڈ فوجی پریڈ میں تن کر کھڑے کمانڈوز ہوں گے۔ آپ کا رخ اپنی تربیت پر نہیں، دوسروں کی ایسی تیسی کرنے کے طریقوں پر ہوگا۔
مولانا وحید الدین خان نے اپنی تشریح میں متعدد مثالیں بھی دی ہیں، اور جماعت اسلامی کے معتقدین کا یہ پسندیدہ شعر تو ان کے اس دعوے کو آخری حد تک ثابت کر دیتا ہے کہ "میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی"۔ میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی۔ مولانا وحید الدین خان کی اس ساری تنقید کو ہم قرآن مجید کی ایک اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کریں تو وہ اقامت الدین ہے۔ مولانا مودودی اس کا مطلب دین نافذ کرنا بیان کرتے ہیں۔
مولانا مودودی اس کا مطلب دین نافذ کرنا بیان کرتے ہیں۔ اور مولانا وحید الدین خان دین پر قائم رہنا۔ ایک غیر مسلم ریاست میں اس آیت پر مولانا مودودی کے نظریے کے مطابق عمل اس طرح ہوگا کہ آپ وہاں غیر مسلموں کی حکومت کو ختم کر کے وہاں اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش کریں گے، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ چین ہو یا روس، ایسی باغیانہ کتاب کی اشاعت پر پابندی لگائے گا۔ اور عملاً صورتحال یہ ہوگی کہ وہ کروڑوں مسلمان جو غیر مسلم ممالک یا اسلام کو سرکاری مذہب نہ ماننے والے مسلم ملکوں میں بستے ہیں، وہ کامل ایمان کا مظاہرہ کریں تو انہیں اپنی اپنی حکومتوں سے بغاوت کر دینی چاہیے۔
یا اضطرار کے اصول پر جس طرح حرام کھایا جاتا ہے، اسی طرح وہ ان حکومتوں میں رہیں گے، اور جیسے ہی موقع ملے گا، کافروں اور زندیقوں کی حکومت کو ختم کر کے اعلائے کلمۃ اللہ کا جھنڈا بلند کریں گے۔ اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ مولانا مودودی غیر اسلامی ملک میں رہنا تو دور کی بات، وہاں کی نوکری کو بھی حلال نہیں سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ قرارداد مقاصد کی منظوری سے پہلے پاکستانی حکومت کی نوکری کو جائز بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس مولانا وحید الدین خان اور تمام ائمہ و علماء کی تشریح کی روشنی میں دین پر قائم رہنے کا حکم ہے، اور یہ کہ دین ریاست کے ہم معنی نہیں، بلکہ حقائق یعنی عقائد کو مان کر اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کا نام ہے۔
اس لیے جب آپ پر نماز فرض ہوگی، آپ نماز پڑھیں گے، روزہ رکھیں گے، انفاق کریں گے، استطاعت ہوگی تو حج کریں گے، قربانی کریں گے۔ اسی طرح آپ مسلمان ریاست میں حکمران یا سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں تو اسلامی شریعت کے نفاذ کی آئینی حدود میں رہ کر کوشش کریں گے۔ جیسے آپ کو زکوۃ اور انفاق تب کرنا ہے جب آپ کے پاس اس کی گنجائش ہوگی۔ یہ نہیں کہ اس کو ادا کرنے کے لیے پہلے دولت اکٹھی کریں گے، پھر انفاق کریں گے۔
اسی طرح یہ بھی نہیں کرنا ہے کہ پہلے آپ اسلامی ریاست قائم کریں گے یا حکومت حاصل کرنے کے لیے کوئی جماعت اس کوئی جماعت اسلامی بنائیں گے، پھر حکومت حاصل کر کے اسلامی نفاذ نافذ کریں گے۔ مولانا وحید الدین خان کہتے ہیں کہ اسی لیے جماعت کے لٹریچر میں واضح الفاظ میں پہلے اس مفہوم اس مفہوم کی عبارت لکھی ہوتی تھی کہ حکومت الہیہ کا قیام ہر مسلم مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس میں غیر جانبداری اصل میں باطل کی طرف داری ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ہماری حمایت نہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں تو آپ اللہ کے حضور اپنا عذر تیار رکھیں، ورنہ آپ آخرت میں جواب دہ ٹہرائے جائیں گے۔
لیکن مولانا وحید الدین خان کے نزدیک یہ دین میں دخل اندازی ہے۔ اس میں ایک نئے حکم کا اضافہ ہے۔ ایسا کوئی حکم اسلام میں نہیں جس طرح قاتل، چور اور زانی وغیرہ کو سزا دینا ہر آدمی پر فرض نہیں۔ اسی طرح شریعت کا نفاذ عام آدمی پر نہیں، حکمران پر فرض ہے۔
شارع نے کہیں بیان نہیں کیا کہ تم شریعت نافذ کرنے کے لیے حکمران بنو۔ اسلام کی اس غلط تعبیر کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جا بجا بیان کیا کہ پاکستان میں اس کے لیے جماعت اسلامی نے کسی حد تک آئینی اور جمہوری طریقہ اختیار کیا۔ لیکن جن معاشروں میں ان کو اس کی اجازت نہ ملی، وہاں القاعدہ اور اس قبیل کی بے شمار مسلح تحریکیں منظم ہوگئیں۔ اسی لیے جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم منور حسن، جو کسی مصلحت کے قائل نہیں تھے، اور ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم، اس تنظیم اسلامی صاف لفظوں میں اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے کر انہیں مجاہد اسلام کہتے رہے ہیں۔
اور مولانا وحید الدین خان تعبیر کی اس غلطی کے برے انجام کی طرف واضح الفاظ میں نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ تعبیر کی یہ غلطی کیوں سرزد ہوئی۔ غلط ہونے کے باوجود مسلمان معاشروں میں یہ تعبیر اتنی مقبول کیوں ہوئی؟ انہوں نے بجا طور پر اس پر بہت زیادہ لکھا اور خوب لکھا۔
فرمایا کہ مسلمان دین میں جامع تقلید اور دنیا میں سائنسی اور جدید سماجی علوم میں پیچھے رہنے کی وجہ سے پہلے سیاسی زوال کا شکار ہوئے، اور پھر اقتدار چھن جانے کی وجہ سے رد عمل کی نفسیات کا نشانہ بنے۔ ان کے لیڈروں، دانشوروں اور علماء نے غلط طور پر یہ سمجھا کہ ان کے ساتھ سازش ہوئی ہے، جبکہ وہ تو اپنی جہالت، تقلید اور زمانے کے نئے علوم سے بیگانہ ہونے کی وجہ سے یورپی اقوام کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے۔ اس موضوع پر انہوں نے جتنا شاندار لٹریچر تخلیق کیا ہے، اس کی عالم اسلام میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس میدان میں وہ ون مین آرمی تھے۔
اس موضوع پر انہوں نے انتہائی دلچسپ، مدلل اور آسان زبان میں لکھا، اور ماضی ہی نہیں، وہ جدید دور کے مسائل کو بھی زیر بحث لاتے رہے۔ اور مسلمانوں پر زور دیتے رہے کہ وہ سازشی تھیوریوں سے باہر نکلیں۔ دشمن تو سازش کرتا ہی ہے۔ ہمارا کام اس کی سازش کو سمجھ کر اس کا شکار ہونے سے محفوظ رہنا ہے۔
لیکن ہمارے اندھے راہ لیکن ہمارے اندھے راہ دکھانے والے ہمیں ٹکراؤ کی تعلیم دیتے رہے۔ حالانکہ ہمیں اعراض اور بچاؤ کی پالیسی اختیار کر کے ہر میدان میں تعلیم کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کا شاہکار جملہ ہے کہ "تخریب سے تعمیر ممکن نہیں، ہتھیار خریدنے والے ہتھیار بنانے والوں کو شکست نہیں دے سکتے"۔ شور مچانے، احتجاج کرنے والے غور و فکر سے محروم رہتے ہیں۔
مولانا وحید الدین خان کے لٹریچر اور علمی کاوش کا یہ صرف ایک پہلو ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے مسلمانوں کی کردار سازی میں اسلام کی دعوت کو پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے اندر مثبت ذہنیت کو پیدا کرنے کے لیے جو کام کیا، اس کی مثال شاید ہی اسلام کی علمی تحریکی اور سماجی تاریخ میں مل پائے۔ یہ ایک لمبا موضوع ہے جس پر مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ اتنی عظیم شخصیت کے ساتھ ادنی سا تعلق بھی بڑے اعزاز کی بات ہے۔
اس لیے میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر انہیں 90 کی دہائی میں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ان سے خط و کتابت کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی، اور انہوں نے آخر کار ہماری دعوت قبول کی، اور وہ پاکستان تشریف لائے۔ میری خط و کتابت کا ذکر انہوں نے اپنے سفرنامے میں بھی کیا، جو میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 211۔