← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Basair-o-Ebar ke Eik Ahd ka Khatima
Urdu · 5 min
بصائر و عیبر کے ایک عہد کا خاتمہ، ناظم اشرف مصباحی، مغربی بنگال، انڈیا۔ ہمارے ہاں تازیتی کلمات میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ "فلاں کے جانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا"۔ اکثر اوقات یہ لغو اور بے معنی معلوم ہوتا تھا، لیکن کل مولانا وحید الدین خان صاحب کے انتقال پر جب یہی الفاظ دیکھا تو لگا جیسے آج ان کلمات کو صحیح مقام مل گیا۔ واقعی مولانا کے ساتھ ایک عہدِ بصیرت، ایک عہدِ اسلوب، ایک عہدِ فکر و تدبیر کا خاتمہ ہو گیا۔
ان کا انتقال امت کے لیے کسی بڑے سانحے سے کم نہیں، بلکہ 2021 کو سب سے زیادہ اس سانحے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ 21 ستمبر 2017 کی شام کو جب سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری ہوئی تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مولانا کے گھر بھی پہنچا۔ سی پی ایس کے متحرک ممبر جناب یعقوب عمری صاحب اور دیگر حضرات نے استقبال کیا، اور مولانا سے ملاقات ہوئی اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا، مولانا نے مجھے امامت کے لیے آگے بڑھا دیا۔
اس کے بعد بھی طویل گفتگو رہی۔ بالآخر عشاء سے کچھ دیر پہلے رخصتی کی اجازت ملی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی ملاقات ہے۔ ان کی خوش اخلاقی بھی یاد ہے اور تمکنت بھی۔
اندازہ ہوا کہ مولانا جیسا لکھتے تھے ویسا بولتے بھی تھے۔ ان کی زبان و تحریر میں مجھے فرق نظر نہیں آیا۔ وہی الفاظ، وہی چھوٹے جملے، وہی تعبیرات۔ ڈاکٹر ذیشان صاحب نے انہیں "بیسویں صدی کی مسلم بصیرت" کہا ہے۔
ڈاکٹر ذیشان صاحب نے انہیں "بیسویں صدی کی مسلم بصیرت" کہا ہے، جو سو فیصد درست کہا ہے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود مولانا وحید الدین خان صاحب کا طرز تحریر اور اسلوب ہر ایک کے نزدیک مسلم ہے۔ انہوں نے اپنی خدماتی زندگی کی شروعات عام دھارے سے کی، لیکن اپنی فکری جولانی اور اجتہادی شان کی وجہ سے الگ راہ بنائی اور تاحیات اسی پر چلتے رہے۔ ایک نئے لکھاری طالب علم کے لیے ان کی ذات ہمیشہ مشعل راہ بنی رہے گی کہ انہوں نے کثرت سے لکھا۔
ہر مہینے لکھا، ہر ہفتے لکھا، ہر دن لکھا۔ بلکہ وہ پوری زندگی لکھتے ہی رہے۔ آخر عمر میں لکھنے کے ساتھ بولنا بھی شروع کیا۔ ایک طویل مدت تک الرسالے کو تن تنہا لکھا۔
وہ اپنے رسالے کے خود ہی مدیر، خود ہی مرتب، اور خود ہی لکھاری تھے۔ ادھر ہم جیسے ہزاروں لکھاریوں کا پورا مہینہ یہ سوچنے میں گزر جاتا کہ کس ٹاپک پر لکھیں۔ ادھر مولانا کا ایک مکمل رسالہ چھپ کر آ جاتا۔ انہوں نے ماہ نامے لکھے جو اسلام کے فکری انقلاب کی دعوت دیتے تھے۔
انہوں نے ڈائریاں لکھیں جو مکمل دستاویز ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے کتابیں لکھیں جو فکر و بصیرت کے دریچے کھولتی تھیں۔ پہلے عام موضوعات پر لکھا، پھر مذہبی سیاسیات پر لکھا، پھر فکری یاد پر آئے، پھر دعوت کو موضوع سخن بنایا۔ اس کے بعد آخر عمر تک روحانیت پر لکھتے رہے۔
ان کی تحریروں کے مواد سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، لیکن ان کے مسلسل لکھنے، اچھا لکھنے، بغیر دل دکھائے تنقید لکھنے کی اداسی بغیر دل دکھائے تنقید لکھنے کی ادا سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔ مولانا کے جانے سے دل اداس ہے، من مضطرب ہے، قدم بوجھل ہیں اور آنکھیں نم ہیں۔ کتاب: داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 188۔