Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Scientific Nazriat ke Alambardar

Urdu · 5 min

سائنٹیفک نظریات کے علم بردار عالم عبدالحی خان، مولانا وحید الدین خان کو سمجھنے کے لیے ان کی کتابوں اور ان کی تحریروں کو پڑھنا ہوگا۔ وہ ایک اعتدال پسند اسلامک اسکالر اور عالم دین ہیں۔ جب ٹی وی یا اخباروں میں کوئی مذہبی بحث ہوتی تو مولانا کو تلاش کیا جاتا تھا، کیونکہ وہ بہت ہی متوازن اور تعمیرانہ رخ اختیار کرتے تھے۔ ان کو کسی تحریر یا مضمون سے نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ کچھ لوگ اگر ان کے مخالف ہیں تو بعض ان کے نظریے کے سخت حامی بھی ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ اپنی سادگی اور بے باکی کی وجہ سے مولانا ہر طبقے میں مقبول رہے ہیں۔ پیدائش: مولانا 1925 عیسوی میں اتر پردیش کے مردم خیز علاقہ اعظم گڑھ کے بڈھریہ قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ مدرسۃ الاصلاح مدرسہ الاصلاح اعظم گڑھ میں انہوں نے عالمیت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامی مرکز نئی دہلی کے سربراہ رہے اور وہاں سے مقرر، مصنف اور مفکر کی خدمت انجام دیتے رہے، اور اپنے مرکز کے رسالہ الرسالے کے مدیر رہے۔

مولانا ہفت روزہ الجمعیہ میں 1967 عیسوی سے 1974 عیسوی تک ایڈیٹر بھی رہے۔ انہیں اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی پر یکساں عبور حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں کو ہر طبقہ، جن میں دانشوروں کی تعداد زیادہ ہے، بہت ہی دلچسپی سے مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے ہندو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔

ان کی کوشش ہوتی تھی کہ برادران وطن میں اسلام سے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں، انہیں حتی الامکان دور کیا جا سکے۔ ان کے نزدیک دعوت دین کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ انفرادی نظریے کے علم بردار مولانا منفرد نظریات اور خیالات کے حامل تھے۔ مولانا اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے، شاید فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔

مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری تفکیری زندگی کا ایک حصہ ہے جو رسالہ یا کتب میں شائع ہوتا ہے، اس کا دوسرا نسبتاً غیر منظم ڈائریوں کے صفحات پر ہے۔ ان سب کے باوجود مولانا کے انفرادی نظریات کے سبب بعض اہل علم اور نقاد صاحبان ان سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ مولانا کی تصنیفات کی فہرست طویل ہے۔

انہوں نے کل ملا کر 200 سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں لکھی ہیں، اور ان کی علمی قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا نے اہم اسلامی موضوعات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی اکثر کتابوں کے ترجمے انگریزی اور عربی وغیرہ زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ مولانا کی عظمت اور علمی بلندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کتاب "الاسلام یتحدی: مذہب اور جدید چیلنج" قطر، قاہرہ، ترابلس، خرطوم اور تیونس کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل رہ چکی ہے۔ قومی اور بین الاقوامی اعزازات، ڈیمورگس بین الاقوامی ایوارڈ سابق سوویت یونین کے صدر گورباچوف کے ہاتھوں دیا گیا۔

پدم بھوشن قومی یکجہتی اعزاز، کمیونل ہارمونی اعزاز، قومی اتحاد اعزاز، رونا آصف علی بھائی چارگی ایوارڈ، بین الاقوامی اعزاز۔ مولانا کی خدمات کے صلے میں 1989 عیسوی میں حکومت پاکستان نے مولانا کی کتاب "پیغمبر انقلاب" پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ ادھر انہوں نے ٹی وی، ریڈیو اور سیمیناروں میں کمزوری صحت کی وجہ سے جانا بند کر دیا تھا، لیکن اپنی آخری سانس تک دعوت و تصنیف کا کام کرتے رہے۔ لیکن جس طرح لوگ ان کی زندگی میں ان کے علم سے استفادہ کرتے رہے، امید ہے کہ اب ان کی عدم موجودگی میں بھی لوگ ان کے صالح تعمیری اور سائنٹیفک نظریات سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔

دی وائس ڈاٹ ان کتاب "داعی اسلام" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 186۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.