مولانا اس کا ادراک رکھتے تھے کہ وہ مکمل طور پر سیلف میڈ اور یونیک شخصیت تھے، اور بے شک جتنی باریک بینی سے بھی کوئی اس دعوے کو پرکھے، وہ اس پر انہیں پورا اترتا ہوا پائے گا۔ یہ سیلف ریالائزیشن تھا، تعلی نہیں۔ ان کے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اپنے کسی سگے بزرگ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو۔ حمزہ ہاشمی، کراچی۔
کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 185۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.