← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Wahiduddin Khan ka Ehsan
Urdu · 8 min
وحید الدین خان کا احسان، فاروق عادل پاکستان۔ مولانا وحید الدین خان کو ہماری نسل نے تب جانا جب ان کا زمانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ مولانا وحید الدین خاں سے میرا تعارف ان کے ماہنامہ اور رسالے کے ذریعے ہوا۔ "ہلکے رنگوں کے سرورق" اور 35-40 صفحات کا یہ پرچہ کوئی الگ ہی چیز تھی۔
ایک ایک، پونے پونے، یا آدھے آدھے صفحے کی تحریریں ہوتیں۔ کچھ ایسی بے ساختگی سے شروع ہوتیں، جیسے ہم سانس لیتے ہیں۔ یا بہت سی میٹھی اور ذرا سی نمکین، شکنجین کا ایک فرحت بخش گھونٹ، جو روح میں تازگی پیدا کر دے، اور انسان سوچے کہ وہ اپنے رب کی کس کس نعمت کا شکر ادا کر پائے گا۔ یہ پرچہ بھی اللہ کی ایک ایسی ہی نعمت تھا۔
ہماری نسل کئی اعتبار سے خوش قسمت رہی ہے۔ اس خوش قسمتی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں نے اقبال جیسے دیوقامت فلسفی، ابوالکلام جیسے مشکل پسند مصنف، اور ابوالاعلیٰ جیسے سنجیدہ اور مشنری بزرگوں کے سامنے آنکھیں کھولی ہیں۔ ان بزرگوں کی کئی خوبیاں تھیں، تو ایک مشکل بھی تھی۔ یہ مشکل کیا تھی؟
اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنے کلاس میں اس قسم کے ایک شعر کا مطلب نہ بتانے کی وجہ سے مار کھائی ہو۔ "مگس کو باغ میں نہ جانے دیجیو، ناحق خون پروانے کا ہوگا۔ " وہ نسل جس نے ایسے پیچیدہ اشعار کی وجہ سے استاد کی چھڑی سے اپنے ہاتھ لال کروا رکھے ہوں، لال کروا رکھے ہوں گے، انہیں یہ رسالہ کیوں نعمت نہ لگتا؟ اس رسالے کی ہر تحریر ایک ہی مصنف یعنی وحید الدین خان کی لکھی ہوتی۔
تحریریں کیا ہوتیں؟ کہانیوں کی مانند آسانی سے سمجھ میں آ جانے والی باتیں ہوتیں۔ ہم یہ کہانیاں پڑھتے اور سوچتے کہ بار الہ! اس شخص کی قوت، اس اس شخص کی قوتِ مشاہدہ کتنی تیز ہے، جس کو جس کوچے سے بھی گزر جاتا ہے، سب خاموش واقعات سمیٹ کر زنبیل میں ڈال دیتا ہے۔
اور کچھ ایسے اسلوب میں بیان کرتا ہے، جی چاہتا ہے کہ بات ختم ہی نہ ہو، ہزار داستان بن جائے۔ سچ جانیے تو وحید الدین خان بھی ہمارے عہد کے شہ شہر زاد تھے، جنہوں نے آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ہمارے بلند قامت بزرگوں کی موجودگی میں لکھنے کی الگ راہ نکالی، اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے عہد پر چھا گئے۔ مولانا وحید الدین خان نے دعوت و انظار جیسے موضوع میں چاشنی بھر کر اسے ایک نئی شکل اور ایک نیا اسلوب دے دیا، جس کی جتنی تفہیم معمولی پڑھے، جس کی جتنی تفہیم معمولی پڑھے لکھے لوگوں یا ابتدائی جماعتوں کے بچوں کے لیے آسان تھی، اتنی ہی بھاری بھرکم اور جناتی لٹریچر پڑھنے والوں کے لیے بھی خوشگوار تھی۔ ان تحریروں کے مصنف نے اپنی ان کہانیوں سے اخلاق کا درس دیا، دین کی حکمت بتائی، اور مذہبی منافرت کے گھٹن والے ماحول میں کشادگی سے سانس لینے کی آسانی فراہم کی۔
ان کی تحریروں سے ہی معلوم ہوا کہ اس بزرگ کا شمار کبھی مولانا مودودی کے ساتھیوں اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں میں ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ کب ہوا ہوگا؟ اس کی تو ہمیں خبر نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ ہماری نسل کے اس دنیا میں آنے سے پہلے پیش آ چکا ہو۔
ان کی تحریروں میں ایک سبق یہ بھی ملتا تھا کہ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، وہ کمزوری جس سے وہ کنڈیشنڈ ہو چکا ہو، اس سے نجات کے لیے بڑا ریاض چاہیے۔ کمزوری کے تذکرے کا بھی اپنا ایک پس منظر ہے، جسے سمجھے بغیر اس عہد کے مسلمانوں کی نفسی یاد کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے بارے میں ان کے ناقدین کا خیال تھا کہ وہ عیسائیت کے اس تصور کے اسیر ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی اس کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وحید الدین خان کے بارے میں یہ تاثر بہت پختہ ہے، لیکن اصل بات کچھ اور ہے۔
ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ جو ہم ہر وقت بتلِ حریت بن کر ساری دنیا کو ایک ہی وقت میں دشمن بنا کر اپنے اور غیر سب کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں، یہ کچھ ایسا ضروری بھی نہیں۔ وہ کچھ مثالیں پیش کیا کرتے اور بتاتے کہ ہمارے لوگوں نے اپنے اس طرزِ عمل کی وجہ سے ساتھ کے گھر میں بسنے والے، کسی ہندو، کسی عیسائی، یا احمدی، قادیانی وغیرہ سے دعا سلام کے رشتے ہی توڑ ڈالے ہیں۔ اگر دین کا مزاج یہی ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی ایسا ہی ہوتا، تو کیا یہ ممکن تھا کہ صرف 13 برس کی قلیل مدت میں پورے عرب میں انقلاب آ جاتا؟ یہ پند و نصیحت کرتے کرتے وہ ایک بار شہر زاد بن جاتے اور ہمارے آپ کے جانے پہچانے گلی کوچوں سے چن کر کوئی ایسی حقیقی مثال پیش کر دیتے جسے سن کر لگتا کہ ارے!
ایسا تو ہم نے بھی دیکھ رکھا ہے۔ لیکن یہ جو ہم نے دیکھ رکھا ہو، دیکھ رکھا ہوتا تھا، اس کی اہمیت تبھی سمجھ میں آتی جب وہ خان صاحب کے اشہب قلم سے نکل کر ہمارے سامنے آتی۔ یہ ان کی ایسی ہی دل نشیں حکایات کی دین ہے کہ تین چار دہائیوں تک جنگ جنگ و جدل کی تباہ کاریوں کے ہاتھوں خود خاروسبو ہو کر یہ ان کی ایسی ہی دل نشیں حکایات کی دین ہے کہ تین چار دہائیوں تک جنگ و جدل کی تباہ کاریوں کے ہاتھوں خاروسبو ہو کر ہم آج اپنی دکھی دنیا میں محبت کے رنگ بھرنے اور کچھ نئے میثاق کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ کاش یہ نصیحت ہماری سمجھ میں کچھ پہلے آ جاتی۔
حضرت داتا صاحب، شیخ سعدی شیرازی، اور مرشدوں کے مرشد مولانا روم، یہ سب ہمارے ایسے بزرگ ہیں جن کے ملفوظات اور ان کی حکایات آج بھی ہمارے رگ و پے میں خون کی طرح دوڑتی ہیں۔ اور ہم سوچتے ہیں، ایسی کمال کی باتیں تاریخ کی امانت ہیں۔ ہمارا عہد ان سے خالی ہے، لیکن خان صاحب کو پڑھ کر محرومی کا یہ احساس دور ہو جاتا ہے۔ ہم سب پاکستان کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 183۔