← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan-Teen Mulaqaten aur Kuch Baten
Urdu · 13 min
مولانا وحید الدین خاں، تین ملاقاتیں، اور کچھ باتیں۔ آصف تنویر تیمی۔ مولانا وحید الدین بین الاقوامی شہرت کے حامل عالمِ دین تھے۔ مولانا پر لکھنا یا ان کو سمجھنا بہت آسان نہیں ہے، اس لیے کہ ان کی علمی اور دعوتی سرگرمیاں پورے سو سال پر پھیلی ہوئی ہیں۔
اگر کوئی یہ سمجھے کہ چند صفحات یا چند سطروں میں لکھ کر ان کا حق ادا کر دے گا، تو میرے خیال میں یہ خام خیالی ہے۔ خود مولانا کی زندگی میں ان سے تعلق اور عقیدت رکھنے والے شاہ عمران حسن نے "اوراقِ حیات" کے نام سے جو کتاب لکھی، وہ 983 صفحات پر مشتمل ہے۔ شاہ عمران آغازِ کلام میں لکھتے ہیں: "مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری، 1925 عیسوی کو ہندوستان کے ایک علمی شہر اعظم گڑھ میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم عربی درسگاہ میں ہوئی۔
عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے علومِ جدیدہ کی طرف توجہ دی۔ اولاً ذاتی مطالعے کے ذریعے انہوں نے انگریزی زبان سیکھی، اس کے بعد سائنسی علوم کا مطالعہ شروع کیا، حتیٰ کہ ان میں پوری 10 دستگاہ حاصل کر لی۔ اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد، مولانا اس نتیجے پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے، اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ اور پھر وہ اس مہم میں لگ گئے۔
یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مولانا موصوف کے مطالعے کا خاص موضوع اسلام اور دورِ جدید ہے۔ " اوراقِ حیات، صفحہ 15۔ مولانا موصوف خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں: "میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں، میری بیشتر زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو 1947 عیسوی سے پہلے کے ہندوستان کو سنِ شعور میں دیکھنے کا موقع ملا۔
جب میں نے مولانا حسین احمد مدنی، پنڈت جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بھوس جیسے قومی رہنماؤں کی تقریریں اس وقت سنیں جبکہ ہندوستان کی آزادی ابھی بہت دور دکھائی دے رہی تھی، جس نے 1936 عیسوی کے پہلے الیکشن کو براہِ راست دیکھا، جس نے 1947 عیسوی سے پہلے بابری مسجد، ایودھیا میں داخل ہو کر وہاں نماز پڑھی، براہِ راست اور بالواسطہ مشاہدے کی یہ مدت تقریباً سو سال کے دائرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس طویل مدت میں میں نے خود جو کچھ دیکھا اور پڑھا اور جانا، وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ " اوراقِ حیات، صفحہ 35۔ مولانا زمیندار اور پڑھے لکھے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔
والد کا نام فرید الدین خان تھا۔ ان کا انتقال اس وقت ہوا جب مولانا موصوف کی عمر 5 سال کے قریب تھی۔ والد کے انتقال کے بعد جب مولانا کے گھر کے حالات بدل گئے، ان کے جدِ امجد حسن خان ریاست سوات، جو اب پاکستان کا حصہ ہے، سے ہجرت کر کے اعظم گڑھ آئے تھے۔ مولانا کے خاندان میں علماء تو نہیں، مگر ادباء ضرور تھے، بالخصوص اقبال احمد خان سہیل، جو مولانا کے چچا زاد بھائی اور ممتاز شاعر، وکیل اور سیاست دان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔
مولانا نے مدرسہ الاصلاح سرائے میر میں اس وقت کے ماہرینِ علم و فن سے کسبِ فیض کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا اختر حسن اصلاحی کا نام قابلِ ذکر ہے۔ آپ نے عربی میں مہارت کے لیے مولانا حمید الدین فراہی اور اردو میں کمال کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتابیں پڑھیں، مگر ان دونوں کے سیاسی سوچ سے آپ کبھی مطمئن نہ ہوئے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ملک و بیرونِ ملک میں آپ کو شہرت آپ کے قلم و منفرد اسلوب کی وجہ سے ملی۔
مختلف اداروں سے منسلک ہو کر کام کرنے کی کوشش کی، مگر بہت دنوں تک آپ کا مزاج ساتھ نہ دیا، جس کی وجہ سے اپنی راہ خود متعین کی اور خود ادارہ بن گئے۔ نئی دلی کے نظام الدین ویسٹ کالونی کو مستقل رہائش گاہ بنایا۔ ملت اسلامیہ کی بھی خدمات یہیں نظام الدین سے انجام دینی شروع کیں۔ لوگوں کی دینی و فکری رہنمائی، تالیف و ترجمہ، اردو اور انگریزی زبان میں رسالے کی نشر و اشاعت، اور ملک و بیرونِ ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی مولانا کی زندگی کے چند نمایاں پہلو تھے۔
مولانا وحید الدین خان نے تقریباً ایک صدی تک کسی نہ کسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی۔ ان کے کچھ خاص دینی و سیاسی افکار و نظریات کی وجہ سے علماء نے ان کی گرفت بھی کی، ان کو موردِ الزام بھی ٹھہرایا، مگر وہ کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی راہ چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے افکار و خیالات کا مخاطب ہمیشہ پڑھے لکھے برادرانِ وطن کو سمجھا، جن کی بڑی تعداد ان کے دروس اور محاضرات میں شامل ہوتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہم اکثریت سے لڑ جھگڑ کر انہیں اپنے دین کی طرف نہیں لا سکتے۔
ان کو دین سے جوڑنے اور ان کے دل کو اسلام کے لیے نرم کرنے کا واحد ذریعہ انسانی اخوت و بھائی چارہ اور مثبت فکر و خیال ہے، اور اسی اصول پر وہ پوری زندگی ڈٹے رہے، اور غیر مسلموں کی ایک بڑی جماعت کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کیا۔ میں نے سب سے پہلے مولانا کو ان کی کتابوں اور تحریروں کی وجہ سے جانا۔ جامعہ امام ابن تیمیہ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے طلباء کو بلا کسی تعصب اور تنگ نظری کے، ہر ذی علم سے استفادے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ میری طالبِ علمی کے زمانے میں طلباء کی لائبریری میں بہت سارے مشاہیر اہلِ علم کی اردو کتابیں لائی گئیں، جن میں درجنوں کتابیں مولانا مرحوم کی بھی تھیں۔
مطالعے کا شوق تھا، چنانچہ میں نے اسی زمانے میں مولانا کی موجودہ تمام کتابوں کا مطالعہ کیا، حالانکہ میرے بعض مخلص اساتذہ نے چھوٹی کلاس میں ان کی بعض کتابوں کے پڑھنے سے روکا بھی، مگر زبان و بیان کی سلامت کی وجہ سے بلا کسی کی سنیں پڑھتا گیا، اور جہاں ضروری سمجھا۔ اگرچہ کتابیں اپنی نہ تھیں، مگر نشانات ضرور لگائے کہ میں مولانا کی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتا۔ آج بھی میری مطالعہ کردہ کتابیں ان باتوں کی گواہ ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے متعدد بار براہِ راست مولانا سے ملنے ملانے کا موقع دیا۔
مولانا صاحب سے میری ملاقات تین دفعہ ہوئی۔ پہلی دفعہ جامعہ امام ابن تیمیہ میں، جب وہ بہار کا دورہ کرتے کرتے شام میں جامعہ پہنچے۔ جامعہ میں بعد نماز مغرب ان کا خطاب ہوا۔ بڑے صاف ستھرے انداز میں انہوں نے منہجِ سلف پر گفتگو کی، اپنے کو بھی پاسبانِ سلف میں شمار کیا۔
شیخ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی علمی و عملی زندگی کی بڑی ستائش کی۔ طلباء، اساتذہ اور دیگر حاضرین نے ان کے خطاب سے بھرپور استفادہ کیا۔ میری دوسری اور تیسری ملاقات ان سے ان کی رہائش گاہ نظام الدین ویسٹ، دہلی میں ایک عرب مہمان، شیخ بدرالعید، ان کے ہمراہ ہوئی۔ عرب مہمان شیخ بدرالعیدان کے ہمراہ ہوئی۔
شیخ بدر کی شدید خواہش تھی کہ وہ مولانا صاحب سے ملیں۔ مرکزی جمعیت کے ذمہ داران نے شیخ بدر کو میرے ساتھ لگا دیا کہ میں انہیں مولانا سے ملا دوں۔ نظام الدین تو میں جانتا تھا، مگر نظام الدین میں مولانا کا گھر کہاں ہے، اس سے میں بالکل واقف نہ تھا۔ خیر، تلاش بسیار تلاش بسیار کے بعد ہم دونوں مولانا کے گھر پہنچ گئے۔
گھر کے اندر آنے کی اجازت بھی ملی۔ مولانا صاحب اپنے گھر کی پہلی منزل پر لائبریری میں تشریف فرما تھے۔ کشادہ گھر، چاروں طرف سے الماریوں میں کتابیں تھیں۔ شیخ بدر نے مولانا موصوف سے مختلف علمی، عالمی اور سیاسی سوالات کیے۔
مولانا نے سب کا جواب دیا۔ ساتھ ہی مولانا نے اپنی عربی و اردو کتابوں کا تعارف بھی مہمان سے کرایا۔ یہ غالباً 2007 عیسوی کی بات ہے۔ اس وقت ان کی عمر اسی کے پار تھی۔
پھر بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے میں کسی قسم کی ان کو کوئی پریشانی نہ تھی۔ اللہ نے مولانا کو لمبی عمر کے ساتھ صحت و تندرستی سے بھی نوازا تھا۔ مولانا نے چائے وغیرہ سے ہم لوگوں کی ضیافت کی۔ شاید ظہر یا عصر کی نماز کا وقت بھی انہی کے گھر میں ہو گیا۔
اسی لائبریری میں ہم لوگوں نے باجماعت نماز ادا کی۔ مردوں کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین نے بھی ہم لوگوں کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی۔ اور اس طرح چند ساعات ملنے ملانے کے بعد ہم دونوں رخصت ہو گئے۔ جب سیڑھی سے اترتے تو دیکھا کہ ٹیلی ویژن والے نیچے مولانا کا انٹرویو لینے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔
دوسری ملاقات بھی چند دنوں کے بعد شیخ بدر ہی کے ساتھ ان کے گھر نظام الدین میں ہوئی۔ اس دفعہ ہم نے ان کے مکتبِ گڈور سے چھ کتابیں بھی خریدیں۔ تینوں ملاقات میں میں نے یہ اندازہ لگایا کہ آپ ایک درویش صفت انسان ہیں۔ آپ کی زندگی کا خلاصہ دعوت و تبلیغ اور تالیف و تصنیف ہے۔
تمام تر دنیاوی مال و جاہ اور سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود آپ نہایت سادگی پسند ہیں۔ آپ کے پاس چند جوڑے کرتے پاجامے تھے، جو وہیں لائبریری کے ایک کونے میں پڑے رہتے تھے۔ کپڑے تو صاف ہوتے تھے، مگر کبھی ان کپڑوں پر استری نہیں پڑتی تھی۔ آج ہمارے علماء میں یہ سادگی مفقود ہے۔
سارا زور ظاہری خوبصورتی پر ہوتا ہے، علمی یا عملی خوبصورتی ہو یا نہ ہو۔ ہم مولانا سے فکری و نظری اختلاف کے باوجود ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا انکار نہیں کر سکتے۔ آپ کی اردو، ہندی، انگریزی اور عربی تصنیفات کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔ ان میں درجنوں کتابیں ہیں جنہیں کچھ احتیاط کے ساتھ مطالعہ کر سکتے ہیں۔
کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 179۔