Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Raaz e hayat ke musannif

Urdu · 3 min

رازِ حیات کے مصنف ساجد بھٹو، سندھ، کل رات بہت دکھ ہوا اور آنسو آ گئے جب معلوم ہوا کہ 21ویں صدی کے ایک عظیم اسکالر، کروڑوں لوگوں کی زندگی بدلنے والے مشہورِ زمانہ کتاب "رازِ حیات" سمیت 200 سے زائد کتب کے مصنف، کروڑوں لوگوں کے آئیڈیل انسان، مذہب کا صحیح معنوں میں پرچار کرنے والے، اور انسانیت کا درد رکھنے والے جید عالم مولانا وحید الدین صاحب دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ میں مولانا صاحب کی مثبت اور فراخ سوچ سے متاثر تھا، جو اپنی کتب میں مغرب کی مثالیں دے کر، ساتھ قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر بات واضح کرتے تھے۔ ان میں کوئی مذہبی تعصب نہیں تھا۔ وہ سال پہلے، دو سال پہلے، مجھے مولانا صاحب کے آفس کا واٹس ایپ نمبر ملا تو میں نے کہا: یا تو میری بات کرو یا تو میری بات کروا دیں، یا میرا ایک وائس میسج مولانا تک پہنچا دیں۔

تو میں نے وائس میسج میں بتایا کہ میرے مذہبی نظریات ایسے ہیں وغیرہ، تو میرے لیے دعا کریں اور ایک وائس میسج لازمی کریں۔ خیر، میری خوش قسمتی کہ مجھے ایک ماہ کے اندر ہی اس حافظ صاحب کا میسج ملا کہ یہ مولانا صاحب کا واٹس ایپ وائس میسج، جو صرف آپ کے لیے ہے، وہ وائس میسج میں نے مختلف گروپس میں بھی شیئر کیا تھا، جس میں اپنی مخصوص آواز سے دنیا و آخرت کے لیے دعائیں ملتی تھیں۔ کہ بیٹا، آپ کا میسج ملا تھا اور شکریہ بھی کیا، اور علم میں اضافے کی دعا بھی دی۔ تب مجھے ایسے لگا جیسے کوئی قیمتی خزانہ مل گیا ہو۔

لیکن مولانا صاحب کی وفات کا سنا تو بہت شدید دکھ ہوا۔ مجھے کم و بیش 2 سال، جب تک میرا موبائل ٹھیک رہا، ان کا رسالہ ملتا رہا، اور مولانا صاحب کی ویڈیوز بھی مسلسل آتی رہیں۔ عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جن کا مشن انسانیت کی بھلائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا، جن کی وجہ سے دنیا روشن ہو جاتی ہے۔ سچ ہے کہ آج یا کل ہم سب کو اس دنیا سے رخصت ہو کر جانا ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کے درجات بلند کرے، آمین۔ کتاب "دائیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.