Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Bazm e hasti ko sougwar kargye

Urdu · 3 min

بزمِ ہستی کو سوگوار کر گئے، بزمِ ہستی کو سوگوار کر گئے۔ ڈاکٹر سید طفیل ہاشمی، اسلام آباد، پاکستان۔ مولانا سے پہلا تعارف 1973 میں ہوا، جب ایم اے علوم اسلامیہ کے دوران ان کی تالیف "علمِ جدید" کا چیلنج پڑھی۔ جو بعد میں مختلف نام اور تدوینِ جدید سے شائع ہوتی رہی۔

اس کے بعد شاید جماعت اسلامی کے کسی دوست نے یہ دیکھ کر کہا کہ میں نے مولانا مودودی کو بالاشتیاق پڑھ رکھا ہے، ان کی دوسری کتاب "تعبیر کی غلطی" سے متعارف کرایا۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک بڑے اسکالر کے اندر امام شاطبی کی طرح ایک بے لچک مولوی بھی چھپا بیٹھا ہے۔ تاہم میں نے مولانا مودودی اور خان صاحب کے اختلاف کو ہمیشہ دو مختلف ممالک کے حالات اور سماج کے تناظر میں اسلام کی قابلِ عمل تعبیر سمجھا۔ یہ حق و باطل کا اختلاف نہیں تھا، بلکہ ابن قیم کی تعبیر کے مطابق "تغیّرُ الأحکام بتغیّر الزمان" کا نمونہ تھا۔

مولانا کی کتاب "معرفت" اس وقت بھی میرے سائیڈ ٹیبل پر موجود ہے، اور تازہ تالیف "خدا کی دریافت" ٹیبل کے ڈراپ باکس میں۔ برصغیر کے روایتی فکر سے مولانا نے علمی اور عقلی دلائل کی بنیاد پر کئی مسائل میں اختلاف کیا، لیکن میرے خیال میں روایتی فکر کا تعلق فکری ارتقاء کے تاریخی مراحل سے ہے، جبکہ مولانا اسلام کے آفاقی پیغام کو اس کے وسیع تناظر میں جدید تعلیم یافتہ طبقے تک پہنچانے اور ان کے لیے قابلِ فہم بنانے کے داعی تھے۔ ان کی فکر کا بنیادی نکتہ دعوت الی اللہ تھا۔ ان کے خیال میں ساری انسانیت رسول اکرم کی امتِ دعوت ہے، اور مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دعوتِ دین کے لیے وقف کر دیں۔

طالبانِ علم کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی بڑے صاحبِ علم کے تفرّدات کی وجہ سے اس کے افکار تخلیقیت اور مناہج سے خود کو محروم رکھیں۔ عالمِ اسلام ایک بڑے داعی سے محروم ہو گیا۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 178۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.