Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Dabistan e shibli ki ek aham shakhsiyat

Urdu · 5 min

دبستانِ شبلی کی ایک اہم شخصیت، دبستانِ شبلی کی ایک اہم شخصیت، گل رحمان ہمدرد پاجا خان یونیورسٹی، باچا خان یونیورسٹی، کے پی کے، پاکستان۔ ابھی ابھی یہ افسوسناک خبر ملی کہ ہندوستان کے نامور دینی اسکالر مولانا وحید الدین خاں انتقال کر گئے ہیں، وحید الدین خاں یکم جنوری 1925 عیسوی کو اعظم گڑھ، اتر پردیش، بھارت میں پیدا ہوئے۔ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ میں علم کی تحصیل کی، جہاں پر وہ مولانا امین حسن اصلاحی سے براہِ راست فیضیاب ہوئے۔ بعد میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے، اور ایک عرصے تک اس جماعت کی مرکزی مجلس شورا کے ممبر رہے۔

1960 کے لگ بھگ ان پر یہ انکشاف ہوا کہ مولانا مودودی کی فکر میں خوفناک خلا موجود ہے، جو اسلام کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ چنانچہ انہوں نے "تعبیر کی غلطی" کے نام سے وہ مشہور کتاب لکھی جس میں فکر مودودی کی بنیادی غلطی انتہائی محکم دلائل سے واضح کی۔ اہل علم کے نزدیک یہی کتاب ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی دیگر کتابیں حقیقت میں اسی کتاب کی شرح ہیں۔

آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی رہیں۔ مولانا وحید الدین خاں تشدد کے بجائے امن کے داعی تھے۔ مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا، مسلمانوں میں مدوخوم یعنی غیر مسلموں کی ایذا و تکلیف پر ایک طرفہ طور پر صبر، اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا، ان کا مشن رہا۔ 20ویں صدی کے جذباتی اور جہادی ماحول میں ان کی فکر کو خاص پذیرائی نہ مل سکی تھی۔

لیکن جونہی 21ویں صدی نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور مسلمان اپنی انتہا پسندانہ طرزِ عمل کی وجہ سے دنیا بھر میں مشکلات کا شکار ہوئے، تو دھیرے دھیرے مسلمانوں کے اہلِ دانش وحید الدین خان کے منہج اور فکر کے قائل ہوتے چلے گئے۔ اس کے بعد وہ بلا مبالغہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ عام طالب علموں کے ساتھ ساتھ غامدی، خضر یاسین، اور راشد شاز جیسے اعلیٰ پائے کے دینی اسکالرز کی فکر پر بھی ان کی فکر نے اثرات ڈالے۔ خان کی فکر اپنے باطن میں تصوف کے عناصر رکھتی تھی، اس لیے میرے لیے ہمیشہ ان کی فکر میں کشش رہی۔

کچھ عرصہ قبل ایک اسکالر دوست نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحید الدین خان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ وحید الدین خان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ وہ مزاجاً تصوف کا آدمی تھا۔ اس طرح کے گہرے غور و فکر کا آدمی اگر تصوف میں ہوتا تو علی ابن عثمان ہجویری، خواجہ نظام الدین اولیاء، اور خواجہ معین الدین اجمیری کے برابر کا مقام پاتا۔ خان کی دعوت کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ عرفانِ نفس و باطن کی تحریک ہے۔

طریقِ کار بھی صوفیوں کا ہی ہے، یعنی امن، محبت، اور دعوت و مکالمہ۔ ابوالکلام آزاد کے بعد وحید الدین خان ہندوستانی مسلمانوں کے حقیقی فکری مسیحا تھے۔ ہر موقع پر انہوں نے مسلمانوں کی درست رہنمائی کی، اور جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی تلقین کی۔ وہ جلال الدین رومی کے اس فلسفے پر کامل یقین رکھتے تھے کہ دلیل کی تلوار لوہے کی تلوار سے زیادہ کارگر ہے۔

مسلمانوں کو اب بھی ان کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ ان کی وفات مسلمانانِ عالم کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ جو بادکشت تھے، پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہیں، کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی، کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی۔ کتاب "داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان"، صفحہ نمبر 175۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.