Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Aah! Maulana Wahiduddin Khan

Urdu · 9 min

آہ، مولانا وحید الدین نواز خالد عاربی، پاکستان۔ 10 سال قبل پاکپٹن میں تعیناتی کے دوران وہاں مقیم ایک اسکالر، پروفیسر محمد یعقوب بھٹی صاحب سے مسجد میں اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ پروفیسر صاحب کی عالمانہ گفتگو سے متاثر ہو کر میں انہیں اپنے ساتھ دفتر لے آیا۔ ان سے مختلف دینی معاملات پر تبادلۂ خیال ہوا۔

اگلے دن وہ دوبارہ تشریف لائے اور مجھے "ماہ نامہ تذکیر" کا ایک شمارہ پڑھنے کو عنایت کیا۔ 44 صفحات پر مشتمل شمارے میں 23 مختلف موضوعات پر بات کی گئی تھی۔ اختصار کے باوجود ہر موضوع سے انصاف کیا گیا، انصاف کیا گیا تھا۔ میں جوں جوں مطالعہ کرتا گیا، پڑھنے کی خواہش بڑھتی گئی۔

میں نے اس کا اظہار اگلی ملاقات پر پروفیسر صاحب سے کیا تو وہ مجھے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں چند پرانے رسائل اور کچھ کتابیں مطالعے کے لیے عنایت کر گئے۔ دو ماہ کے مطالعے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اسلامی تعلیمات اور ہماری معاشرتی سوچ اور زندگی کو کتنا جدا جدا کر کے دیکھا جاتا ہے۔ میری تو جیسے کایا ہی پلٹ گئی، اور سوچ کا زاویہ یکسر بدل گیا۔ معاملہ فہمی آسان ہو گئی۔

میں جو بات بات پر جھگڑ پڑتا تھا یا غصے میں آ جاتا تھا، اب صلح پسندی اور نرم گفتاری کی طرف مائل ہو گیا۔ پہلے دوسرے کو شکست دینے کو فتح سمجھتا تھا، اب دوسرے کی شکست کو اپنی شکست سمجھنے لگا۔ تاہم ایک دکھ بھی تھا کہ اتنی مثبت تبدیلی کا سامان بہت تاخیر سے ہوا۔ متذکرہ کتابیں اور رسالے مولانا وحید الدین کی تصانیف و تالیف تھیں۔

متذکرہ کتابیں اور رسالے مولانا وحید الدین کی تصانیف و تالیف تھیں۔ مولانا وحید الدین 1925 عیسوی میں ضلع اعظم گڑھ، بھارت میں پیدا ہوئے، اور 21 اپریل 2021 کو کورونا کا شکار ہو کر رحلت فرما گئے۔ اپنی 96 برس کی مطالعاتی، تحقیقی، تالیفی و تصنیفی مشقت سے لبریز زندگی میں جو کارہائے نمایاں انہوں نے سرانجام دیے، تاریخ اسلام میں ایک مثال رہے گی۔ آپ نے "الرسالے" کے نام سے ایک تحریر کا آغاز کیا، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح تھی۔

دیگر اقدامات کے علاوہ، اس تحریک کے تحت اردو اور انگریزی میں الگ الگ ماہوار رسالوں کا اجراء کیا، جن کے مستقل قارئین کی تعداد کسی بھی مذہبی رسالے کے قارئین سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ نے کل 253 کتب تصنیف کیں، جن میں سے 92 انگریزی میں، 142 اردو میں، اور 19 ہندی زبان میں شائع ہوئیں۔ علاوہ ازیں پوری دنیا میں بین المذہبی اجتماعات میں اسلام کی بھرپور نمائندگی کی۔ 15 سال جماعت اسلامی سے وابستہ رہے، تاہم بانی جماعت کے ساتھ کچھ فکری پہلوؤں کی تعبیر میں اختلاف پر 1962 عیسوی میں علیحدگی اختیار کر لی۔

آپ کے علمی و فکری مقام سے ہر مذہب کے پیروکار معترف ہیں۔ آپ کی دو جلدوں پر مشتمل تفسیر "تذکیر القرآن" قرآن فہمی کی تڑپ رکھنے والوں کے لیے بہت بڑا خزانہ ہے۔ مولانا وحید الدین کے نزدیک مسلمانوں کے دگرگوں حالات کی وجہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر مبارزتی رویہ ہے۔ وہ ہر مشکل صورتحال کو چیلنج کے طور پر لینے کے بجائے مسئلے کے طور پر لیتے ہیں، اس لیے مناسب حل کی طرف رخ نہیں کر پاتے۔

آپ نے صلح حدیبیہ کو مسلمانوں کے لیے آگے بڑھنے کی تخلیدی بنیاد قرار دیا ہے، جہاں نبی اکرم نے مبارزت کا راستہ چھوڑ کر حکمت عملی کے تحت اپنے ذرائع اور اپنے رفقاء کی زندگیوں کو آگ میں جھونکنے سے بچا لیا، اور اپنی خاطر جمع کر کے فتح مکہ تک رسائی حاصل کی۔ رسول پاک اگر صحابہ کرام کی جذباتیت کا احترام کر جاتے تو شاید حالات مختلف ہوتے، مگر آپ نے امت مسلمہ کے لیے صبر و برداشت سے منزل تک پہنچنے کا درس چھوڑا۔ مولانا وحید الدین فرماتے ہیں کہ جاپان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر تاریخ انسانی میں سب سے بڑا ظلم ہوا۔ جنگ عظیم دوم کے دوران 1945 عیسوی میں امریکہ نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے، اور جاپان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے اثرات ہیروشیما اور ناگاساکی کے باسیوں پر آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔

مگر جاپان نے اس تباہی کو ایک مسئلے کے طور پر لینے کے بجائے چیلنج کے طور پر لیا، اور اپنے تعلیمی اور اپنے تعلیمی اداروں کی اصلاح کر کے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی وہ تمام منازل طے کیں جو تکنیکی اور مقابلہ جاتی دنیا میں باعزت وجود کے لیے لازم تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جاپان سرمائے کے لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی طاقت ہے، اور جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اگر جاپان کی جگہ کوئی اور مسلم اور کوئی اور مسلمان ملک ہوتا تو اس کے باسی امریکہ کی طرف منہ کر کے غلیلوں غلیلوں سے پتھر پھینک رہے ہوتے۔ مولانا وحید الدین کے بقول، چونکہ جاپان نے صلح حدیبیہ کی روح سے استفادہ کیا ہے، لہٰذا آج دشمن کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہے، جو اس سے معاشی میدان میں رعایتیں مانگ رہا ہے۔

مولانا وحید الدین فرماتے ہیں کہ اسلام کا پہلا سبق "اقراء" یعنی حصولِ تعلیم کے گرد گھومنا ہے، گھومتا ہے۔ قرآن پاک میں اسی لیے جا بجا تعلیم اور فکر کی دعوت دی گئی ہے، مگر صد افسوس کہ آج مسلمان تعلیم کے مقام میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جس وقت "اقراء" کی وحی نازل ہوئی، اس وقت عرب کے معاشی معاشرتی اور سیاسی حالات ناگفتہ بات تھے۔ لوٹ مار، غارت گری، اور ہر معاملے میں مبارزت کا دور دورہ تھا۔

لیکن رب العزت نے "اقراء" کا حکم دے کر باور کرایا کہ تعلیم سے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے جنگ بدر میں فتح کی صورت میں جو دشمن جنگی قیدی بنائے گئے، انہیں رسول پاک نے مسئلے کے طور پر نہیں لیا، بلکہ موقع کے طور پر لیا، اور ہر قیدی کو اپنی آزادی کے عوض 10-10 مسلمانوں کو تعلیم دینے پر مامور کیا۔ مسند احمد، حدیث نمبر 2216۔ یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ ان دشمنوں نے صحابہ کرام کو دین نہیں سکھانا تھا۔

ان دشمنوں نے صحابہ کرام کو دین نہیں سکھانا تھا، بلکہ زبان دانی اور کسبِ ہنر کی تعلیم دینی تھی۔ مولانا وحید الدین کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ اجتہاد، جو دین کی روح تھا، عنقا ہو گیا، عنقا ہو گیا ہے۔ تمام مسلمان رہنماؤں نے انتہائی نادانی کے تحت مسلمانوں کے جذبات کو تخریب کی طرف موڑ دیا ہے۔ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں، مگر قرآن سے بے خبر ہیں۔

لوگ اپنے جلسوں کا آغاز تو قرآن سے کرتے ہیں، مگر وہ صرف رسمی تبرک کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اس سے رہنمائی لینے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کے چرچا کے باوجود قرآن پاک کا فائدہ لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ مولانا وحید الدین خاں کا وصال امن کے سفیر کا وصال ہے۔ ڈیلیپاکستان ڈاٹ کام پی کے۔

کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 172۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.