Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan Inteqal Farma gaye

Urdu · 9 min

مولانا وحید الدین خان انتقال فرما گئے، ایم ایم ادیب پاکستان۔ دو چار یا دس برس کی نہیں، یہ برسوں پرانی بات ہے؛ سن اور سال بھی مجھے یاد نہیں، بس دن یاد ہے کہ اتوار تھا اور میں ایک بہت ہی قریب قریبی دوست کے یہاں بیٹھا، گھنٹوں مایوسی کی باتیں کرتا رہا۔ اس مونیسو غمخوار نے بھی مجھ رنجور کے ساتھ، مجھ رنجور کے سارے شکوے، نالے اور فریادیں بھرپور حوصلے اور صبر کے ساتھ سنیں۔ چار پانچ گھنٹوں کی نوحہ گری کے بعد جب میں اٹھا تو اس نے ایک موٹے سے خاکی لفافے میں بند ایک کتاب میرے حوالے کرتے ہوئے کہا، "گھر جا کر کھولنا۔

" میں کتاب بغل میں دبائے گھر کی اور روانہ ہوا، تو عجیب سا احساس بھی دل و دماغ میں گردش کر رہا تھا کہ آخر کون سی کتاب میرے دوست نے آج مجھے دی ہے کہ جسے اپنے یہاں کھولنے کا یارا بھی نہ دیا۔ خیالات کا ایک ہجوم تھا جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، شاید کوئی عمدہ ناول، یا پھر کہانیوں یا شاعری کا مجموعہ، تاریخ کی کوئی کتاب، یا نفسیات پر دھماکہ خیز مواد پر مشتمل کوئی انمول کتاب، کیونکہ یہی میری اور اس کی دلچسپی کے موضوعات تھے۔ میں نے چلنے کی رفتار تیز کی اور بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا گھر پہنچا۔ بنا تاخیر لفافہ چاک کیا تو اس میں ایک کتاب تھی: "رازِ حیات از مولانا وحید الدین خان"۔

یہ کیا کتاب ہوئی، میں نے بے دلی کے ساتھ حسبِ عادت دی باچا پڑھنا شروع کیا، الفریڈ الفریڈ ایڈلر۔ 1870-1937، موجودہ زمانے کا مشہور نفسیاتی عالم ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات، یعنی انڈیویجول سائیکالوجی، تھا۔ اس کے بارے میں ایک مبصر نے لکھا ہے، ایک مبصر نے لکھا ہے: "After spending a lifetime studying people and their hidden reservoirs of power, the great psychologist Alfred Alfred Adler declared that one of the wonderful characteristics of human beings is their power to turn a minute into a plus.

" پوری عمر انسان کا اور انسان کی چھپی ہوئی محفوظ قوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد، عظیم نفسیات عظیم نفسیات دا الفریڈ ایڈلر نے اعلان کیا کہ انسانی شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک حیرت ناک خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک نہیں، ایک نہیں تو ایک، وہ ایک نہیں کو ایک ہے میں تبدیل کر سکے۔ انسانی شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک حیرت ناک خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک نہیں کو ایک ہے میں تبدیل کر سکے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک انتہائی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مذکورہ اقتباس ایک نفسیات کے عالم کی زبان سے اسی کا اعتراف ہے۔

اس کی صلاحیت کی آخری حد یہ ہے کہ انسان تاریکی میں بھی روشنی کا پہلو دیکھ لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جب اس کی بازی کھوئی گئی ہو، اس وقت وہ دوبارہ اپنے لیے نیا میدان تلاش کر لیتا ہے، جس میں جدوجہد کر کے از سر نو اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ایک دینی اسکالر کا ایسا ویژن ہو سکتا ہے کہ وہ زندگی کو ایک نفسیات دا کی آنکھ سے دیکھنے کا بھی حوصلہ رکھتا ہو، اور وہ بھی الفریڈ ایڈلر۔

یہ مولانا وحید الدین کی کتاب تھی جس نے میرے دل میں دینی اسکالرز کے لیے شرح صدر پیدا کیا۔ پھر میں نے مولانا وحید الدین خان کو ہی نہیں، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، مولانا مودودی، مولانا اصلاحی حسن البنا، سید خطب شہید، ڈاکٹر اسرار احمد علی میاں ندوی، مولانا ابوالکلام اعضا، اور متعدد دینی اسکالرز کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے اسلامک اسکالرز ڈاکٹر محمود غازی، مولانا تقی عثمانی، مصباح الدین شکیل، ڈاکٹر خالد علوی، پیر محمد کرم شاہ، نعیم صدیقی، اور کسی حد تک جاوید غامدی کی کتب کا مطالعہ کیا۔ تاہم اس اظہاریے یا کالم میں مولانا وحید الدین خان کا ذکر مطلوب ہے، جو 21 سال 2021، جو 21 اپریل 2021 کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ مسلم امت کے بارے میں مسلم امت کے بہت سارے اسلامی دینی اسکالرز ان کی بہت ساری باتوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔

بہت سارے مسائل ہیں جن کے بارے میں علمائے امت کے تحفظات ہیں۔ مگر یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ انہوں نے تین نسلوں کو اسلامی عقائد و نظریات سے بجا طور پر متاثر کیا۔ برصغیر ہند و برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں، خصوصاً نوجوانوں نے ان کی تعلیمات سے استفادہ کیا۔ مولانا سائنٹیفک سوچ رکھنے والے اسلامک دانشور تھے۔

وہ جتنے زود نویس تھے، شاید ہی بیسویں یا اکیسویں صدی کا کوئی اسلامک دانشور ہو جس نے اتنا لکھا ہو۔ ان کی تحریر میں جدت ہی نہیں، فکر و نظر کی جولانی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے جملے اپنے اندر مان مانے کا ایک سمندر لیے ہوتے ہیں۔ ان کے ماہانہ جریدے اور رسالے کے ہر ٹائٹل پر چند الفاظ پر مشتمل ایک جملہ ہوتا ہے جو اصلاح احوال کی کنجی کی حیثیت رکھتا۔

ان کے انہی جملوں کو یکجا کر دیا جائے تو اقوال ذری کی ایک دبیز جلد مرتب ہو جائے گی۔ مارچ 2021 عیسوی کے شمارے پر یہ جملہ درج ہے: "اختلافات کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک کی پیروی اور سب کا احترام۔ " اسی طرح اپریل کے شمارے کی زینت جو جملہ ہے، وہ یہ ہے: "پہلا موقع ملے تو اس کو ضرور استعمال کیجئے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ دوسرا موقع اس کو ملے گا یا نہیں۔ " مولانا وحید الدین کا وصف یہ تھا کہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا، اس کی سائنسی بنیادوں تک گئے۔

وہ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے اسلامی مسئلے کی سائنٹیفک بنیادیں تلاش کرتے اور دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے۔ ان کی رائے سے اختلاف کی جرات کوئی عام نوعیت کا اسکالر نہیں کر سکتا تھا کہ وہ جدید سائنسی نظریات کو اچھی طرح سمجھتے اور ان کی مبادیات کی پرکھ کر کے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ مولانا کے جہان فانی سے رخصت ہو جانے سے عالم اسلام کا ایک ایسا قلعہ مسمار ہو گیا جہاں سے بے دینی اور الحاد کی یلغار کو پورے جوش و جذبے سے روکا جاتا تھا۔ ان کے ہفتہ وار لیکچرز کا سلسلہ تمام ہو تمام ہوا، مگر انہوں نے اسلامی موضوعات پر اتنا وقیع کام کیا جسے یکجا کرنے کے لیے ان کے جتنی عمر چاہیے۔

انڈیا میں ان کی فکر کی وراثت ان کی ہونہار بیٹی اور بہت سارے اور لوگ ہیں، تو پاکستان میں بھی طارق بدر، سیف اللہ، اور بہت سارے اور لوگ ہیں جو ان کے فکر و نظر کی اشاعت کا کام سالہا سال سے سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ ان سب کو لمبی زندگیوں سے نوازے کہ ایک بڑے کام کے لیے بڑی عمر کی ضرورت ہے۔ آمین۔ ڈیلی اوصاف پاکستان۔

کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 169۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.