Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

@team Sarwar

Urdu · 6 min

اعظم گڑھ سے نظام الدین ویسٹ، براستہ پٹھان کوٹ۔ اعظم گڑھ سے نظام الدین ویسٹ، براستہ پٹھان کوٹ۔ عبداللہ طارق سہیل۔ اسلام کے بے مثال مفسر اور شارح، مولانا وحید الدین خان، ساڑھے 96 سال کی عمر میں بزمِ دنیا سے رخصت ہوئے۔

اعظم گڑھ سے شروع ہونے والا سفر، براستہ پٹھان کوٹ، دہلی کی کالونی نظام الدین ویسٹ میں ختم ہوا۔ ان کی زندگی اور فکرِ الٰہی تین مقامات کے گرد محور گرد محور گردش رہی: جغرافی نہیں، روحانی اور عقلی طور پر۔ مولانا کا رسالہ مشن دنیا کے ہر ملک میں ہے، اور ان کا ماہانہ جریدہ الرسالہ اردو اور انگریزی زبانوں میں دنیا کے ہر گوشے میں پڑھا جاتا ہے۔ حلقے کے لوگ اپنے طور پر اس کے تراجم دیگر زبانوں میں بھی کرتے ہیں۔

ہندوستان سے نکلنے والا اور کوئی بھی رسالہ یا ضمیمہ اتنا بڑا دائرہ اشاعت نہیں رکھتا۔ مولانا نے دین کا گہرا مطالعہ کیا، انہوں نے قرآن کا مطالعہ معتقدین کی قیود سے آزاد ہو کر کیا، اور دین کی حقیقی تعبیر کے لیے بہت برس جانکاہی کی۔ اسی سفر کے دوران انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی، کہ ان کے خیال میں جماعت تعبیر کی غلطی کی مرتکب ہوئی تھی؛ وہ اسلامی لحاظ سے ٹھیک نہیں تھی۔ اس ناطے، چھپنے والی ان کی کتاب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں زلزلہ پیدا کر دیا۔

دن بدن مولانا کے حامیوں کی تعداد بڑھی، اور خود جماعت کے اندر بھی نظرِ ثانی کی سوچ پیدا ہوئی، لیکن سیاست کے ارتقائی سفر میں واپسی کی راہ نہیں تھی۔ مولانا کی حیرت انگیز کتاب "مذہب اور جدید" چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب جدید اسلامی تحریکوں کا طوطی پورے عالمِ اسلام میں بول رہا تھا، اور مراکش سے لے کر جکارتہ تک نئے طالبِ علم، مولانا مودودی سید قطب بدیع الزماں نوری کی فکر کے اسیر ہو رہے تھے، وحید الدین خان نے اپنے گہرے مطالعے اور اچھوتی تحریروں سے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ اخوان المسلمون نے مصر میں جو راستہ اختیار کیا، اس سے انہیں یہ موقع نہیں مل پایا کہ وہ نیا راستہ تلاش کر سکیں۔

بھارت کی جماعتِ اسلامی، مانیں نہ مانیں، لیکن وہ مولانا مودودی اور مولانا وحید الدین کے بتائے گئے رستوں پر بیک وقت چل رہی ہے۔ مولانا وحید الدین خان نے امریکہ سے لے کر جاپان تک پورے کرۂ ارض پر غیر مسلموں کی سوچ کو بھی متاثر کیا۔ خود بھارت میں ہندو دانشوروں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے بارے میں اپنا طرزِ عمل بدلنے پر مجبور ہوئی۔ بھارتی میڈیا بھی ان سے متاثر ہے۔

تجربات نے بتایا ہے کہ جہاں جہاں ان کی حکمتِ عملی پر عمل کیا گیا، وہاں وہاں ہندو مسلم فسادات میں کمی آئی۔ عشرہ بھر پہلے کی بات ہے، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی جہادی فلسفے کے سحر کا اسیر تھا۔ امریکہ نے آنکھیں بدلیں، اور اس کے سرکاری و غیر سرکاری راز، دستاویزات اور کتابوں کی شکل میں بے در پے سامنے آنے لگے تو جہادِ افغانستان سے لے کر جہادِ کشمیر تک سب کی حقیقت کھل گئی۔ پچھتاوے سے زیادہ یہ احساس تکلیف دہ رہا کہ کس طرح ہمیں بے وقوف بنایا جاتا رہا۔

انہی دنوں مولانا وحید الدین مرحوم کے بعض اینٹی جہاد، بقول ہمارے مضامین پر اپنے کالم میں سخت تنقید کی، اور ایسی تنقید کہ اس میں بے ادبی بھی شامل ہو گئی۔ بہت بار ارادہ کیا کہ ان سے معافی مانگ لوں، لیکن تیز رفتار واقعات کے دھارے نے ٹھہر کر سوچنے کا موقع ہی نہ دیا۔ اب ناگزیر موقع ہے تو ان کی روح سے معافی کا خواستگار ہوں۔ وہ لامحالہ صحیح تھے، اور ہم تو محض بے وقوف بنائے گئے تھے۔

ہم اسے جو سودا (بارگین) سمجھے، یہ وہ نہیں تھا؛ یہ تو کوئی اور ہی سودا، یعنی سٹف نکلا۔ مولانا وحید الدین نہیں رہے، جاوید غامدی پاکستان چھوڑ گئے، پردیس میں ہیں، اور عمر بھی اپنے تقاضے لاگو کرتی ہے۔ پہلے جیسا کام شاید اب نہیں کر سکتے۔ ان کی فکر کے ایک وارث صاحبِ علم ہیں، بہت قیمتی کالم لکھتے ہیں، وقتی موضوعات پر بھی ان کی تحریریں مستقل قدر رکھتی ہیں۔

لیکن ان کے حلقے کو زیادہ ضرورت الرسالے کی دعوت اور ریسرچ کو آگے بڑھانے کی ہے۔ خدا مولانا وحید الدین کے درجات بلند فرمائے۔ ڈیلی اردو پاکستان۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 167۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.