Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Mere Ilmi Ustad aur Rahbar

Urdu · 10 min

میرے علمی استاد اور رہبر، فاروق قادِل، پاکستان۔ مشہور عالمِ دین، مذہبی اسکالر، خطے میں امن کے داعی، برصغیر کے عہد ساز مصنف، اور 200 سے زائد کتابوں کے خالق، مولانا وحید الدین خان (1925-2021) اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ مولانا وحید الدین میرے علمی استاد اور رہبر رہے ہیں؛ آپ سے عشق کی انتہا تھی، سچ پوچھیے تو جب بھی زندگی سے دل اکتا جاتا تو مولانا صاحب کی کتابیں بہترین معالج ثابت ہوتیں۔ آپ پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، مگر میرے احساسات کی ترجمانی کے لیے مولانا پر 2019 کی ایک پرانی تحریر پیشِ خدمت ہے۔

اماں، وہ کتابیں آپ کی امانت ٹھہریں۔ یوں تو پچھلے 10 سالوں سے میرے گھر میں کتابوں کا آنا ایک معمول بن چکا ہے؛ بسا اوقات کتابوں کی کثرت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ گھر میں ادھر ادھر بکھری پڑی نظر آتی تھیں، جس سے ایسا معلوم ہوتا کہ یہ رہائشی گھر نہیں بلکہ لائبریری ہے۔ یہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی تھی: رات کے پہلے پہر میں کتاب ہاتھ میں تھامے، باآواز بلند پڑھ کر امی کو سنا رہا تھا، اور امی بلا کسی نقل و حرکت کے خاموشی سے سن رہی تھیں۔ میں تقریباً ہر کتاب سے باری باری پیراگراف پڑھ کر سنا رہا تھا۔

بالآخر جب میں نے کتاب کو بند کر کے پرے رکھ دیا، تب امی نہایت ہی شائستگی سے مجھے یہ تاکید کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ میں یہ انمول کتابیں کہیں پر دینے کے بجائے یہیں گھر ہی میں رکھ دوں۔ امی کی یہ بات سن کر میں کافی حیرت زدہ رہ گیا، کیونکہ آج تک امی نے مجھے کوئی بھی چیز دینے سے منع نہیں کیا تھا، اور مگر یہ میں پہلی مرتبہ سن رہا تھا۔ اسی لیے میں نے بلا توقف یہ بات امی کو بول ہی دیا کہ تعجب ہے آپ آج منع فرما رہے ہیں، وہ بھی کتب دینے سے۔ میری بات سن کر جواب میں امی نے مسکراتے ہوئے کہا: "ہاں، یہ کتب یہیں رہنے دو، اگر ہو سکے تو انہیں کہیں شفٹ مت کرنا، کیونکہ ان میں کافی زیادہ حکمت اور سبق آموز کلمات درج ہیں۔

" امی کے اصرار پر کتابوں کے حوالے سے میں نے اس گھڑی کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں کیا، البتہ کتابیں کچھ دن اور گھر میں رکھنے کی ضرور ٹھان لی۔ دراصل یہ کتابیں نامور مذہبی اسکالر اور عصر حاضر کے معروف حقیقت نگار مولانا وحید الدین خان کی تھیں، جنہوں نے اپنے جدید اور روشن خیال طرزِ اسلوب سے دینِ اسلام اور زندگی کے ان گنت موضوعات پر 200 سے زائد کتب تحریر کیے ہیں۔ علاوہ ازیں، علم و فکر کی ترویج و آبیاری کے لیے سن 1976 یعنی 43 سالوں سے ماہنامہ میگزین الرسالے کا اجراء بھی کر رہے ہیں۔ آپ کی عمر قریباً 94 سال ہے، اور اس وقت انڈیا کی راجدھانی دہلی میں مقیم ہیں۔

راخِم الحروف نے چند سال قبل مولانا صاحب کی کتب و تخلیقات کا مطالعہ شروع کیا، جس کے بعد سے مولانا صاحب کے فکر و افکار، اندازِ بیان، اور طرزِ تحریر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ دورانِ مطالعہ میں نے مولانا صاحب کو نہ صرف بطور ایک مذہبی اسکالر پایا، بلکہ ایک مؤرخ، ایک تحقیق نگار، ایک موٹیویشنل قلم کار، پرسنیلٹی ڈیولپمنٹ، مثبت کردار ساز، اور روشن خیال رائٹر کے روپ میں بھی مولانا صاحب مجھ پر آشکار ہوئے۔ مولانا صاحب کی اس بصیرت کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ محسوس کیا کہ مولانا صاحب کے کتب اگر بنستان پبلک لائبریری میں موجود ہوں تو اس سے نہ صرف مطالعے کے شوقین نوجوان، بلکہ گورنمنٹ ہائی سکول بنستان میں زیرِ تعلیم نو آموز طلبہ بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مستفید رہ سکتے ہیں۔ اس سوچ اور نظریے کے تحت میں نے مولانا صاحب کی اشاعتی ٹیم سے بذریعہ خطوط رابطہ کر کے بنستان پبلک لائبریری کے لیے کتب عطیہ کرنے کی درخواست کی۔

چند دن گزرنے کے بعد خط کا جواب موصول ہوا، جس میں کتابیں عطیہ کرنے کی رضامندی ظاہر کی گئی تھی، اور ساتھ ہی میرا پوسٹل ایڈریس بھی طلب کیا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد ڈاک خانے سے مجھے کال موصول ہوئی کہ آپ کے نام پارسل آیا ہے۔ جب میں وصولی کے لیے پہنچا تو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ مولانا صاحب کی کتابوں کا ایک بڑا اور وزنی پارسل موجود تھا، جس میں مولانا صاحب کی کل 34 کتابیں شامل تھیں، جن کی کل قیمت مجموعی طور پر 14,700 روپے تھی۔ کتابیں موصول ہونے کے بعد میں نے تحریری طور پر مولانا صاحب کا شکریہ ادا کیا، اور اس امید کے ساتھ کتابیں گھر میں رکھ دیں کہ موقع ملتے ہی انہیں بنستان پبلک لائبریری کے حوالے کر دوں گا۔

دوسری جانب، جب میں نے اپنی والدہ محترمہ کو ان کتابوں کے بارے میں بتایا تو وہ بے حد خوش ہوئیں، کیونکہ یہ کتابیں فکشن و ادب سے ہٹ کر حکمت و دانائی اور سبق آموزی پر مشتمل تھیں۔ امی کے اس شوق اور تجسس کو دیکھتے ہوئے میں یہ کتابیں پڑھ کر امی کو سناتا تھا، اور امی سن کر یہ فرمائے بغیر نہ رہتیں کہ یہ انمول کتابیں کہیں پر دینے کے بجائے یہیں گھر ہی میں رکھ دوں۔ امی کی یہ بات سن کر میں کسی نتیجے پر تو نہیں پہنچتا، البتہ دل ہی دل میں یہ فیصلہ ضرور کرتا کہ کتابوں کی ترسیل کچھ دن اور ٹال دوں۔ یہ تسلسل جاری ہی تھا کہ کچھ دن بعد میری اماں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔

اماں کے گزرنے کے بعد جہاں دیگر ان گنت مسئلے سر اٹھائے کھڑے تھے، وہیں ایک مسئلہ ان کتابوں کا بھی تھا جو کچھ دن پہلے میری اور اماں کی صحبت میں رہی تھیں۔ ایک طرف ان کو گھر میں رکھنے کی اماں کی خواہش بے چین کرتی، تو دوسری جانب انہیں لائبریری میں جمع کرانے کا وعدہ آڑے آتا۔ ان دو راستوں سے ایک کا انتخاب کرنا کٹھن فیصلہ تھا۔ اس لیے کافی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مولانا صاحب کی ٹیم کو صورتحال سے مطلع کیا جائے۔

بعد ازاں جو فیصلہ ان کی طرف سے آئے گا، وہی حتمی اور قابلِ قبول مانا جائے گا۔ چنانچہ مولانا صاحب کی ٹیم سے میں نے رابطہ کیا اور اپنی صورتحال ان کے سامنے بیان کی۔ میری بات سننے کے بعد ٹیم نے اماں کے بلند درجات کے لیے بے شمار دعائیں دیں، اور یہ فیصلہ صادر کیا کہ کتابیں اماں ہی کی خواہش کی مناسبت سے گھر میں رکھی جائیں۔ مشاورت آنے کے بعد بوجھ کافی ہلکا ہوا، وعدہ خلافی بھی نہ ہوئی، اور اماں کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔

ایک اور کام جو بیچ راہ ادھورا رہ گیا تھا، وہ بھی اب پہلے کی طرح جاری و ساری ہے، یعنی اماں کو یہی کتابیں پڑھ کر سنانا اس مناسبت سے اب تک کم سے کم 3-4 کتابیں اماں کو پڑھ کر سنا چکا ہوں، اور بقیہ کتابیں بھی پڑھ کر اماں کے گوشِ گزار کرنے کا مقروض ہوں۔ اور ساتھ ہی یہ عہد کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند فرمائے، اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند کرے، اور ان کا پھیلا ہوا علم ان کے لیے صدقہ جاریہ بنے۔ آمین۔

کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.