← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan se Eik Ghair Rasmi Mulaqat
Urdu · 4 min
مولانا وحید الدین خان سے ایک غیر رسمی ملاقات: سہیل ارشد، انڈیا۔ عظیم اسلامی مفکر مولانا وحید الدین خان سے ملاقات کی میری دیرینہ خواہش جولائی 2016 میں پوری ہوئی۔ میں نے ان کے نظام الدین دِلّی کے مکان میں ان سے ملاقات کی؛ وہ بالکنی میں میرے ساتھ بیٹھے۔ میرا ارادہ ان سے انٹرویو لینے یا ان سے علمی گفتگو کرنے کا نہیں تھا، بلکہ صاف گوئی کا تقاضا یہ ہے کہ میں ان سے علمی گفتگو کا خود متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔
میرا ارادہ صرف ان جیسی عہد ساز شخصیت سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کا تھا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کا رسالہ الرسالہ پڑھا تھا، اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح ان کے عصری اسلوب سے بہت متاثر تھا۔ لہٰذا قیام دہلی کے دوران میں نے ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے دورانِ گفتگو اپنی ذاتی زندگی سے متعلق تھوڑی بہت گفتگو کی، اور مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی مسائل سے متعلق بھی اپنی آرا ظاہر کیں۔
انہوں نے بچوں کی پرورش سے متعلق اپنا طرزِ فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو کبھی بے جا لاڈ پیار سے نہیں بگاڑا، اور ان کی کبھی ناز برداری نہیں کی۔ ہمیشہ انہیں یہ احساس دلایا کہ انہیں اپنی زندگی اور کیریئر کو بنانے کے لیے خود ہی محنت کرنی ہوگی۔ اکثر مشہور عوامی شخصیات کے بچے اپنے والدین کی مدد اور اثر و رسوخ پر منحصر رہتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنی شہرت اور اثر و رسوخ کی بنا پر ان کا کیریئر بنا دیں یا ان کے مسائل حل کر دیں۔ اس وجہ سے ان کے بچے نفسیاتی طور پر کمزور اور اپنے ہر مسئلے کے حل کے لیے اپنے والدین پر منحصر ہوتے ہیں۔
مولانا وحید الدین خان نے اپنے بچوں کو شروع ہی سے حالات سے خود ہی لڑنے، اور اپنی زندگی اور کیریئر کی تعمیر خود ہی کرنے کی نفسیاتی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ جب میرا بیٹا بالکل چھوٹا تھا تو کبھی کبھی رات کو بغیر کھائے سو جاتا تھا۔ میری بیوی اس کو جگانے کی کوشش کرتی تھی تاکہ اسے کھلا سکے، تو میں ان سے کہتا تھا کہ اسے چھوڑ دو، سونے دو، وہ نہیں کھائے گا تو مر نہیں جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اکثر دنیا کے مختلف ملکوں کا سفر کرتا ہوں۔
اکثر لوگ جب غیر ممالک سے لوٹتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے وہاں سے تحفے لے کر آتے ہیں۔ میں نے کبھی غیر ممالک سے اپنے بچوں کو کچھ لا کر نہیں دیا۔ اس طرزِ عمل کا فائدہ یہ ہوا کہ آج میرے بیٹے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اور انہوں نے اپنا کیریئر خود بنایا ہے۔ چونکہ مولانا وحید الدین خان نے اپنا علمی سفر اردو صحافت سے شروع کیا تھا، اس لیے انہوں نے اردو صحافت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔
وہ اردو صحافت کے معیار سے نالاں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اردو اخبارات مسلمانوں کا جذباتی استحصال کرتے ہیں، اور ان کی سماجی اور سیاسی ترقی میں کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کرتے۔ اس طرح اردو صحافت زرد صحافت کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پوری اردو صحافت ہی زرد صحافت ہے۔
ان کی اس رائے سے ہو سکتا ہے کہ کافی لوگوں کو ناگواری ہو، مگر ان کی یہ رائے ان کے ذاتی مشاہدے پر مبنی تھی۔ دورانِ گفتگو اسلامی مدارس کا بھی ذکر کیا۔ دورانِ گفتگو اسلامی مدارس کا بھی ذکر آیا۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی میں مدارس کے کردار سے خوش اور مطمئن نہیں تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ مدارس ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی میں قابلِ ذکر کردار ادا کر سکتے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ انہوں نے الرسالے کے ایک شمارے میں مدارس سے متعلق اپنی تنقیدی رائے کا اظہار کیا تھا۔ بشکریہ، اخبارِ مشرق، کلکتہ، 6 جون 2021، صفحہ 6۔ کتاب: داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔