← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan- Kuch Yaden aur Baten
Urdu · 17 min
مولانا وحید الدین خان، کچھ یادیں اور باتیں۔ ظہیر احمد، ایڈیٹر، تحریر و تصویر، پاکستان۔ 1925 عیسوی کو اعظم گڑھ، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے ممتاز اسکالر۔ مولانا وحید الدین خان 21 اپریل 2021 کو دہلی میں انتقال کر گئے۔
انہیں 12 اپریل کو کرونا کی تشخیص کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ 96 برس کی عمر پانے والے مولانا وحید الدین خان کو اسلام کے حوالے سے مختلف اپروچ اور طرز فکر کا بانی سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے تقریباً 200 کتابیں لکھیں۔ مولانا وحید الدین خان کو معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کے لیے طویل کوششوں پر بھارت کا دوسرا اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھی، پدم ویبھوشن، دیا گیا تھا۔
تاہم ان کے ناقدین بابری مسجد کے انہدام اور کچھ دیگر حوالوں سے ان کے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کرتے تھے، مگر ان کی علمی فضیلت کو تسلیم کرنے سے انہیں بھی انکار نہیں تھا۔ مولانا وحید الدین خان کی علمی فضیلت کا اعتراف کرنے والوں میں مسلمان ناقدین کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی صدر رام ناتھ نے بھی تعزیتی پیغامات میں مولانا وحید الدین خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر تعلیم اپنے آبائی علاقے کے ایک روایتی مدرسے سے حاصل کی تھی۔
تاہم ان کے انتقال کے بعد پاکستان کے ممتاز اسکالر جاوید احمد غامدی نے جب ٹی وی پر مولانا کے حوالے سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نہ صرف مولانا وحید الدین خان کے استاد رہے تھے بلکہ بعد کے زمانے میں ان کے شاگرد رہنے کا اعزاز جاوید احمد غامدی کو بھی حاصل ہوا۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1947 عیسوی میں وہ جماعت اسلامی انڈیا میں شامل ہو گئے اور 1963 عیسوی تک اس کے رکن رہے۔ مولانا وحید الدین اس عرصے میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے، لیکن نظریاتی اختلاف کے سبب جو اسلام میں سیاست کے حوالے سے تشریح کی بابت ابھرے، وہ جماعت اسلامی سے دور ہو گئے۔ غالباً یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد، اور کچھ دیگر اہم شخصیات اختلافات طویل بحث و مباحثوں کے بعد راستوں یا اپروچ کے جدا ہونے کی آبیاری کر رہے تھے۔
مولانا وحید الدین نے 1963 عیسوی میں جماعت اسلامی سے جدا ہو کر "تعبیر کی غلطی" کے نام سے کتاب لکھی۔ جاوید احمد غامدی نے اسے "مارکت الاعراب" تصنیف قرار دیا ہے۔ محقق عرفان احمد کے مطابق پہلے انہوں نے جماعت اسلامی انڈیا کے ارکان کو بات چیت کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کیا، تو ارکان نے مولانا وحید الدین سے اسے تحریری صورت میں پیش کرنے کو کہا۔ مولانا وحید الدین نے مولانا مودودی کو بھی پاکستان میں اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کیا، جس میں ان کے نظریے پر بھی تنقید کی گئی تھی۔
محقق عرفان احمد لکھتے ہیں: "مولانا مودودی نے مولانا وحید الدین کی تنقید کا جواب نہیں دیا، بلکہ جواب میں یہ لکھا: آپ کا مطالعہ آپ کو ایک سمت میں لے گیا ہے، اس کے برعکس میرا مطالعہ مجھے دوسری جانب لے گیا ہے۔ اگر آپ اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ میں نے دین کو مکمل طور پر غلط سمجھا ہے، تو پھر آپ صحیح سمجھتے ہیں اور اس کی مثبت تشہیر کریں۔ لیکن آپ میری ترجمانی میں غلطیاں ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، آپ اپنی کتاب شائع کر سکتے ہیں۔ " جب مولانا وحید الدین نے مولانا مودودی کو اپنی تنقید پر زور ڈالا تو انہوں نے لکھا: "آپ کا مکالمہ کرنے کا انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو نقطہ نظر کو قبول نہیں کرتا، وہ جاہل اور غیر دانشمند ہے۔
" مولانا وحید الدین نے اعتراف کیا کہ ہو سکتا ہے ان کا انداز سخت ہو، لیکن ان کا واحد مقصد حق کی تلاش تھا۔ مولانا وحید الدین 200 کتابوں کے مصنف کے علاوہ اعلیٰ درجے کے مفسرِ قرآن بھی تھے۔ مولانا وحید الدین سے نظریاتی اور سیاسی خیالات سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی علمی فضیلت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ کلکتہ کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر محمد ریاض اگرچہ ان سے اختلاف رکھنے والوں میں تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک عالم تھے، بلاشبہ ایک عظیم عالم۔
سینئر صحافی محمد وجیہ الدین کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے مولانا کے فارمولے کو مسترد کر دیا، کیونکہ بعض لوگ اسے ہتھیار ڈالنے کی مانند دیکھتے تھے۔ وجیہ الدین لکھتے ہیں: "ان سے ملنا ایسا تھا جیسے ایک صوفی سے؛ ڈھیلا ڈھالا کرتا پاجامہ، ان کے موٹے شیشے سے جھانکتی نظریں، ان کی پگڑی اور لمبی سفید داڑھی۔ وہ ایک روایتی شخص کی مانند تھے، لیکن ان کے خیالات جدید تھے۔ وہ انتہا پسندی اور مقدس صحیفوں کی قدامت پسند ترجمانی کے خلاف تھے۔
" 1976 عیسوی میں انہوں نے ماہنامہ اور رسالے کا آغاز کیا۔ یہ جریدہ مکمل طور پر ان کے مضامین پر مشتمل ہوتا تھا اور اردو زبان کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو گیا۔ وجیہ الدین لکھتے ہیں: "مولانا وحید الدین کی موت سے انڈیا اور دنیا سمجھداری کی بات کرنے والی ایک مضبوط آواز اور امن کا پیغام دینے والے ایک مبلغ سے محروم ہو گئے ہیں۔ " امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے لکھا ہے: "مولانا وحید الدین خان کی رحلت سے بہت صدمہ پہنچا۔
مولانا بلاشبہ ان مفکرین میں سے تھے جنہوں نے ہمارے زمانے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ملک میں مختلف مذہبی فرقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے درمیان مکالمہ و تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کرنے میں مولانا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ " اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی و منطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مولانا کی کوششیں بھی ان شاء اللہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں گی۔ حسینی صاحب نے مولانا وحید الدین کی بعض مشہور کتابوں کا حوالہ دے کر لکھا ہے: "مولانا اردو نثر کے ایک بالکل منفرد اور بڑے پرکشش اسلوب کے بانی ہیں۔
انتہائی سادہ زبان میں اور بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی مضامین کو بیان کرنے کا جو اسلوب مولانا نے ایجاد کیا، وہ بلاشبہ ان کا غیر معمولی کمال تھا اور اس نے کئی نسلوں کے اسلوبِ تحریر پر اثر ڈالا ہے۔ " حسینی صاحب نے مولانا کی تحریروں اور الرسالے کے مطالعے کے علاوہ ان کے گھر پر ان سے بہت سی یادگار ملاقاتوں میں ان کی شفقت و محبت اور قدردانی سے متاثر ہونے کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری میں بی بی سی کے نئی دہلی میں نامہ نگار نیاز فاروخی کی رپورٹ 23 اپریل سے مدد لی گئی۔ پاکستان میں بھی مولانا وحید الدین خان کے سانحۂ ارتحال کی خبر بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی گئی۔
ممتاز صحافی اور سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے نہ صرف مولانا وحید الدین کی شخصیت کے حوالے سے جو کالم سپردِ قلم کیا، اس میں انہوں نے اپنے مطالعے کے حوالے سے نہایت عمدہ طریقے پر تاریخ کو سمیٹا ہے۔ شامی صاحب کا کالم بیک وقت روزنامہ پاکستان اور روزنامہ دنیا میں چھپا، جبکہ دنیا ٹی وی چینل پر انہوں نے اپنے پروگرام میں جاوید احمد غامدی سے جو گفتگو نشر کی، وہ بھی بہت قابلِ تعریف تھی۔ مولانا وحید الدین کے حوالے سے گفتگو کے لیے غامدی صاحب سے بہتر شخص ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ دنیا میں خورشید احمد ندیم نے بھی مولانا وحید الدین کے رخصت ہو جانے پر کالم لکھا ہے، جبکہ دیگر اخبارات میں بھی ان کی شخصیت پر مضامین اور کالم شائع ہوئے ہیں۔
شامی صاحب سے 23 اپریل کو ٹی وی پر گفتگو میں جاوید احمد غامدی صاحب نے کہا: "ایک بڑی غیر معمولی شخصیت رخصت ہو گئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ شمعِ ہدایت کی مانند اور اپنے عہد کی منفرد آواز تھے۔ انسانیت کی حقیقت کیا ہے، مذہب کی حقیقت کیا ہے، اور خدا کی سچی معرفت کس طرح حاصل ہوتی ہے، یہ ان کا خاص موضوع رہا۔ " ان کی ایک ایک تحریر اور ایک ایک لفظ گواہی دیتا ہے کہ وہ دنیا میں جیے تو آخرت کے لیے جیے۔ ان کی یہ خوبصورت فکری تعبیر تھی کہ ہماری زندگی کے ہر معاملے کا رخ آخرت ہونا چاہیے۔
ان کا پیغام آخری وقت تک یہی رہا کہ اپنے ذہن کو مثبت رکھو اور انسانوں کے بارے میں اس طرح سوچو جس طرح تم اپنے بارے میں سوچتے ہو۔ الرسالے سے تحریر و تصویر کا رابطہ کب اور کیسے ہوا؟ یہ 1991 عیسوی کا زمانہ تھا۔ تحریر و تصویر نے اس اشاعت کا آغاز اخباری سائز پر کیا تھا۔
چونکہ تحریر و تصویر فضلہ سنز اردو بازار، کراچی کی پریس میں طارق رحمان کی زیر نگرانی چھپتا تھا، جہاں کی بہت سی خاص باتوں میں ایک خاص بات یہ تھی کہ فضلہ سنز ہی نے مولانا وحید الدین خان کی کتابوں کی اشاعت و فروخت کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی، اور یہیں سے مولانا وحید الدین کے الرسالے کی باقاعدگی سے اشاعت اور تقسیم کا اہتمام ہوتا تھا۔ تحریر و تصویر نے متسلسل سے الرسالے کا بلا معاوضہ اشتہار چھاپا، اور طارق رحمان باہتمام مجھے الرسالہ اعزازی دیا کرتے تھے۔ اکثر حیدرآباد، پاکستان واپسی پر الرسالے کا انہماک سے مطالعہ شروع کرتا اور سفر کے اختتام سے قبل ہی پورا کر لیتا۔ چنانچہ میرے پاس تاحال 1990 عیسوی سے 1996 عیسوی تک کے 70 سے زائد شمارے محفوظ ہیں۔
الرسالہ فروری 1991 عیسوی میں شائع ہونے والی مولانا وحید الدین کی تحریر کے ایک حصے کو میں نے تحریر و تصویر میں اپنے کالم کا موضوع بنایا، اور جسارت میں 1981 عیسوی اور 1982 عیسوی کے دوران اپنے بیتے حالات کے پس منظر میں اسے "مولانا وحید الدین کا کلمۂ حق" کے عنوان سے جولائی 1991 عیسوی کے شمارے میں شائع کیا۔ میری خوش بختی کہ ایک بار مولانا دہلی جاتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر کچھ دیر ٹھہرے تو طارق رحمان نے انہیں مجھ سے اور تحریر و تصویر سے متعارف کرایا، جس کا ذکر انہوں نے غالباً الرسالے میں کیا۔ طارق رحمان نے 2007 عیسوی میں دہلی جا کر مولانا سے ملاقات کی۔ تصویر بھی ان کے انتقال پر ملال کی خبر کے ساتھ بھیجی ہے۔
تحریر و تصویر جولائی 1991 عیسوی کے شمارے سے میرے کالم کا ابتدائی حصہ "اثرِ نو" کمپوزنگ میں ملاحظہ ہو۔ ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور الرسالہ دہلی کے مدیر مولانا وحید الدین خان نے الرسالہ فروری 1991 کے شمارے میں اپنے دورِ روس کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے: "سویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک مخالف کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں، یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو اس کو سارے عالم پر غالب کیے ہوئے ہے۔
" وہ یہی فراخ دلی اور برداشت ہے کہ مغربی جمہوریت، جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے، وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے۔ وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اس صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔ موجودہ زمانے کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملے میں بالکل برعکس ہے۔
ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لیے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سائے سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارے کے اکابر پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہ ہو، اس کے بعد وہ شخص اس ادارے کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ کجا کہ اس کو اپنے ارادے کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے بلائیں، کجا کہ اس کو اپنے ادارے کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے بلائیں۔
موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہے کہ یہ ادارے سطحی انسانوں کی سرائے بن کر رہ گئے ہیں۔ کم از کم پچھلے 50 سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلافِ رائے کا ماحول ہو۔
ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں۔ پھر وہاں اعلیٰ درجے کے انسان کیوں کر پیدا ہو سکتے ہیں؟ کتاب "داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان" صفحہ نمبر 155۔