Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan

Urdu · 5 min

مولانا وحید الدین خاں، مولانا محمد شمشاد ندوی، جے پور۔ مولانا وحید الدین خاں کئی روز علیل رہنے کے بعد اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ ان کی رحلت کی خبر عام ہوتے ہوتے تعزیتی بیانات آنے شروع ہوئے۔ مولانا اپنے مضامین، تصنیفات، اور اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے ہر طبقے میں متعارف تھے اور برادرانِ وطن میں بھی مقبول تھے۔

ان کا الرسالہ وقت پر پابندی کے ساتھ شائع ہوتا، اور اس کے قارئین بے صبری سے اس رسالے کا انتظار کرتے۔ ان کی تصنیفات میں علمِ جدید کا چیلنج، خاتونِ اسلام اور پیغمبرِ اسلام وغیرہ، اپنے موضوعات پر منفرد اور جامع کتب ہیں جو کئی زبانوں میں شائع ہو کر مشہور و متداول ہو چکی ہیں۔ اسی طرح الرسالے کے بہت سے مضامین و مقالات نہایت قیمتی ہیں۔ مولانا موصوف اپنی آخری عمر تک اپنے مشن کے لیے وفادار اور یکسو رہے، اور ہر کام کو وقت اور پابندی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔

مولانا کے منفرد، وہ اچھوتے انداز نے ان کی تحریروں کو پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی ملی نظریات سے اختلاف کے باوجود ان کے کچھ مضامین اور منتخب کتابوں کا مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ مولانا وحید الدین خان یکم جنوری 1925 عیسوی کو بڈریہ، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مدرسۃ الاصلاح میں تربیت، تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوئے، اور یہاں سے سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد تحریری میدان میں قدم رکھا۔

آپ کی ایک کتاب "علمِ جدید کا چیلنج" بہت مشہور ہوئی۔ جمعیت علماء ہند کے ترجمان الجمعیہ دہلی میں مدیر رہتے ہوئے قیمتی مضامین لکھے۔ دھیرے دھیرے پورے ہندوستان میں متعارف ہو گئے، اور آپ کے مضامین شوق و دلچسپی سے پڑھے جانے لگے۔ 1976 عیسوی میں ماہنامہ الرسالہ جاری کیا، جس کو وہ پابندی کے ساتھ شائع کرتے رہے۔

یہ رسالہ بہت شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ مولانا کی تقریباً 200 کتابیں ہیں جو اردو، عربی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ مولانا کا ترجمہ قرآن کئی زبانوں میں شائع ہو کر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ ان کی کتابیں برائے استفادہ بلا قیمت دی گئیں۔

جے پور لٹریچر فیسٹیول میں بھی ان کی کتابوں کا اسٹال لگایا جاتا ہے۔ ان کی ایک کتاب "الاسلام يتحدى" عرب کی یونیورسٹی میں شاملِ نصاب ہے۔ 12 مئی 1989 عیسوی میں حکومتِ پاکستان نے ان کی کتاب "پیغمبر انقلاب" انگریزی پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ حکومتِ ہند کی جانب سے ان کو کئی اعزازات: پدم بھوشن ایوارڈ، قومی یکجہتی ایوارڈ، قومی اتحاد ایوارڈ، اور قومی شہری اعزاز دیے گئے۔

اسی طرح "ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز"، "اردو اکیڈمی اعزاز"، "دہلی اعزاز" یعنی دہلی حکومت سے بھی نوازے گئے۔ مولانا وحید الدین خان کا ترجمہ قرآن اور ان کی کتابیں ان حلقوں میں پہنچ جاتی ہیں جہاں ہمارے علماء و مصنفین کی کتابوں کی رسائی نہیں ہو پاتی۔ سخت گیر ہندو تنظیموں و جماعتوں کے اسٹیج پر مولانا مخاطب ہوتے تھے۔ مولانا کا نظریہ تھا کہ ہم نرمی اختیار کر کے ہندوستان میں دعوتی کاموں کے لیے سرگرم ہو جائیں، اور برادرانِ وطن میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جو شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں ہیں، ان کا ازالہ کریں۔

اگر ہندوستان میں ہندو اور مسلم میں دوریاں بڑھیں گی اور آپسی غلط فہمیاں بڑھیں گی تو ہم دعوتی کام آسانی سے نہیں کر سکیں گے، اور مسلمانوں کے لیے حالات بد سے بدتر ہو جائیں گے۔ مولانا ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں۔ ملی مسائل کو صبر و تحمل کے ساتھ حل کرنا چاہتے تھے۔

وہ امن و اتحاد کے ایسے داعی اور مبلغ تھے جو برادرانِ وطن سے خوشگوار و بہتر تعلقات کے لیے ہر سمجھوتے کو بہتر سمجھتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے نظریات و خیالات کے خلاف مضامین اور کتابیں لکھی گئیں، اور مراسلے و تبصرے شائع کیے گئے۔ بہت سے لوگوں نے ہندوستان کی تاریخ، ماحول اور حالات میں ان کی اعلانیہ تائید کی۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.