← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
200 se zayed Kitabon aur Rasayel ke Musannif
Urdu · 7 min
200 سے زائد کتابوں اور رسائل کے مصنف، ڈیڈلی پارا پیرے، ڈاکٹر عبدالرف ثاقب ناظم، نشرالشعاعات مرکزی جمیت اہل حدیث برطانیہ نے معروف اسکالر، عالمی شہرت یافتہ مفکر مولانا وحید الدین خان کی یاد میں، منعقد ایک تعزیتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا وحید الدین خان 96 سال کی عمر میں دہلی میں دارِ فانی سے رحلت کر گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وہ ماہانہ الرسالے کے مدیر تھے اور تقریباً 50 سال سے تنِ تنہا نکالتے رہے۔ ان کی تحریروں میں ایک خاص دلچسپی اور کشش تھی جو قارئین کو اپنا بنا لیتی تھی۔ ان کا میگزین انڈیا میں تقریباً ہر علمی ذوق رکھنے والے افراد کے یہاں موجود رہتا ہے۔
اس کی حیثیت ایک ڈائجسٹ کی ہے۔ اس کی حیثیت ایک ڈائجسٹ کی تھی جس کو ہر مذہب و ہر مسلک کے لوگ شوق سے پڑھتے تھے، اور ساتھ ہی انگریزی دانت طبخے کے لیے انگریزی ماہانہ بھی جاری کیا۔ مولانا نے دینی تعلیم کے بعد اپنی ذاتی کوشش سے انگریزی تعلیم حاصل کی، جس کا عملی ثبوت ان کی تفسیرِ قرآن اردو کے ساتھ انگریزی میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر ہے۔ مولانا کے ایک مداح نے 1000 صفحات پر ایک کتاب اور آخرِ حیات تیار کی تیار کی ہے، جس سے مولانا کی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔
مولانا ایک ابخری شخصیت کے مالک تھے، انہوں نے اپنے الرسالے کا مقصد "دعوت الی اللہ" قرار دیا، اور اس نقطۂ نظر سے انہوں نے 200 سے زیادہ کتابیں اور رسائل تصنیف کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ جب جامعہ دارالسلام عمر آباد چند دن کے لیے تشریف لائے تاکہ جامعہ کے طلباء ان سے براہِ راست استفادہ کریں، تو اس وقت نائب ناظم نائب ناظمِ جامعہ، مولانا ظفر الحق شاکر عمری نے ان کی میزبانی کے لیے کھانوں کی تفصیل معلوم کرنا چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ جو کھانا طلباء کے لیے جامعہ میں پکتا ہے، وہی کھانا میں بھی کھاؤں گا۔ اس وقت ناظمِ جامعہ نے سکھ کا سانس لیا، ورنہ عموماً جامعہ کے طلباء بھی بعض اوقات جب وہ کچھ پڑھ لکھ کر مکی، مدنی، ریاضی، اظہری یا ڈاکٹر، انجینئر بن جاتے ہیں تو اپنی سابقہ زندگی کو بھول جاتے ہیں اور نئی نئی ڈشز کی فرمائش کرتے ہیں۔
جبکہ مولانا اتنی بڑی انٹرنیشنل شخصیت ہونے کے باوجود کس طرح ان کی طبیعت میں انکساری اور تواضع تھا۔ مولانا ایک مجتہد تھے، جو حق بات ہوتی اس کا برملا اظہار کر دیتے تھے۔ ابھی ایک عرصہ پہلے حکومتِ ہند نے مسلمانوں کے طلاق کا مسئلہ اٹھایا، انہوں نے حنفی مکتبِ فکر کے خلاف اہل حدیثوں کے مطابق فتویٰ دیا کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا چاہیے، جبکہ اس حق کا اقرار انڈیا میں مسلم پرسنل لا بورڈ نے نہیں کیا۔ اس اعتبار سے مولانا اپنے مسلک کے خلاف اہل حدیثوں کے فتوے کا اعلان کر کے تقلیدِ شخصی کا برملا انکار کیا۔
اس میں شک نہیں کہ مولانا کے قلم نے جمہور علماء کے خلاف بہت سے مسائل میں اختلاف کیا ہے، مگر انہوں نے عام علماء کی طرح بھی مکھی پر مکھی نہیں ماری ہے۔ اور ہم اہل حدیث کسی بھی امام کی جامد تقلید کے قائل نہیں ہیں، اس لیے کہ ہر امام سے غلطی ہوتی ہے، اسی لیے ہم ہر امام کا احترام کرتے ہیں، لیکن کسی بھی امام کی سو فیصد تقلید نہیں کرتے، نہ ائمہ اربع کی، نہ امام بخاری و مسلم کی، نہ امام ابن تیمیہ کی، اور نہ ہی امام البانی کی۔ اس طرح ہم مولانا وحید الدین خان کی تقلید کی بھی دعوت نہیں دیتے ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ حدیث کے مطابق حکمت کی بات ایک مسلمان کا گم گشتہ خزانہ ہے، وہ جہاں سے بھی ملے اسے لے لینا چاہیے۔
سنن الترمذی، حدیث نمبر 2687۔ سو فیصد اتباع صرف اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو، آپ کے علاوہ کسی کی بھی جائز نہیں ہے۔ مولانا وحید الدین خان ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار اور انگنت خوبیوں سے نوازا تھا۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، بلکہ وہ مواحد تھے، اور اللہ کا وعدہ ہے کہ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
سورہ النساء، آیت 48۔ وہ نہ قبر پر، وہ نہ قبر پرست کے، وہ نہ قبر پرستی کے قائل تھے، نہ ہی تعزیہ پرستی کے، اور نہ ہی بزرگ پرستی کے قائل تھے۔ ان کی کمی دنیا میں محسوس کی جائے گی اور اس کو سدا یاد رکھا جائے گا۔ برطانیہ میں مقیم مولانا عبدالہادی العمری، مولانا احمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، ڈاکٹر صہیب حسن، مولانا عبدالحق مدنی، محمد فاروق نسیم، مولانا کنور شکیل، محمد سلمان اظہر، مولانا عبدالباسط عمری، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، حافظ حبیب الرحمن جہلمی، ڈاکٹر شمشاد احمد، ڈائریکٹر آئی پی سی آئی برمنگم، حافظ عبدالاعلی درانی، برادر خالد خان، برادر ثاقب بانی الحجرہ، ڈاکٹر عبدالرف ثاقب، اور دیگر حضرات نے اس پروگرام میں شرکت کی۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہور پیدا۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔