Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan- Afkar-o-Khidmat

Urdu · 9 min

مولانا وحید الدین خاں، افکار و خدمات؛ محمد عارف ندوی، استاد؛ جامعۃ الہدایہ، جے پور، راجستھان۔ انسانی تاریخ میں ہر زمانے میں جینیس افراد پیدا ہوتے رہے، اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر ہر زمانے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے۔ مثلاً حضرت— مثلاً حضراتِ انبیاء علیہم السلام۔ اس کے بعد اصحابِ رسول کا گروہ ہے، جس کو ایک مستشرخ نے "ہیروں کی نرسری" کہا ہے۔

اس کے بعد بھی امت مسلمہ میں ایسے جلیل القدر ذہین رجالِ کار، اربابِ حل و عقد، کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اور تا صبح قیامت ان شاء اللہ یہ زرّی سلسلہ جاری رہے گا۔ انہی ذہین مجتہد اربابِ حل و عقد میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی عظیم شخصیت کا شمار ہے۔ مولانا علیہ الرحمہ نے اعظم گڑھ کے زرخیز خطے میں اپنی آنکھیں کھولیں، اور بعد میں چل کر وہ کارنامہ انجام دیا جسے دنیا کی آنکھوں— وہ چشمِ فلک نے— قدردانی کی، اور 2021 عیسوی، رمضان المبارک 1422 عیسوی کے عشرۂ اولیٰ میں، یہ شمعِ علم و معرفت کے میدان میں اپنی فکری و علمی تابانیوں کو بکھیر کر زندگی کی آخری سانس لی۔ مثبت افکار کی شمع جلا کر کے جریدۂ عالم پر اپنا روشن نام ثبت کر دیا۔

مولانا جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اپنے اعلیٰ افکار و مثبت— مثبت کردار و امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرنے والے دروس و اسباق کے ایسے لازوال و دائمی نفع بخش آثار و خدمات کے موتی دے گئے، جو تا ابد درخشاں رہیں گے۔ مثلاً مولانا نے اسلام کی حقانیت کے اس بات کے لیے سائنسی اندازِ فکر کو اپنایا، اور سائنس دانوں کی تحقیقات کی روشنی میں کلمۂ اسلام و دین و اسلام— کلمۂ اسلام و دینِ اسلام کی حقانیت اجاگر کی۔ قرآنِ عظیم کی منفرد خدمت انجام دی، کہ جس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ 30 سے زیادہ زبانوں میں قرآنِ مجید کا ترجمہ شائع کروا کر دنیا میں پیغامِ خداوندی کو عام فرمایا۔

یہ ایسا کارنامہ ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ نہ جانے اس کی برکت سے رب ذوالجلال کی کتابِ مقدس کے ذریعے کتنے لوگوں کو اسلام کے سمجھنے کی توفیق ارزانی ہوئی، اور ہزارہا ہزار لوگوں کے شکوک و شبہات و غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا، اور ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کے قبول کرنے کی توفیق و سعادت حاصل ہوئی۔ مولانا کے قلم گوہربار سے— مولانا کے قلم گوہربار سے سینکڑوں علمی، دینی، ادبی، تحقیقی کتابیں و مضامین تصنیف ہوئیں، جن سے مولانا کی شخصیت کو پہچانا جا سکتا ہے۔ آپ کی تحریروں و مثبت افکار سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوتی ہے۔

مولانا کی مشہور کتابیں "علمِ جدید کے چیلنج" یا "اظہارِ دین" نامی کتابوں سے مولانا کی فکر کو بخوبی پہچانا جا سکتا ہے۔ ایسے مضامین جن سے مثبت سوچ اور تخریب میں تعمیر، فساد میں صلاح، شر میں خیر کی جلوہ گری ہوتی ہے۔ مولانا کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے شر میں خیر، تخریب میں تعمیر، مکر میں ایجابی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مولانا مرحوم کی سو سے زائد تصنیفات و تالیفات و علمی مضامین و مقالات ہیں، اور مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر نشر ہو چکے ہیں۔

اور علماء و سائنس دان و حق کے متلاشیوں سے دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں، اور انہیں صراطِ مستقیم پر چلنا نصیب ہوا ہے۔ مولانا مرحوم میں بہت سے محاسن و خوبیاں تھیں، انسانوں کے ہر ہر طبقے میں۔ مولانا کو شرفِ قبولیت حاصل ہوا کہ بعض حضرات نے ان کے چند افکار و تخیلات کی بابت تنقید و تنقیص کا پہلو اختیار کیا ہے۔ یقیناً انسان کے کاموں میں وہ کمال نہیں ہو سکتا جو رب ذوالجلال پھر انبیاء الکرام علیہم السلام کا خاصہ ہے۔

انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔ بقول امام مالک ابن انس: "کل احد یخذ من قوله ويرد الا صاحب هذا القبر" صلی اللہ علیہ وسلم۔ المقاصد الحسنہ، اثر نمبر 815۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر ایک قول کو لیا بھی جا سکتا ہے اور چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔

اسی کے پیش نظر یقیناً مولانا کی بہت سی رائےوں سے اختلاف کرنے کی گنجائش ہے، اور بہت سے اربابِ تحقیق نے اس کارِ خیر کو انجام بھی دیا ہے۔ امت مسلمہ کا دانشور طبقہ بخوبی واقف ہے کہ مولانا نے مذہبِ اسلام کی سربلندی و حقانیت کے اس بات کا جو کام انجام دیا ہے، وہ بسا اوقات ایک انجمن بلکہ پوری اکیڈمی کا کام تھا، جسے مولانا نے تنِ تنہا انجام دیا۔ اور ملک ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش چیلنج میں مثبت رہنمائی فرمائی۔ اقصیٰ سول کوڈ، مدارس اسلامیہ کے نصاب و نظام و طریقِ تعلیم کی افادیت پر، یا پیغمبرِ اسلام کے تشخص و عظمت پر، یا قرآنِ مجید کے ذریعے اظہارِ دین پر، مولانا کے قلم سے فکری، تحقیقی و علمی، ایجابی باتیں نکلی ہیں، جنہیں پڑھ کر بہت سے نان مسلموں نے اسلام کے تئیں اپنی بے خبری کا اعتراف کیا، اور یہ کہا کہ اگر یہی اسلام ہے تو ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

یہی مولانا مرحوم کی مغفرت و درجات کی بلندی کے لیے کافی ہے، ان شاء اللہ۔ میں نے خود دیکھا کہ ایسے مقامات پر مولانا کے نام سے ان کی کتابیں و رسائل و فکری مضامین تقسیم کرنے کی عام اجازت ملی، جہاں کسی ٹوپی و داڑھی والے کا گزر مشکل تھا۔ مثلاً جے پور، لٹریچر فیسٹیول وغیرہ۔ زمانے کے اسلوب میں اسلام کی حقانیت پیش کرنے و تہذیبِ اسلامی کے صحیح خدوخال اجاگر کرنے، اظہارِ دین کا یہ گراں مایا کارنامہ تا ابد یاد رکھا جائے گا۔

نئی نسل کو مثبت فکر و ایجابی اسلوب میں سوچنے سمجھنے و دوسروں تک اسے پیش کرنے کا عظیم کارنامہ، مولانا مرحوم کا ایک عمدہ تحفہ و تحسین گلدستہ ہے۔ وہ حسین گلدستہ ہے، جس کی خوشبو سے سارا عالم معطر ہوتا رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہجِ دعوت و تبلیغ کی جلوہ سامانی و تابانی ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گی۔ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کوئی موقع نہیں چھوڑا جہاں آپ نے دعوت پیش نہ کی ہو۔

آپ کبھی عکاس کے میلے میں، کبھی ذوالمجاز و ذوالمجنا کے کافروں و مخالفوں کی جھرمٹ میں، کبھی کسی گھاٹی میں مشرکین کے ازدحام میں اسلام کا کلمہ پہنچایا، اور ہر جگہ مخالفتوں و دشنام ترازیوں و خردہ گیریوں و جاں فشانیوں کے باوجود کامرانی و کامیابی کی دولت سے ہمکنار ہوئے۔ یہی معاملہ مولانا کا تھا۔ حق ہے کہ اسلامی دعوت کی تڑپ میں لیل و نہار کی گردشیں گزارنے والے دعوت و تبلیغ کے اس داعی محی السنہ کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے۔ اے مردِ مجاہد!

تیری رفعتوں کو دوام، تیری عظمتوں کو سلام، اور تیری مثبت و ایجابی فکروں کو عروج حاصل ہو۔ اور مخلوقِ خدا کو اس سے تشنہ کامی کو دور کرنے و تاریکی کو مٹانے کی توفیق و سعادت حاصل ہو۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خاں، صفحہ نمبر 149۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.