باہوش مجذوب محمد سجاد نواز ساہیوال، پاکستان۔ زندگی میرے لیے اُس دن کا انتظار ہے جب رب العالمین براہِ راست طور پر انسان پر ظاہر ہوگا، اور میں خوشی اور حیرت کے آنسوؤں کے ساتھ اُس کا استقبال کروں گا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب بظاہر ایک سادہ نظر آنے والے واقعے کا تعلق بھی اللہ اور آخرت سے جوڑ کر دکھا دیا کرتے تھے۔ اپنی تحریروں میں اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ بات اس طرح کی جائے کہ جدید ذہن کو اپیل کرے اور اُس سے سبق بھی حاصل ہو۔
اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو مولانا کی "شہرِ آفاق" کتاب "رازِ حیات" میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا کی کتب نے زندگی کے حوالے سے کئی لوگوں کے سوچنے کا زاویہ تبدیل کیا۔ بعض اہلِ علم نے مولانا کی پیش کردہ تعبیرِ دین سے اختلاف بھی کیا، لیکن جس بات کے کم و بیش سب ہی معترف رہے، وہ اُن کا الحاد کے تناظر میں کیا گیا علمی کام ہے۔ کئی صاحبِ علم کی زبان سے سنا کہ وہ ایک زمانے میں الحاد و تشیع کا شکار ہوئے، اور پھر مولانا وحید الدین خان کو پڑھ کر واپس اسلام کی طرف لوٹے۔
مولانا کی ذاتی زندگی کے حوالے سے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ مولانا وحید الدین خان صاحب اپنی روزمرہ زندگی میں بھی خدا کو ایسے یاد کرتے تھے جیسے اسباب کے پردے اُن کی آنکھوں سے چھٹ گئے ہوں۔ مثلاً چائے ٹھنڈی ہو گئی تو اللہ پاک نے آج ٹھنڈی چائے پلا دی؛ چائے گر گئی تو اللہ پاک نے پہلے والی چائے گرا کر نئی والی پلا دی۔ جہاز لیٹ ہو گیا تو اللہ پاک نے جہاز لیٹ کر دیا؛ کسی نے پکڑ کر جہاز پر سوار کرا دیا تو اللہ پاک نے آگے ایک بندہ بھیجا ہوا تھا جس نے پکڑ کر جہاز پر بٹھا دیا۔ راستہ بھول گئے تو اللہ پاک نے اِن سڑکوں کو دو چار بار چکر لگوا دیا۔
کسی نے رستہ بتا دیا تو اللہ پاک نے رستہ بتانے والا کھڑا کیا ہوا تھا۔ اہلِ نظر بالکل مجذوب کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ جو فنا فی اللہ کی حقیقت سے ایسے گزریں کہ اُنہیں خدا کے سوا کچھ دکھائی نہ دے، یہاں تک کہ ہوش باقی نہ رہے۔ اس میں استثنا البتہ ایک شخص کو حاصل رہا، وہ مولانا وحید الدین خان صاحب ہیں جو باہوش مجذوب تھے۔ کتاب "دائیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 147۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.