ارے، کہاں مرتے ہیں علم والے؟ محمد ابراہیم امین، پاکستان۔ نیک لوگوں کی موت بھی ایک زندگی ہوتی ہے، ان کا مرنا بھی علم کا ایک نیا باب کھول جاتا ہے۔ ان کا مادی وجود تو زمین کے اندر مٹی میں مل جاتا ہے، لیکن ان کی تعلیمات روحوں میں اتر جاتی ہیں۔
ان کا مادی وجود زمین کے اندر چلا جاتا ہے، ان کا کردار باہر کے لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔ وہ مادی وجود کے ساتھ اپنے گھروں میں جیتے تھے، قبر میں جا کے لوگوں کے دل و دماغ میں جینے لگتے ہیں۔ ایسے انسان موت سے پہلے کے دورِ حیات میں اسی طرح جیتے ہیں جیسے وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں ہوں۔ اور پھر وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کے چہرے روشن اور چمکدار ہوں گے۔
ان کے چہروں پر سکون ہوگا، جو ان کے رب کی طرف سے انہیں عطا کیا جائے گا۔ یقیناً یہی کامیاب لوگ ہیں، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ایسے ایک انسان کا بیان ہے: ایک عالمِ دین، مفکر و مدبر، مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتابوں کا مصنف، لاکھوں لوگوں کو زندگی کی ایک نئی امید دینے والا۔ یہ شخص موجودہ دھرتی پر خدا کا ایک ایسا انعام تھا کہ جس کے بارے میں لکھنے کے لیے میرے پاس شاید کہ الفاظ نہیں، یا پھر میں لکھ نہیں پا رہا ہوں۔
میری آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا، میرے دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا، مجھے اس شخص سے محبت کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ایک سچ ہے کہ قیامت تک اس شخص کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ وہ شخص ہے جسے میں نے سب سے زیادہ پڑھا، سمجھا، اور اسی کی سوچ کو اپنی سوچ بنا لیا۔ اگر مولانا کو ماہرِ نفسیات کہا جائے تو یہ بالکل درست بات ہوگی۔
منفی پہلو میں مثبت پہلو کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سکھانے والا، زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی سے پیار کرانے والا، خدا کو رسمی عقیدے کے طور پر ماننے کے بجائے دریافت کی سطح پر لوگوں کے شعور میں ڈالنے والا۔ عظیم انسان اپنے عظیم رب کے پاس پہنچ گیا ہے۔ مولانا کو اللہ نے بڑے مقام و شرف سے نوازا، ان کی تمام جہود و کاوشوں کو تا صبح قیامت یاد رکھا جائے گا۔ مولانا کا جانا امت مسلمہ کے لیے ایک نقصانِ عظیم ہے۔
رب کریم مولانا کی مغفرتِ کلی فرمائے، ان پر اپنی رضوان کی برکھا نازل فرما کر جنت الفردوس میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا پڑوسی بنائے۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.