← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan, Eik Ahdsaz Shakhsiat
Urdu · 7 min
مولانا وحید الدین خان، ایک عہد ساز شخصیت؛ لونگین یوسف زئی، پاکستان۔ مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری 1925 عیسوی کو ہندوستان میں، ریاست اتر پردیش کے ایک علمی خطے اعظم گڑھ میں ہوئی۔ والد فرید الدین خاں اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے زمیندار تھے، جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے قابلِ عزت و احترام تھے، جبکہ والدہ زیب النساء گھریلو امور سنبھالنے والی ایک ذمہ دار خاتون تھیں۔ مولانا کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا، اس لیے ان کی مکمل پرورش والدہ نے اپنی نگرانی میں کی۔
مولانا کی ابتدائی تعلیم عربی درسگاہ میں ہوئی۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے جدید علوم کے حصول پر توجہ دی، اور سب سے پہلے انگریزی زبان سیکھی۔ اس کے بعد مغربی علوم کا مطالعہ شروع کیا، حتیٰ کہ ان علوم پر کافی دسترس حاصل کر لی۔ اسلامی اور مغربی علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد، مولانا صاحب اس نتیجے پر پہنچے کہ آج کل کے دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے، اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔
مولانا کو پانچ زبانوں پر عبور حاصل تھا، ان میں اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی شامل ہیں۔ مولانا صاحب ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی کرتے تھے۔ ٹی وی چینلوں پر آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خاں دراصل بے پناہ صلاحیتوں اور خصوصیات کا نام ہے، جن کی زندگی کے بے شمار باب ہیں، اور ہر باب اپنے آپ میں مستقل اہمیت کا حامل ہے۔
تاہم مولانا کی زندگی کا اصل مشن دعوت کے پیغام کو— تاہم مولانا کی زندگی کا اصل مشن اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا تھا۔ مولانا نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔ عام طور پر دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے تھے۔ امن اور برابری کے اپنے فلسفے اور مستقل پیغام کی وجہ سے اپنے ناقدین میں بھی مقبول رہے۔
مولانا صاحب کا مقصد اسلام اور دیگر مذاہب میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں کی غلط فہمیاں دور کرنا، صبر کی تعلیم کو عام کرنا اور دعوت دین تھا۔ سال 2000 عیسوی میں بھارتی حکومت کی جانب سے مولانا کو ان کی علمی خدمات کے باعث ملک کا تیسرا بڑا شہری اعزاز، پدم بھوشن، دیا گیا۔ جبکہ جنوری 2021 عیسوی میں مولانا صاحب کو ہندوستان کے دوسرے اعلیٰ شہری اعزاز، پدم ویبھوشن، سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی مولانا صاحب کئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈز سے سرفراز ہو چکے تھے۔
مولانا وحید الدین ایک صوفی مزاج طبیعت کے مالک، ایک روایتی شخص کی مانند تھے، لیکن ان کے خیالات جدید تھے، انتہا پسندی اور مقدس صحیفوں کی قدامت پسند ترجمانی کے خلاف تھے۔ اپنے مذہبی اور روحانی خیالات کا مکمل اظہار کرنے کے لیے مولانا صاحب نے 1970 عیسوی میں دہلی میں اسلامک سینٹر قائم کیا۔ اس کے بعد سال 1976 عیسوی میں مولانا صاحب نے ماہانہ رسالہ 'الرسالہ' کی اشاعت کا آغاز کیا۔ 'الرسالہ' مولانا صاحب کے اپنے مضامین پر مشتمل تھا، جو کہ اپنی اشاعت کے بعد اردو زبان کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو گیا۔
مولانا صاحب کے مضامین کا مقصد لوگوں کو اسلام کا پرامن چہرہ سمجھانے، مسلمانوں میں اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہی، مثبت سوچ اور مثبت عمل کو فروغ دینے پر مشتمل تھا۔ مولانا وحید الدین نے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق تقریباً 200 کتابیں لکھی ہیں۔ ان کے نظریاتی اور سیاسی خیالات سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی علمی فضیلت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ مولانا صاحب کی لکھی ہوئی ایک کتاب 'مذہب اور جدید چیلنج: پانچ عرب ممالک—قطر، مصر، لیبیا، سوڈان اور تیونس—' تیونس کی جامعات میں تعلیمی نصاب کا حصہ ہیں۔
دیگر اہم تصانیف میں سے 'نئے عہد کے دروازے پر تعبیر کی غلطی'، 'الاسلام'، 'مذہب اور سائنس'، 'پیغمبر انقلاب'، 'عقلیات اسلام'، 'قرآن کا مطلوب انسان'، 'سوشلزم اور اسلام'، 'اسلام اور عصر حاضر'، 'تذکیر القرآن'، 'حقیقت حج'، 'اللہ اکبر'، 'زلزلہ قیامت'، 'خاتون اسلام'، 'راز حیات'، 'اسلام دور جدید کا خالق'، 'سفرنامہ اسپین و فلسطین'، 'فکر اسلامی'، 'مطالعہ سیرت'، 'مطالعہ قرآن'، 'مسائل اجتہاد'، 'مطالعہ حدیث' اور 'اظہار دین' شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی کئی اسلامی کتابیں ہیں۔ مولانا وحید الدین خاں 96 برس کی عمر میں اس دار فانی سے رحلت کر گئے۔ مولانا صاحب نے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
ان کے انتقال پر مسلم امت یقیناً ایک عظیم مذہبی اسکالر سے محروم ہو گئی ہے۔ کتاب 'داعی اسلام' مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 141۔